
عام طور پر ادویات اور دیگر استعمال کی اشیاء میں جو الکحل ہوتا ہے، وہ کھجور اور انگور کے علاوہ دیگر اشیاء (مثلاً جو، شہد اور پٹرول وغیرہ) سے کشید کیا جاتا ہے، اور اس میں الکحل کی مقدار بھی اتنی نہیں ہوتی کہ جس سے نشہ ہو؛ اس لیے مذکورہ دوا "مینوکسڈیل (Minoxidil)" اور اس کے علاوہ الکحل ملی ہوئی ادویات کے بارے میں جب تک یقین کے ساتھ یہ ثابت نہ ہو کہ اس میں کھجور یا انگور سے حاصل شدہ الکحل ملی ہوئی ہے، اس وقت تک ان ادویات کا استعمال جائز ہوگا۔ اور ایسی ادویات کے استعمال کے بعد وضو، نماز اور روزہ جائز ہوگا، البتہ احتیاط پر عمل کرتے ہوئے اگر ان ادویات کے استعمال سے بچا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔
تکملہ فتح الملہم میں ہے:
"و أما غير الأشربة الأربعة، فليست نجسة عند الإمام ابي حنيفة رحمه الله تعالي. و بهذا يتبين حكم الكحول المسكرة (Alcohals) التي عمت بها البلوي اليوم، فإنها تستعمل في كثير من الأدوية و العطور و المركبات الأخري، فإنها إن اتخذت من العنب أو التمر فلا سبيل الي حلتها أو طهارتها، و إن اتخذت من غيرهما فالأمر فيها سهل علي مذهب أبي حنيفة رحمه الله تعالي، و لايحرم استعمالها للتداوي أو لأغراض مباحة أخري ما لم تبلغ حد الإسكار، لأنها إنما تستعمل مركبةً مع المواد الأخري، ولايحكم بنجاستها أخذًا بقول أبي حنيفة رحمه الله.
و إن معظم الحكول التي تستعمل اليوم في الأودية و العطور و غيرهما لاتتخذ من العنب أو التمر، إنما تتخذ من الحبوب أو القشور أو البترول و غيره، كما ذكرنا في باب بيوع الخمر من كتاب البيوع."
(كتاب الأشربة ،حكم الكحول المسكرة،ج:3،ص:408،ط: دارالعلوم)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144711100173
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن