بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

میٹا 5 ایپ کے ذریعہ آن لائن سونے کی خرید و فروخت کا حکم


سوال

فاریکس ٹریڈنگ حلال ہے یا حرام؟  میں آپ کی خدمت میں ایک نہایت اہم مسئلہ میں رہنمائی کے لیے یہ درخواست پیش کر رہا ہوں۔ میں نے کچھ عرصہ قبل فاریکس ٹریڈنگ کا کام شروع کیا تھا جس میں مجھے کچھ نفع بھی ہوا اور اس کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر  جاننے کی کوشش کی تو کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ حلال ہے اور کچھ نے کہا کہ یہ حرام ہے۔ اس وجہ سے مجھےالجھن ہوئی اور میں نے احتیاطاً اپنی ٹریڈنگ بند کر دی ہے۔ رہنمائی  فرمائیں کہ آیا فاریکس ٹریڈنگ حلال ہے یا حرام؟

میری ٹریڈنگ کی تفصیل درج ذیل ہے:

میں نے XM کمپنی کے ذریع اپنا اکاؤنٹ کھولا تھا۔اکاونٹ کھولنے کے بعد میں 5 MetaTrader ایپلیکیشن کے ذریعے ٹریڈنگ کرتا تھا۔ میں نے گروپ لنک کے ذریعے اس ٹریدنگ میں شمولیت اختیار کی اور 44,000 پاکستانی روپے کی سرمایہ کاری کی۔اس کے بدلے مجھے 150 امریکی ڈالر ملے، اور 100 ڈالر کا بونس بھی دیا گیا (جسے نکالا نہیں جا سکتا تھا۔ صرف ٹریڈنگ کے لیے استعمال ہو سکتا تھا) میں بین الاقوامی مارکیٹ میں گولڈ  کی ٹریڈنگ کرتا تھا؛ اگر سونے کی قیمت اوپر جاتی تو "Buy" کر ا، اگر نیچے آتی تو "Sell" کر تا۔

گر مجھے منافع ہوتا تو وہ بھی ڈالر میں ہوتا، جسے میں بعد میں واپس پاکستانی روپے میں نکال لیتا۔مارکیٹ ہفتہ میں 5 دن کھلی ہوتی  تھی (ہفتہ، اتوار کو بند ہوتی تھی)۔میری گزارش ہے کہ میرے کچھ شبہات  ہیں جن میں رہنمائی کی اشد ضرورت ہے۔ گزارش ہے کہ اس مسئلے میں رہنمائی فرمائیں:

آج كل Gold Coin آن لائن خرید اور بیچا جاتا ہے۔میں نے سنا ہے کہ جب تک کسی چیز پر انسان کا مکمل قبضہ نہ ہو، اس کی خرید و فروحت شرعاً جائز نہیں ہوتی اور وہ معاملہ حرام کے دائرے میں آجاتا ہے۔دوسری طرف مجھے کسی نے یہ بھی کہا کہ جس کام میں نفع و نقصان دونوں کا احتمال ہو تو وہ کام حلال ہوتا ہے۔  اس معاملے کی مکمل شرعی حیثیت واضح فرمائیں کہ :

کیا آن لائن Gold Coin کی خرید و فروخت جائز ہے ؟

بغير قبضے کے ایسی چیز کی خرید و فروخت کا کیا حکم ہے؟

صرف نفع و نقصان کا احتمال ہونا کسی معاملے کو حلال بناتاہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ:

۱) پاکستانی روپیہ یا امریکی ڈالر یا کسی بھی کرنسی کے عوض سونا خریدنا  کی صورت میں معاملہ کے درست ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ معاملہ کی مجلس میں ہی کرنسی اور سونا کا تبادلہ ہوجائے یعنی سونا خریدنے والے کے ہاتھ میں سونا آجائے اور سونا بیچنے والے کے ہاتھ میں کرنسی آجائے۔ اگر معاملہ کی مجلس میں ایسا نہ ہو تو معاملہ فاسد ہوجاتا ہے۔ 

۲) اسی طرح کسی بھی چیز (چاہے سونا ، چاندی ، کرنسی ہو یا دیگر اموال تجارت ہوں) کے بیچتے وقت اس پر قبضہ کرنا ضروری ہوتا ہے، قبضہ کے بغیر فروخت کرنا شرعا بیع فاسد ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں جب سائل مذکورہ ایپلیکیشن کے ذریعہ جو سونا خریدتا ہے وہ سائل کے قبضہ میں ہی نہیں آتا اور سائل قبضہ کے بغیر ہی آگے فروخت کر کے نفع کماتا ہے تو سائل کے لیے اس طرح تجارت کرنا جائز نہیں ہے بلکہ سائل کا خریدنا بھی شرعا بیع فاسد ہے کیونکہ سائل معاملہ کی مجلس میں قبضہ ہی نہیں لیتا  اور آگے فروخت کرنا بھی بیع فاسد ہے کیونکہ قبضہ کے بغیر ہی آگے فروخت کردیتا ہے۔حاصل ہونے والا نفع سائل کے لیے حلال نہیں ہے۔ اب تک جو نفع کمایا اس کا حکم یہ ہے کہ بغیر ثواب کی نیت سے مستحق زکوۃ شخص کو صدقہ کردے۔

نیز یہ بھی واضح رہے کہ اگر  مذکورہ ایپلیکیشن کے ذریعہ تجارت کرنے سے مقصد صرف مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے کمانا ہے، سونے کا تبادلہ اصل مقصود ہی نہیں ہوتا اور حقیقی سونے کا قبضہ ملتا ہی نہیں ہے جس کو جدید اصطلاح میں  CFD(contract for difference) کہتے ہیں  تو پھر یہ معاملہ  شرعا بیع باطل ہوگا اور حاصل ہونے والا نفع صریح سود ہوگا کیونکہ اس صورت میں ڈالر کے بدلہ  ڈالر مع اضافہ حاصل کیے جارہے ہیں۔  

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"أما تعريفه فهو بيع ما هو من جنس الأثمان بعضها ببعض كذا في فتح القدير ... وأما شرائطه) فمنها قبض البدلين قبل الافتراق كذا في البدائع سواء كانا يتعينان كالمصوغ أو لا يتعينان كالمضروب أو يتعين أحدهما ولا يتعين الآخر كذا في الهداية وفي فوائد القدوري المراد بالقبض ههنا القبض بالبراجم لا بالتخلية يريد باليد كذا في فتح القدير......«الدراهم والدنانير لا تتعينان في عقود المعاوضات عندنا ولا يجوز بيع الذهب بالذهب ولا الفضة بالفضة إلا مثلا بمثل تبرا كان أو مصنوعا أو مضروبا ولو بيع شيء من ذلك بجنسه ولم يعرفا وزنهما أو عرفا وزن أحدهما دون الآخر أو عرف أحد المتصارفين دون الآخر ثم تفرقا ثم وزنا وكانا سواء فالبيع فاسد."

(کتاب الصرف، ج نمبر۳، ص نمبر ۲۱۷، دار الفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"صح بيع عقار لا يخشى هلاكه قبل قبضه) من بائعه لعدم الغرر لندرة هلاك العقار، حتى لو كان علوا أو على شط نهر ونحوه كان كمنقول ف (لا) يصح اتفاقا ككتابة وإجارة و (بيع منقول) قبل قبضه ولو من بائعه كما سيجيء»

(قوله: وبيع منقول) مجرور بالعطف على كتابة وهو في عبارة المصنف مرفوع والأولى في التعبير أن يقول: حتى لو كان علوا أو على شط نهر أو نحوه أو آجره كان كمنقول، ولا يصح بيع منقول إلخ."

(کتاب البیوع، ج:۵،ص:۱۴۷، ایچ ایم سعید)

شرح مجلۃ الاحکام لعلی حیدر میں ہے:

"العبرة في العقود للمقاصد والمعاني لا للألفاظ والمباني ولذا يجري حكم الرهن في البيع بالوفاء..... يفهم من هذه المادة أنه عند حصول العقد لا ينظر للألفاظ التي يستعملها العاقدان حين العقد بل إنما ينظر إلى مقاصدهم الحقيقية من الكلام الذي يلفظ به حين العقد؛ لأن المقصود الحقيقي هو المعنى وليس اللفظ ولا الصيغة المستعملة وما الألفاظ إلا قوالب للمعاني..... مثال ذلك: بيع الوفاء، فاستعمال كلمة البيع فيه التي تتضمن تمليك المبيع للمشتري أثناء العقد لا يفيد التمليك؛ لأنه لم يكن مقصودا من الفريقين بل المقصود به إنما هو تأمين دين المشتري المترتب في ذمة البائع، وإبقاء المبيع تحت يد المشتري لحين وفاء الدين، ولذلك لم يخرج العقد عن كونه عقد رهن فيجري به حكم الرهن ولا يجري حكم البيع.."

(المقالۃ الثانیۃ،المادۃ ۳، ج نمبر ۱،ص نمبر ۲۱، دار الجیل)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101126

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں