بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 صفر 1448ھ 21 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

میسج میں بیوی کو”اگر تم کل گھر نہیں آئی تو میری طرف سے تم فارغ ہو،میری طرف سے تمہیں فیصلہ ہے“ لکھنے کا حکم


سوال

آج سے کچھ روز قبل  میرا اپنی بیوی سے جھگڑا ہوگیا تھا، میں نے غصہ میں بیوی کو میسج ٹائپ پر یہ الفاظ لکھے تھے: ”اگر تم کل گھر نہیں آئی تو میری طرف سے تم فارغ ہو،میری طرف سے تمہیں فیصلہ ہے“،میری بیوی گھر نہیں آئی،البتہ مذکورہ وقت پورا ہونے سے پہلے میں نے اپنے الفاظ واپس لےلیے تھے(اللہ تعالی سے توبہ کی تھی)؛میری بیوی سے میرا  ڈیڑھ ماہ کا ایک بچہ ہے۔

کیا ہماری طلاق ہوگئی ہے؟اگر ہوگئی ہے تو  کیا  رجوع کرکے دوبارہ ساتھ رہنے کی کوئی گنجائش ہے؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے،دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے، تاہم اگر دونوں باہمی رضامندی سے ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں، تو نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں تجدیدِ نکاح کرنا ضروری ہوگا؛البتہ آئندہ سائل کے پاس دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے

"(لا) يلحق البائن (البائن) (قوله لا يلحق البائن البائن) المراد بالبائن الذي لا يلحق هو ما كان بلفظ الكناية لأنه هو الذي ليس ظاهرا في إنشاء الطلاق كذا في الفتح، وقيد بقوله الذي لا يلحق إشارة إلى أن البائن الموقع أولا أعم من كونه بلفظ الكناية أو بلفظ الصريح المفيد للبينونة كالطلاق على مال."

(کتاب الطلاق، باب الکنایات، ج:3،ص:308،ط: سعید)

در ِ مختار میں ہے:

"(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب."

(‌‌كتاب الطلاق،‌‌باب الرجعة،ج: 3،ص: 409،ط: سعيد)

بدائع الصنائع میں ہے:

"فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد."

(‌‌كتاب الطلاق،‌‌الرجعة،ج: 3،ص: 187،ط: دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144801101598

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں