بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

میری طرف سے طلاق یہ الفاظ کہنے کا حکم


سوال

زوجین کی باہم لڑائی ہوئی،اور دوران لڑائی خاوند نے یہ الفاظ کہے کہ میری طرف سے طلاق ۔

یہ ایک مرتبہ کہا،اور لڑائی کے بعد اسی رات کو رجوع کرلیا ،کیا یہ طلاق ہوئی یا نہیں؟ کیا رجوع کے بعد وہ دوبارہ ساتھ رہ سکتے ہیں یا نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں زوجین کی لڑائی کے درمیان اگر واقعۃً شوہر نے یہ الفاظ کہے: "میری طرف سے طلاق" تو اس سے بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی تھی، اور شوہر کو اپنی بیوی کی عدت (پوری تین ماہ واریاں، اگر حمل نہیں تھا اگر حمل تھا تو بچے کی پیدائش تک) شوہر کو رجوع کا حق حاصل تھا، اور جب شوہر نے اسی رات کو رجوع بھی کرلیا تھا، اور رجوع سے مراد جسمانی تعلق/ بوس و کنار ہو، یا زبانی طور پر رجوع کرلیا تھا، تو ان تمام صورتوں سے رجوع ہوگیا، نکاح قائم رہا، الغرض یہ رجوع درست تھا، لہٰذا اب شوہر کے پاس دو طلاق کا اختیار باقی ہے۔

فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:

"وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية."

(کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج:1، ص:470، ط:دار الفکر بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702100556

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں