بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

میاں بیوی کے حقوق کا جائزہ


سوال

قران وسنت کی روشنی میں شوہر کے بیوی اور بیوی کے شوہر پر کیا کیا حقوق  اور احکامات ہیں،نیز شادی کے بعد بیوی پر اس کے خاندان کے حقوق کیا ہیں ، اور سب سے زیادہ  اہمیت کس حق کو حاصل ہے ؟

جواب

میاں بیوی کی  پرسکون اور خوشگوار زندگی کا راز شریعت کے بتلائے ہوئے حقوق کی پاسداری میں ہے ،زوجین کے شرعی حقوق کے بارے میں مختصر وضاحت درج ذیل ہے!

شوہر کے حقوق :

شوہر کی اطاعت اور فرماں برداری: بیوی کےذمہ  شوہر کا پہلا حق ہے ، بیوی کو چاہیے کہ شوہر کا حکم مانےاوراسے عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے  ، شوہر کو  برا بھلا کہنا،لعن طعن کرنا اور اس کی ناشکری کرنا،بہت بڑا گناہ ہے، ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے عورتوں سے فرمایا : تم میں سے اکثر کو میں جہنم میں دیکھ رہاہوں ، (کیونکہ )تم شوہروں کی ناشکری  کرتی ہو اور کثرت سے لعن طعن کرتی ہو ،ا سی طرح شوہر کی غیر موجو دگی  میں بیوی کو اپنی عزت وناموس کاخیال رکھنا چاہیے ،شوہر کی غیر موجودگی میں خیانت سے  محفوظ رہنابیوی کی بہت  بڑی ذمہ داری ہے ۔

ایک حق شوہر کا یہ بھی ہے اس کے لیے زیب وزینت اور سج دھج کا اہتما م کیا جائے ،اس سے محبت بڑھتی ہے اور آپس کی رنجشیں دور ہوتی ہیں ،شوہر کے عیوب ونقائص کا پرد ہ کسی کے سامنے چاک نہ کیا جائے ،اس سے شوہر کی عزت معاشرے میں داغ دار ہو جاتی ہے ،اور اس کا بیوی پر سے اعتماد اٹھ جاتاہے ،حالانکہ ازدواجی رشتے کی بنیاداور اساس ہی اعتماد ہے ، جب بنیاد ہی کمزور ہو جائے تو اس پرعمر  بھر کی عمارت کیسے کھڑی رہ سکتی ہے۔

بیوی کی ایک ذمہ داری  خانہ داری امور کی نگہداشت ہے ،یہ ایک فطری امر ہے ، رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہماکے درمیان امور تقسیم کرتے  ہوئے باہر کے معاملات حضرت علی کے سپر د کیے اور گھریلو معاملات حضرت فاطمہ کے حوالہ کیے۔

بیوی کے حقوق :

بیوی کانان نفقہ اور اس کی رہائش شوہر کے ذمہ ہے ،شوہر کو چاہیے کہ بیوی کی خاطر مدارت کرے ،اسے دم بدم خوش رکھے ،باتوں باتوں پر ناراض ہو کر اسے وحشت  اور تنفر میں نہ  ڈالنا چاہیے ،اسی طرح گالم گلوچ کرنا ،مارنا  پیٹنا ،گھر اور گھر سے باہر اس کی عزت مجروح کرنا سختی سے منع ہے ،صرف حد درجہ نافرمانی پر تنبیہ کے لیے  ایسی مار مارنا جائز ہے جس کا اثر اور نشان جسم          پر ظاہر نہ ہو ۔

 بیوی کا یہ بھی حق ہے کہ شوہر اس کی آخرت کی فکر کرے ،ہر اس کام سے منع کرے جو آ خرت کی ذلت اور رسوائی کا باعث ہو ،اور ہفتہ میں ایک بار والدین کی زیارت کا شرف اور خدمت کی سعادت سے محروم نہ کرے  ،اور وقتا فوقتا اس کے رشتے داروں سے عرف کے مطابق ملاقات کرواتا رہے ۔

بیوی کا ایک حق شوہر پر یہ بھی ہے کہ اسے بلاوجہ طلاق دینے یازبردستی خلع لینے پر آمادہ  نہ کرے ،ایسا کرنابہت بڑی حق تلفی ہےاور بیوی   کی ذات سے کھیلناہے ،اگر وہ حد درجہ نافرمان ہے توپہلےوعظ ونصیحت ،بستر الگ کرنے اور تنبیہی مار سے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی جائے،پھر بھی نہ ہو تو  اس کا حل قرآن نے یہ بتایاہے کہ دونوں اپنے اپنے گھرانوں سے ایک  ایک فیصل مقر ر کر کے سارا معاملہ ان کے سامنے رکھیں ،اگر اصلاح کی غرض ہوئی تو اللہ دونوں میں  جوڑ پیدافرمالیں گے ۔

آپ نے پوچھا کہ بیوی پر اس کے خاندان  کے کیا کیا حقوق ہیں ،اور سب سے زیادہ اہمیت کس حق کو حاصل ہے؟تواس سلسلےمیں  عرض یہ ہے کہ بیوی کے لیے اپنے والدین اور اعزہ و اقارب کی ملاقات کرنا ،ان کادکھ بانٹنا،غم و  رنج میں والدین سے تعزیت کرنا بیماری میں ان کی عیادت کرنا ،اوران کی خوشیوں میں  شوہر کی اجازت سے  شریک ہونا ،اور وقتا ََ فوقتاََ ان کے  احوال دریافت کرتے رہنا،اور موقع ملے تو شوہر کی اجازت سے والدین کی خدمت کرنا  بیوی کا حق ہے ،اس   کے علاوہ  اگر والدین میں سے کو ئی معذور ہوچکا ہو اور ان کا اپنی اس اکلوتی بیٹی کے سوا دوسرا کوئی سہارانہ ہو تو تب بیوی  پر اپنے والدین کی خدمت  شوہر کی اجازت کے بغیر بھی  لا زم ہے ، اور اسی حق کو  دیگر حقوق میں زیادہ اہمیت  حاصل ہے ۔

نوٹ :یہ چند ایک مسائل ہیں ،باقی کسی خاص مسئلے سے متعلق پو چھنا ہو تو وہ لکھ کر دوبارہ دریافت کر لیں ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"ٱلرِّجَالُ قَوَّٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بَعۡضَهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖ وَبِمَآ أَنفَقُواْ مِنۡ أَمۡوَٰلِهِمۡۚ فَٱلصَّٰلِحَٰتُ قَٰنِتَٰتٌ حَٰفِظَٰتٞ لِّلۡغَيۡبِ بِمَا حَفِظَ ٱللَّهُۚ وَٱلَّٰتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَٱهۡجُرُوهُنَّ فِي ٱلۡمَضَاجِعِ وَٱضۡرِبُوهُنَّۖ فَإِنۡ أَطَعۡنَكُمۡ فَلَا تَبۡغُواْ عَلَيۡهِنَّ سَبِيلًاۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيّٗا كَبِيرٗا، وَإِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَيۡنِهِمَا فَٱبۡعَثُواْ حَكَمٗا مِّنۡ أَهۡلِهِۦ وَحَكَمٗا مِّنۡ أَهۡلِهَآ إِن يُرِيدَآ إِصۡلَٰحٗا يُوَفِّقِ ٱللَّهُ بَيۡنَهُمَآۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرٗا، "          

(سورہ نساء ،آیت : 35/34)

جامع تر مذی میں ہے :

"واستوصوا بالنساء خيرا، فإنما هن عوان عندكم، ليس تملكون منهن شيئا غير ذلك، إلا أن يأتين بفاحشة مبينة، فإن فعلن، فاهجروهن في المضاجع، واضربوهن ضربا غير مبرح، فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا، ألا إن لكم على نسائكم حقا، ولنسائكم عليكم حقا، فأما حقكم على نسائكم، فلا يوطئن فرشكم من تكرهون ولا يأذن في بيوتكم لمن تكرهون، ألا وحقهن عليكم أن تحسنوا إليهن في كسوتهن وطعامهن"

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أكمل المؤمنين إيمانا أحسنهم خلقا، وخياركم خياركم لنسائهم"

(باب ما جاء فی حق المراۃ علی زوجھا،ج:3،ص: 21ط :الرسالة)

فتاوٰی شامی میں ہے:

"أن كانت ممن تخدم نفسها وتقدر على ذلك لا يجب عليه ولا يجوز لها أخذ الأجرة على ذلك لوجوبه عليها ديانة ولو شريفة؛ لأنه عليه الصلاة والسلام قسم الأعمال بين علي وفاطمة، فجعل أعمال الخارج على علي رضي الله عنه والداخل على فاطمة رضي الله عنها مع أنها سيدة نساء العالمين"

کتاب النفقة  ،ج:3،ص: 579:ط الحلبی)

وفيه ايضاََ:

"أنها تخرج للوالدين في كل جمعة بإذنه وبدونه، وللمحارم في كل سنة مرة بإذنه وبدونه"

( کتاب النفقة ،ج:3   ص:602،ط :الحلبي )

المحيط البرهاني میں ہے:

"وللرجل أن يأذن لامرأته بالخروج إلى سبعة مواطن:أحدها: إلى زيارة الأبوين وعيادتهما أو أحدهما وتعزيتهما أو تعزية أحدهما. والثانية: زيارة الأقرباء"

(کتاب النکاح ،ج 3،ص 171،ط:دارالکتب العلمیة)

وفیه ایضاََ:

"امرأة لها أب زمن ليس له من يقوم عليه غير البنت، ويمنعها الزوج عن تعاهده جاز لها أن تعصي زوجها وتطيع أباها مؤمنا كان الأب أو كافرا؛ لأن القيام عليه فرض عليها في هذه الحالة وحق الزوج لا يظهر مع الفرائض."

(ایضاََ،ص:172)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708102243

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں