بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

میراث کی تقسیم میں تاخیر کرنا / بہنوں کو میراث سے محروم کرنے کا حکم / متروکہ مکان میں تمام ورثاء کو رہائش کا حق حاصل ہے


سوال

میری والدہ کا انتقال ایک سال قبل ہو چکا ہے۔ انہوں نے میراث میں چھ کمروں پر مشتمل ایک منزلہ ذاتی مکان چھوڑا ہے۔ ورثاء میں تین شادی شدہ بھائی اور دو بہنیں (ایک شادی شدہ اور ایک کنواری) شامل ہیں، جو سب اسی گھر میں مقیم ہیں۔ والدہ کے شوہر (میرے والد) اور والدین ان سے پہلے ہی وفات پا چکے تھے۔

اب درج ذیل امور میں شرعی راہ نمائی مطلوب ہے:

(1)وفات کی کتنی مدت بعد میراث تقسیم کرنے کا حکم ہے؟کیا بھائیوں کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ میراث کو تقسیم نہ کریں اور مکان کی قیمت بڑھنے کے انتظار میں دس سال تک اسے فروخت کرنے سے گریز کریں؟

(2)کیا بھائیوں کا اپنے آپ کو مکان کا مالک کہنا، بہنوں (بالخصوص کنواری بہن) کو زبردستی گھر سے نکالنے کے لئے وقت مقرر کرنا، اور اس پر جرگہ لانے کی دھمکی دینا شرعاً جائز ہے؟

(2)کیا شادی شدہ بیٹی کا اپنی مرحومہ والدہ کے گھر میں رہنا شرعاً جائز ہے؟کیا شادی شدہ بیٹی کا والدہ کے گھر میں رہنا باعثِ شرم یا بے غیرتی ہے؟اور کیا بھائیوں کے جوان بیٹوں کا اپنی پھوپھیوں سے بدسلوکی کرنا اور ان کی تذلیل کرنا شرعاً درست ہے؟

جواب

(1) واضح رہے کہ میراث کی تقسیم میں بہتر اور مناسب یہی ہے کہ جتنا جلد ہوسکے میراث تقسیم کردی جائے، بلا عذرِ شرعی میراث کی تقسیم میں تاخیر کرنا بہتر اور مناسب نہیں، کیوں کہ بلا عذر تاخیر کرنا بسا اوقات آئندہ چل کر بہت سے مفاسد کا باعث بن جاتا ہے، البتہ اگر تمام عاقل بالغ ورثاء فی الوقت تقسیم نہ کرنے پر راضی ہوں، تو کوئی مضائقہ نہیں، لیکن اگر کوئی شرعی وارث اپنے شرعی حصہ کا مطالبہ کرے، تو اسے اس کا شرعی حصہ ادا کردینا ضروری ہے، جائیداد کی مالیت کے بڑھنے کو جواز بناکر تاخیر کرنا جائز نہیں۔ مذکورہ تفصیل کی رو سے  صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے بھائیوں پر لازم ہے کہ والدہ مرحومہ کی میراث کو شرعی حصص کے مطابق جلد از جلد تقسیم کریں اور بہنوں کو ان کا حق ادا کریں۔بھائی یا تو گھر بیچ اس کی رقم تمام ورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کریں،اور اگر وہ گھر خود رکھنا چاہتے ہیں تو موجودہ مارکیٹ قیمت کے اعتبار سے بہنوں کو ان کا حق ادا کریں۔محض قیمت بڑھنے کی امید یا انتظار میں تقسیم کو دس سال تک مؤخر کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔

 سائلہ کی والدہ مرحومہ کے کل ترکہ  کی شرعی تقسیم اس طرح ہوگی کہ کل ترکہ میں سے سب سے پہلے مرحومہ کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچہ(اگر اب تک ادا نہ کیا گیا ہو، یا کسی نے بطورِ قرض ادا کیا ہو کو)  نکالنے کے بعد، اگر مرحومہ کےذمہ کوئی قرض ہو تو اسے ترکہ میں سے ادا کرنے کے بعد، اگرمرحومہ نےکوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے بقیہ ترکہ کے ایک تہائی حصہ میں سے نافذ کرنے کے بعد، باقی ماندہ کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو 8حصوں میں  تقسیم کرکے 2، 2 حصے  مرحومہ کے ہر ایک بیٹے کو اور 1، 1حصہ ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت(والدہ مرحومہ):8

بیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹی
22211

یعنی فیصد کے اعتبار سے مرحومہ  کے ہر ایک بیٹے کو 25فیصد اور ہر ایک بیٹی کو 12.5 فیصد ملے گا۔

واقعات المفتین  لعبد القادر بن یوسف الشہیر بقدری  آفندی الحنفی میں ہے:

"مات وترک امرأة بہا حبل، فإن کانت الولادة قریبة ینتظر لتقع القسمة عن علم، وإن لم تکن قریبة فلاینتظر لأن في ذلک تأخیرًا․"

(كتاب القسمة، ص: 226)

تبیین الحقائق للزیلعی میں ہے:

"قال رحمه الله (وقسم بطلب أحدهم لو انتفع كل بنصيبه) لأن فيها تكميل المنفعة إذا كان كل واحد منهم ينتفع بنصيبه بعد القسمة فكانت القسمة حقا لهم فوجب على القاضي إجابتهم."

(كتاب القسمة، ج:5، ص: 269، ط: دار الكتاب الإسلامي)

(2)صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے مرحومہ والدہ کے متروکہ مکان  میں شرعاً تمام ورثاء کا حق ہے،شرعی ضابطہ وراثت کے مطابق تقسیم کر کے شرعاً  ہر وارث کو اس کا مکمل حصہ دینا ضروری ہے، خلافِ شرع تقسیم کرنے یا مرحومہ کی بیٹیوں کو محروم کرنے کا کسی کو اختیار حاصل نہیں ہے۔ لہٰذا سائلہ کے بھائیوں کا اپنے آپ کو مکان کا مالک کہنا، بہنوں (بالخصوص کنواری بہن) کو زبردستی مکان سے نکالنے کے لئے وقت مقرر کرنا، اور اس پر جرگہ لانے کی دھمکی دینا، شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔  کسی وارث کو اس کے حصۂ میراث سے محروم کرنے اور کسی کا حق دبالینے پر قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں بڑی وعیدیں آئی ہیں:

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (13) وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُهِينٌ (14)﴾ [النساء: 13-14]

ترجمہ:”یہ سب احکام مذکورہ خداوندی ضابطے ہیں ۔ اور جو شخص الله اور رسول کی پوری اطاعت کرے گا الله تعالیٰ اس کو ایسی بہشتوں میں داخل کردیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے ۔ (13)اور جو شخص الله اور رسول کا کہنا نہ مانے گا اور بالکل ہی اس کے ضابطوں سے نکل جاوے گا اس کو آگ میں داخل کریں گے اس طور سے کہ وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اور اس کو ایسی سزا ہوگی جس میں ذلت بھی ہے ۔(14)“ (بیان القرآن)

حدیث شریف میں ہے:

(1) "وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا لا تظلموا ألا ‌لا ‌يحل ‌مال ‌امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى."

ترجمہ: ”رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ”خبردار ظلم مت کرنا! جان لو! کسی بھی دوسرے شخص کا مال (لینا یا استعمال کرنا) اس کی مرضی وخوشی کے بغیر حلال نہیں ہے۔“

(مشكاة المصابيح، كتاب البيوع، باب الغصب والعارية، الفصل الثاني، رقم الحديث:2946، ج:2، ص:889، ط:المكتب الإسلامي - بيروت)

(2) "عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين."متفق عليه.

ترجمہ:”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص(کسی کی ) بالشت بھر زمین  بھی  از راہِ ظلم لے گا،قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی  زمین اس کے گلے میں   طوق  کے طور پرڈالی  جائے گی۔“

(مشكاة المصابيح، كتاب البيوع، باب الغصب والعارية، الفصل الأول، رقم الحديث:2938، ج:2، ص:887، ط:المكتب الإسلامي - بيروت)

(3) صورتِ مسئولہ میں والدہ مرحومہ کا متروکہ مکان تمام بہن بھائیوں (یعنی مرحومہ کی اولاد) کی مشترکہ ملکیت ہے، جس طرح بھائیوں کو اس میں رہائش کا حق حاصل ہے، اسی طرح بہنوں کو بھی شرعاً اس میں رہنے کا حق حاصل ہے۔لہٰذا سائلہ کے بھائیوں کا اپنی بہنوں، خصوصاً کنواری بہن کو زبردستی گھر سے نکالنا اور اس پر جرگہ لانے کی دھمکی دینا شرعاً ناجائز ، حرام اور ظلم ہے۔ مزید یہ کہ بھائیوں کی اولاد کا اپنی پھوپھیوں کے ساتھ بدسلوکی کرنا، گستاخی کرنا یا تذلیل کرنا سخت گناہِ کبیرہ ہے، انہیں  اللہ تعالیٰ کے غضب سے ڈرنا چاہیے؛کیونکہ اللہ کی پکڑ نہایت سخت ہے۔لہٰذا سائلہ کے بھتیجوں پر لازم ہے کہ اس حرام عمل پر صدقِ دل سے توبہ و استغفار کریں،اور آئندہ اپنی پھوپھیوں کے ساتھ خوش اخلاقی، عزت اور احترام کے ساتھ پیش آنے کا پختہ عزم کریں، اور اس حرام عمل سے مکمل اجتناب کریں۔

حدیث شریف میں ہے:

"عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «‌المسلم ‌من سلم المسلمون من لسانه ويده، والمهاجر من هجر ما نهى الله عنه»"

ترجمہ:نبی کریم ﷺ نے فرمایا:”سچا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، اور حقیقی مہاجر وہ ہے جو اُن چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔“

(كتاب الإيمان، ‌‌باب: المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده، رقم الحديث:10، ج:1، ص:11، ط:دار طوق النجاة - بيروت)

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"يسوغ لجميع أصحاب الدار المشتركة أن يسكنوا فيها معا. يعني إذا اتفق جميعهم على السكنى معا وكانت الدار مساعدة لسكناهم معا فلهم السكنى ... كما أنه إذا لم يتفقوا على السكنى معا فلهم السكنى معا ولا يحق لهم منع بعضهم منها...وقد بين في المادة (1075) أن الدار المشتركة تعتبر ملكا خاصا لكل شريك على وجه الكمال في السكنى وتوابعها كالدخول والخروج."

(الكتاب العاشر:الشركات، الباب الأول في شركة الملك، الفصل الثاني، رقم المادة:1070، ج:3، ص:23، ط:دار الجيل)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144704101398

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں