بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

میاں بیوی کے آپس کے تعلقات خراب ہونے کی صورت میں اولاد کی ذمہ داریاں


سوال

میرے ابو نے میری امی کو 2010 میں اپنے میکے بھیج دیا تھااور طلاق بھی نہیں دی اور نان و نفقہ بھی نہیں دے رہے،  اگر میں یا میرا چھوٹا بھائی امی سے ملاقات کرنا  چاہیں،  تو ملاقات کرنے بھی نہیں دیتے ابھی میری امی کو شوگر ہوگئی ہے اور میں ان کا علاج کرانا چاہتا ہوں،  تو مجھے ابو کہتے ہیں کہ اگر اپنی ماں کو لاؤ گے تو میرے گھر سے نکل جانا   اور ابو نے دوسری شادی بھی کرلی ہے، میں ابو سے کہتا ہوں کہ یا امی کو اپنے پاس رکھو یا ان کو طلاق دے دو تاکہ کہیں اور اپنا گھر بساسکیں، مگر وہ اپنی  ضد پر اڑے  ہوئے ہیں، میں نے مولوی صاحب سے مشورہ کیا تھا انہوں نے کہا کہ یہ آپ کی امی اور ابو کا معاملہ ہے آپ اس کے بیچ میں نہ آئیں، کیا ابھی میں اپنے امی کے پاس جا سکتا ہوں اور اپنے ابو کو چھوڑ دوں؟ بالکل ان سے لا تعلقی کر لوں؟

جواب

آپ کے والد صاحب کا آپ کی والدہ کو اس طرح اتنے عرصے تک چھوڑ دینا، تعلق ختم کردینا اور طلاق بھی نہ دینا درست نہیں ہے، ان کا یہ عمل ناجائز ہے، انہیں چاہیے کہ یا تو آپس کے جو معاملات ہیں، انہیں حل کر کے اپنی اہلیہ کو گھر بلالیں اور اگر معاملات حل کر کے ساتھ رہ کر نباہ ممکن نہیں ہے، تو انہیں طلاق دے کر آزاد کردیں، لیکن اس طرح بیچ میں لٹکائے رکھنا اور بیوی کی حق تلفی کرنا قطعاً جائز نہیں ہے اور کل قیامت کے دن اللہ کے ہاں سخت پکڑ کا باعث بن سکتاہے، آپ کے والد صاحب کو چاہیے کہ اگر وہ اس رشتے کو نبھانا نہیں چاہتے، تو آپ کی والدہ کو آزاد کر دیں، تاکہ وہ اپنی مرضی سے دوسری جگہ شادی کرکے اپنی زندگی گزار سکیں۔

باقی آپ پر اپنے والدین دونوں کا ادب و احترام ، دونوں کے حقوق کی رعایت رکھنا، حسبِ استطاعت دونوں کی ضروریات کو پورا  کرنا لازم اور ضروری ہے، ان کے آپس کے تعلقات خراب ہونے کی وجہ سے آپ کا ان میں سے کسی ایک کے ساتھ برا سلوک کرنا، یا قطع تعلقی کرنا  جائز نہیں ہے، آپ کو چاہیے کہ ان دونوں کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کریں اور حتی الامکان ان کے درمیان جو دوریاں ہیں، انہیں ختم کرنے کی  کوشش کریں، تاکہ رشتہ  ٹوٹنے سے بچ جائے، باقی آپ کے والد صاحب کا بچوں کو اپنی والدہ سے ملاقات سے روکنا جائز نہیں ہیں، آپ جب چاہیں اپنی والدہ سے ملاقات کے لیے جاسکتے ہیں اور وہ جب چاہیں، آپ لوگوں سے ملاقات کرسکتی ہیں۔

قرآن کریم میں ہے:

"وَلَن تَسْتَطِيعُوا أَن تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ ۖ فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ ۚ وَإِن تُصْلِحُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا. [النساء:129]"

"ترجمہ: اور تم ہرگز برابر نہ رکھ سکوگے عورتوں  کو اگرچہ اس کی حرص کرو، سو بالکل پھر بھی نہ جاؤ کہ ڈال رکھو ایک عورت کو جیسے ادھر میں لٹکتی اور اگر اصلاح کرتے رہو اور پرہیزگاری کرتے رہو، تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔"

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"الولد متى كان عند أحد الأبوين لايمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده، كذا في التتارخانية ناقلاً عن الحاوي".

(باب الحضانة، ج:1، ص:535،، ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144612100560

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں