
میری ایک بیٹی ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور اولاد نہیں۔ جب کہ والدہ، ایک بھائی اور چار بہنیں بھی حیات ہیں۔ میرے اور میری بیوی کے درمیان عدالت کے ذریعے علیحدگی ہو چکی ہے۔ میری ملکیت میں کچھ جائیداد ہے۔
میں جاننا چاہتا ہوں کہ میرے انتقال کے بعد میری جائیداد میں میری بیٹی کا کتنا حصّہ ہوگا؟ اور اگر میں اپنی بیٹی کے لیے کچھ وصیت کرنا چاہوں تو وہ وصیت کتنی حد تک نافذ ہوگی؟
صورتِ مسئولہ میں جب تک آپ حیات ہیں، آپ کی جائیداد میں کسی کا کوئی حق و حصّہ نہیں، اور آپ کی زندگی میں میراث سے متعلق یہ سوال قبل از وقت ہے۔
تاہم اصولی جواب یہ ہے کہ آپ کے انتقال کے وقت آپ کے شرعی ورثاء میں والدہ، بہن، بھائیوں کے ساتھ صرف ایک بیٹی یہ بھی شامل ہو، تو اسے آپ کے متروکہ جائیداد کا آدھا حصّہ ملے گا، اور باقی حصّہ حسبِ ضابطۂ شرعیہ دیگر ورثاء میں تقسیم ہوگا۔
باقی چوں کہ بیٹی آپ کے شرعی ورثاء میں شامل ہے، اور شرعاً وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں؛ اس لیے آپ کی جانب سے بیٹی کے لیے وصیت کرنا درست نہیں ہوگا، الاّ یہ کہ آپ کی وفات کے بعد دیگر ورثاء اس وصیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی اجازت دے دیں، تو ایسی صورت میں یہ وصیت نافذ ہوگی۔
سراجی فی المیراث میں ہے:
"وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث: النصف للواحدة، والثلثان للاثنتين فصاعدة."
أحوال بنات الصلب، ص:19، ط:مكتبة البشرى كراتشي)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(ولا لوارثه وقاتله مباشرة.... إلا بإجازة ورثته) لقوله عليه الصلاة والسلام: «لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة» يعني عند وجود وارث آخر كما يفيده آخر الحديث (وهم كبار) عقلاء، فلم تجز إجازة صغير ومجنون وإجازة المريض كابتداء وصية، ولو أجاز البعض ورد البعض جاز على المجيز بقدر حصته."
(کتاب الوصایا، ج:6، ص:655، ط:ایج ایم سعید)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101193
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن