
ہم ایک مدرسے میں سبق پڑھتے ہیں اور نماز بھی وہیں ادا کرتے ہیں۔ ہمارے ساتھ کچھ بچے ہیں جو کبھی کبھار اس جگہ کو ناپاک کر دیتے ہیں، اس وجہ سے ہمیں شک ہوتا ہے کہ جگہ پاک ہے یا نہیں۔ اسی دوران ہمارے قریب ایک مسجد ہے جہاں بہت سی جائے نمازیں پڑی ہوئی ہیں جو استعمال میں نہیں ہیں۔ مسجد میں خوبصورت قالین بچھے ہوئے ہیں اور یہ جائے نمازیں تقریباً ایک دو سال سے صرف رکھی ہوئی ہیں، استعمال نہیں ہوتیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان جائے نمازوں کو اپنے مدرسے میں لا سکتے ہیں تاکہ ان پر نماز پڑھیں، اور کیا جن لوگوں نے یہ مسجد میں رکھی تھیں انہیں بھی ثواب ملے گا؟
مسجد کی تمام اشیاء وقف ہوتی ہیں، اور ان کا مسجد کے علاوہ کسی اور جگہ (جیسے مدرسہ وغیرہ) استعمال کرنا جائز نہیں ہوتا ۔ البتہ اگر مدرسہ میں جائے نماز کی ضرورت ہو اور مسجد میں ان جائے نمازوں کی ضرورت باقی نہ رہی اور آئندہ بھی ضرورت نہیں پڑے گی، تو ارباب مدرسہ قیمت ادا کر کے ان جائے نمازوں کو خرید لیں،اس کے بعد مذکورہ جائے نمازیں مدرسہ میں استعمال میں لائی جائیں، اور رقم مسجد فنڈ میں جمع کر دیں۔
الجوهرة النيرة علی مختصر القدوری میں ہے:
"وإن استغني عن حصر المسجد وخشبه وحنفيته نقل إلى مسجد آخر عند أبي يوسف، وقال بعضهم يباع ويصرف في مصالح المسجد ولا يجوز صرف نقضه إلى عمارة بئر؛ لأنها ليست من جنس المسجد."
(کتاب الغصب، ج:1، ص:338، ط:المطبعة الخيرية)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
"سوال:مسجد کی چیز پتھر وغیرہ مدرسہ میں لگا سکتے ہیں یا نہیں؟ مفت ہوں یا قیمتاً ، کیا صورت ہے؟
الجواب:اگر پتھر وغیرہ کوئی چیز مسجد کے لئے خریدی گئی ، پھر اس کی ضرورت نہیں رہی تو مدرسہ یا کسی دوسری مسجد میں قیمتاً اس کو لگانا درست ہے۔"
(کتاب الوقف، باب احکام المساجد، الفصل التاسع، ج:14، ص:578، ط: ادارۃ الفاروق)
وفیہ ایضاً:
"سوال:مسجد یا مدرسہ کے لیے کوئی چیز خرید لی گئی،وہ ان میں استعمال بھی ہوتی ہے،امام ،مؤذن اور مدرسہ کے بچے غیر اوقاتِ نماز میں مدرسہ میں استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں ،جیسے مسجد یا مدرسہ کا پائیدان وغیرہ؟
جواب حامداً ومصلیاً:
مدرسہ کے پیسے سے جو چیز خریدی گئی وہ مدرسہ ہی کی ضرورت میں استعمال کی جائے،اسی طرح مسجد کے پیسہ سے خریدی ہوئی چیز مسجد ہی کی ضرورت میں استعمال کی جائے۔اگر ایسی چیز جس مقصد کے لیے خریدی گئی تھی اب وہ مقصد ختم ہوگیا، مثلاً مدرسہ کی ضرورت نہیں رہی اور مسجد کے لیے یا امام صاحب کے لیے ضرورت ہے تو مدرسہ سے خرید کر استعمال کریں۔فقط واللہ تعالی اعلم۔"
(کتاب الوقف، باب احکام المساجد، ج:14، ص:588/589، ط:ادارۃ الفاروق)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100865
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن