بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

میاں بیوی میں علیحدگی کے بعد بچیوں کی نگرانی کرنا کس کے ذمے ہے؟


سوال

میری شادی کو 18 سال ہو چکے ہیں۔ میرے شوہر نے مجھے وقفے وقفے سے تین مرتبہ "میں نے تمہیں طلاق دی" کہہ کر طلاق دی۔ ہر بار کے بعد رجوع ہو جاتا رہا، لیکن اسی سال تیسری اور آخری طلاق دے دی گئی، جس کے بعد کوئی رجوع نہیں ہوا۔ اس طرح اب شرعی طور پر ہم میاں بیوی نہیں رہے۔

میری پانچ بیٹیاں ہیں، جن میں سے دو بالغ ہو چکی ہیں۔ طلاق کے بعد ان کے والد کی غیر موجودگی کی وجہ سے ان بچیوں میں نظم و ضبط کی کمی آ گئی ہے۔ وہ مجھ سے بدتمیزی کرتی ہیں، نامناسب سوالات کرتی ہیں، اور انٹرنیٹ کا حد سے زیادہ استعمال اور راتوں کو جاگنے کی عادت نے میرے لیے ذہنی اذیت پیدا کر دی ہے۔ ان کے والد کے ہوتے ہوئے ایسی جرأت نہ تھی۔

دوسری طرف، میں بھی ابھی جوان ہوں اور طلاق یافتہ ہونے کی وجہ سے معاشرے میں مجھے بھی غلط نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ موجودہ حالات میں، میں اپنی اور اپنی بچیوں کی عزت و عصمت اور حفاظت کو لاحق خطرات سے سخت پریشان ہوں۔

میرے پاس تین کمروں کا مکان ہے، اور ان سب پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے، میں سابقہ شوہر کو ایک علیحدہ کمرے میں ٹھہرا کر صرف تحفظ اور نگرانی کی غرض سے اس سے مدد لینا چاہتی ہوں۔

برائے مہربانی اس مسئلے میں شرعی طور پر رہنمائی فرمائیں کہ آیا یہ اقدام جائز ہوگا؟ کیا ایسی صورت میں سابق شوہر کو ایک الگ کمرے میں رہنے دینا شرعاً درست ہے؟

جواب

صورتِ مسئلہ میں، جب میاں بیوی کے درمیان تین طلاق کی وجہ سے علیحدگی ہو گئی تو شرعاً دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہو گئے اور اب ان کا میاں بیوی کی طرح ایک ساتھ رہنا  شرعاً جائز نہیں۔

البتہ اگرمکان   اتنا کشادہ ہو کہ جس  میں  سائلہ اپنے سابقہ شوہر   سے پردہ کے ساتھ اپنی اولاد کے ساتھ اس طرح الگ تھلگ رہ سکتی ہو کہ دونوں کا آمنا سامنا نہ ہو، اور گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو مذکورہ طریقہ سے دونوں الگ الگ   اپنی  اولاد کے ساتھ رہ سکتے ہیں،اور اگر اختلاط کا یا معصیت میں پڑجانے کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں ساتھ رہنا جائز نہیں ہوگا۔

البتہ بچوں کی پرورش (حضانت) کا ابتدائی حق والدہ کو حاصل ہوتا ہے، اور ماں کو یہ حق بیٹے کی سات سال اور بیٹی کی نو سال کی عمر تک حاصل رہتا ہے، اس مدت کے بعد پرورش کا حق والد کو منتقل ہو جاتا ہے،والد کی  یہ حق صرف پرورش تک محدود نہیں بلکہ سرپرستی (ولایت) بھی شامل ہوتی ہے، جس کے تحت والد پر بچوں کی تعلیم، تربیت، اور نکاح سے متعلق تمام اہم فیصلوں کی شرعی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

لہٰذا، صورتِ مسئلہ میں جو بچیاں بالغ ہو چکی ہیں یا نو سال سے زائد عمر کی ہو چکی ہیں، تو شرعاً ان کی حفاظت، نگرانی، تربیت اور تمام اہم امور کی ذمہ داری والد پر عائد ہوتی ہے۔ والد پر لازم ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو اپنے زیرِ نگرانی لے کر ان کی دینی، اخلاقی اور معاشرتی تربیت کے لیے مناسب اقدامات کرے۔ انہیں والدہ  کی نگرانی میں چھوڑدینا، خاص طور پر ایسے حالات میں جب بچیوں کے بگڑنے کے خطرات ہیں ، شرعاً درست نہیں  ۔

اور اگر والد  اس معاملے میں بلا وجہ تاخیر کرے تو اس صورت میں  اولاد کے گناہوں کا بار والد کے سر پر ہوگا  ۔ 

مشكاة المصابيح میں ہے:

"وعن أبي سعيد وابن عباس قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ ولم يزوجه فأصاب إثما فإنما إثمه على أبيه."

( كتاب النكاح، باب الولى فى النكاح واستئذان المرأة، الفصل الثالث، ج:2، ص:939 ، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"(فإنما إثمه على أبيه) أي: جزاء الإثم عليه لتقصيره وهو محمول على الزجر والتهديد للمبالغة والتأكيد، قال الطيبي - رحمه الله -: أي جزاء الإثم عليه حقيقية ودل هنا الحصر على أن لا إثم على الولد مبالغة لأنه لم يتسبب لما يتفادى ولده من أصابه الإثم."

( كتاب النكاح، باب الولى فى النكاح واستئذان المرأة،ج:5، ص:2024 ، ط: دار الفكر، بيروت - لبنان)

لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"زجر وتوبيخ، لا أنه لا إثم على الفاعل، كذا في "التقرير".

( كتاب النكاح، باب الولى فى النكاح واستئذان المرأة، الفصل الثالث، ج:6، ص:41 ، ط: دار النوادر، دمشق - سوريا)

فتاوی شامی میں ہے:

"قال: ولهما أن يسكنا بعد الثلاث في بيت واحد إذا لم يلتقيا التقاء الأزواج، ولم يكن فيه خوف فتنة انتهى.

وسئل شيخ الإسلام عن زوجين افترقا ولكل منهما ستون سنة وبينهما أولاد تتعذر عليهما مفارقتهم فيسكنان في بيتهم ولا يجتمعان في فراش ولا يلتقيان التقاء الأزواج هل لهما ذلك؟ قال: نعم، وأقره المصنف.

(قوله: وسئل شيخ الإسلام) حيث أطلقوه ينصرف إلى بكر المشهور بخواهر زاده، وكأنه أراد بنقل هذا تخصيص ما نقله عن المجتبى بما إذا كانت السكنى معها لحاجة، كوجود أولاد يخشى ضياعهم لو سكنوا معه، أو معها، أو كونهما كبيرين لا يجد هو من يعوله ولا هي من يشتري لها، أو نحو ذلك والظاهر أن التقييد بكون سنهما ستين سنة وبوجود الأولاد مبني على كونه كان كذلك في حادثة السؤال كما أفاده ط. ."

(کتاب الطلاق، باب العدۃ ، فصل فی الحدادج:3، ص:538، ط:سعید)

شرح مختصر الطحاوی میں ہے:

"وإذا كان كذلك لم يكن للأب ولاية في إمساكه وحضانته مع الأم، وكانت الأم أولى به لحق الصغير.

قال أبو جعفر: (ثم الجدة التي من قبل الأم، ثم الجدة من قبل الأب، ثم الأخت من الأب والأم، ثم الأخت من قبل الأم، ثم الخالة، ثم الأخت من الأب، ثم العمة)."

(کتاب الطلاق، باب الحضانۃ، ج:5،ص:322،ط:دار البشائر الإسلامية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"والأم والجدة ‌أحق ‌بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأول والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض وفي نوادر هشام عن محمد - رحمه الله تعالى - إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق وهذا صحيح هكذا في التبيين."

(كتاب الطلاق، ج:1، ص:542، ط:دار الفكر)

النھایہ فی شرح الھدایہ میں ہے:

"(ثم صحة الإذن له من وليه ووليه أبوه، ثم وصي الأب، ثم الجد أب الأب، ثم وصيه، ثم القاضي أو وصي القاضي، فأما الأم، أو وصي الأم فلا يصح منهم الإذن له في التجارة(10)؛ لأنه غير ولي له في التصرفات مطلقا، فهو كالأجنبي إلا فيما يرجع إلى حفظه؛ ولهذا لا يملك بيع عقاره، والإذن في التجارة ليس من الحفظ؛ فلهذا لا يملكه)"

(کتاب الماذون، ترتیب الولی، ج:21،ص:95،ط:مركز الدراسات الإسلامية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101831

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں