بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ترکہ کی تقسیم


سوال

ہماری والدہ کا دسمبر 2020 میں انتقال ہو گیا، ان کے ورثاء  میں شوہر، تین بیٹے اور ایک بیٹی حیات ہیں، ہماری والدہ کو اپنے والد کے ترکہ میں سے 22 لاکھ روپے ملے تھے، اب یہ 22 لاکھ روپے ہم سب میں کیسے تقسیم ہوں گے؟

  نیز یہ بھی بتا دیجئے کہ میرے والد نے میری والدہ کی زندگی میں ان کی خوشی سے دوسری شادی کی تھی تو کیا اب ہماری  والد ہ  کے  اس ترکہ میں ہمارے والد کا حصہ ہے یا نہیں؟

جواب

 دوسری شادی کی وجہ سے شوہر پہلی بیوی کی میراث سے محروم نہیں ہوتا؛  اس لیے آپ کے والد کو اپنی پہلی بیوی کی میراث میں سے پورا حصہ ملے گا۔

میراث کی تقسیم کا طریقہ یہ ہوگا کہ مرحومہ  کے ترکہ سے ان کے حقوق متقدمہ یعنی مرحومہ پراگر کوئی قرضہ ہو، تو اس کو  ادا کرنے کے بعد،  اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو   ایک تہائی ترکہ میں سے نافذ کرنے کے بعد، بقیہ کل ترکہ منقولہ  وغیر منقولہ کو 28 حصوں میں تقسیم کر کے  7  حصے مرحومہ کے شوہر کو،  6  حصے کر کے ہر ایک بیٹے کو اور  3  حصے اکلوتی بیٹی کو ملیں گے ۔

صورت تقسیم یہ ہے:

میت (مرحومہ  والدہ) :4 / 28

شوہربیٹابیٹابیٹابیٹی
13
76663

یعنی 22 لاکھ روپے میں سے 550000 روپے مرحومہ کے شوہر کو، 471428.571 روپے مرحومہ کے ہر ایک بیٹے کو اور 235714.285 روپے  اکلوتی بیٹی کو ملیں گے۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705101484

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں