
ہماری تین بہنوں کا انتقال والدہ محترمہ سے کافی عرصہ پہلے ہو گیا تھا، اب ہم چار بھائی اور دو بہنیں حیات ہیں، ہماری والدہ کے نام ایک عدد مکان تھا، جو کہ ہم نے فروخت کر دیا ہے، اس کی رقم میں فوت شدہ بہنیں وراثت میں شامل ہوں گی یا نہیں؟ ان کا وراثت میں کوئی حصہ شرعی طور پر ہوگا یا نہیں؟ اس بارے میں ہمیں فتویٰ دے دیں۔
نوٹ: والدہ کے والدین اور شوہر ،والده سےپہلے انتقال کر چکے ہیں۔
جب کسی شخص کا انتقال ہو تو اس کی میراث صرف انہی ورثاء میں تقسیم ہوتی ہے، جو اس کے انتقال کے وقت حیات ہوں، جن افراد کا مورث (یعنی جس کی میراث تقسیم ہو رہی ہو) کی زندگی میں ہی انتقال ہو چکا ہو، وہ شرعاً اس کی میراث میں حق دار نہیں ہوتے؛لہٰذا جو بہنیں والدہ کی حیات میں انتقال کر گئی ہیں، ان کا والدہ کی میراث میں کوئی شرعی حق نہیں۔
مسئولہ صورت میں مرحومہ کے حقوقِ متقدمہ، یعنی تجہیزوتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد،اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی قرض ہو اسے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحومہ نےکوئی جائز صیت کی ہو،اسےبقیہ مال کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد، کل مال منقولہ وغیر منقولہ 10 حصوں میں تقسیم کرکے 2حصےمرحومہ کے ہرایک بیٹے کو اور 1 حصہ مرحومہ کی ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
میت(مرحومہ والدہ):10
| بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی |
| 2 | 2 | 2 | 2 | 1 | 1 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے20 فیصدمرحومہ کے ہرایک بیٹے کو اور 10 فیصدمرحومہ کی ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔
البحر الرائق میں ہے:
"وشرطه وهو حياة الوارث بعد موت المورث."
(كتاب الفرائض، ميراث ذوي الأرحام، ج: 8، ص: 577، ط: دار الكتاب الإسلامي)
الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:
"ثانيها: تحقق حياة الوارث بعد موت المورث، أو إلحاقه بالأحياء تقديرا، كحمل انفصل حيا حياة مستقرة لوقت يظهر منه وجوده عند الموت ولو نطفة على تفصيل سيأتي في ميراث الحمل."
(حرف الألف، إرث، شروط الميراث، ج: 3، ص: 22، ط: دار السلاسل)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144701101675
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن