بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کی تعداد میں میاں بیوی کے اختلاف کا حکم


سوال

2016 میں، میں نے اپنی بیوی کے سامنے دورانِ تنازع ایک بار کاغذ پر لکھا کہ "میں نے طلاق دی" پھر فوراً مٹا دیا اور زبانی طور پر کچھ نہیں کہا، پھر اسی وقت رجوع ہوا،  پھر 2025 میں سب کے سامنے بیوی سے کہا کہ "میں تجھے طلاق دیتا ہوں"، پھر تقریباً دس دن میں ہی رجوع ہوا،  البتہ اب لڑکی کہہ رہی ہے کہ 2016 میں آپ نے کاغذ پر دو دفعہ طلاق لکھی تھی۔

 وضاحت:  میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتاہوں کہ  میں نے کاغذ پر ایک ہی طلاق لکھی ہے ، اور اس پورے عرصے میں نہ انہوں نے یہ کہا کہ آپ نے دو طلاق لکھیں ہیں اور نہ ہی میں نے دورانِ تنازع مزید کسی طلاق کا تذکرہ کیا ہے ، اور نہ ہی اسی تنازع کے دوران  یہ کہا ہے کہ تم چلی جاؤ تم آزاد ہو وغیرہ، البتہ یہ کہا ہے کہ "اپنے گھر چلی جاؤ میرا دماغ خراب نہیں کرو" لیکن کبھی بھی طلاق کی نیت نہیں تھی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً سائل نے 2016 میں اپنی اہلیہ کے ساتھ جھگڑے کے دوران کاغذ پر صرف ایک بار لکھا کہ "میں نے طلاق دی"، تو اس سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی تھی۔ چونکہ اس کے بعد سائل نے رجوع کر لیا تھا، اس لئے نکاح برقرار رہا، البتہ سائل کے پاس دوطلاق کا اختیار باقی تھا۔

بعد ازاں جب سائل نے 2025 میں دوبارہ اپنی اہلیہ سے کہا کہ "میں تجھے طلاق دیتا ہوں"، تو اس سے دوسری طلاق واقع ہوگئی۔اس کے دس دن بعد جب رجوع کیا تو نکاح برقرار رہا اور آئندہ کے لیے صرف ایک طلاق کا اختیار باقی ہے۔

باقی سائل کے یہ الفاظ کہ  "اپنے گھر چلی جاؤ میرا دماغ خراب نہیں کرو"    اگر ان  سے طلاق کی نیت نہ ہو تو طلاق واقع نہیں ہو تی۔

اگر عورت کو شوہر کے اس بیان سے اختلاف ہو، اور وہ 2025 میں دی جانے والی طلاق سے دو طلاقیں دیے جانے کا دعوی کررہی ہے تو اس صورت میں بہتر یہی ہے کہ فریقین کسی مستند دارالافتاء یا مفتی کے پاس حاضر ہوکر اپنا اپنا موقف  پیش کرکے ان سے اپنے اس اختلاف میں  شرعی فیصلہ /تحکیم کروالیں ، اور وہ جو فیصلہ کریں اس کے موافق عمل کریں۔

فتاوى عالمگيری میں ہے:

"ولو كتب الطلاق في وسط الكتاب وكتب قبله وبعده حوائج ‌ثم ‌محا ‌الطلاق وبعث بالكتاب إليها وقع الطلاق كان الذي قبل الطلاق أقل أو أكثر كذا في فتاوى قاضي خان."

(کتاب الطلاق ، الفصل السادس في الطلاق بالكتابة، ج:1، ص:378، ط:رشيدية)

وفيه ايضا:

"وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله ‌أن ‌يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية."

(کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج:1، ص:470، ط:رشیدیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وفي أنت الطلاق) أو طلاق (أو أنت طالق الطلاق أو أنت طالق طلاقا، يقع واحدةرجعية إن لم ينو شيئا أو نوى) يعني بالصدر."

(کتاب الطلاق،‌‌ باب الصريحالطلاق، ج:3، ص:251، ط:سعيد)

وفيه ايضا:

"ويسأل القاضي المدعى عليه عن الدعوى فيقول: إنه ادعى عليك كذا، فماذا تقول بعد صحتها وإلا تصدر صحيحة لا يسأل لعدم وجوب جوابه، فان أقر فبها أو أنكر فبرهن المدعي قضى عليه بلا طلب المدعي، وإلا يبرهن حلفه الحاكم بعد طلبه،إذ لا بد من طلبه اليمين في جميع الدعاوى."

( كتاب الدعوى، ج: 5،ص:548، ط: سعيد) 

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144710101105

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں