بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

میرے والد کی ملکیت میں صرف ایک پلاٹ تھا، وہ مجھے ہبہ کر دیا، باقی ورثاء کو کچھ نہیں ملا، اس کا کیا حکم ہے؟


سوال

میرے والد صاحب نے ایک پلاٹ مجھے گفٹ کیا تھا، اس کے کاغذات بھی میرے نام کیے تھے، پھر میں نے اس پر تعمیرات، بجلی کے بل، دیگر تمام چیزیں وغیرہ اپنی محنت اور کوشش سے کیں، والد کے پاس ان کی ملکیت میں صرف یہی ایک پلاٹ تھا، جو مجھے گفٹ کیا، اس لیے باقی بہن بھائیوں کو کوئی حصہ نہیں ملا، اس وقت اس پلاٹ پر دو فلور تعمیر ہوئے ہیں، ہم دو بھائی اور دو بہنیں ہیں، ہم دو بھائی اسی مکان میں رہتے ہیں، تعمیر کے ساتھ مکان کی قیمت تقریباً ایک کروڑ لگی ہوئی ہے، اور اس پلاٹ کی قیمت (تعمیرات کے علاوہ) 45 لاکھ روپے ہے، ابھی تک کوئی بھی وارث حصے کا مطالبہ نہیں کر رہا ہے، ابھی تک جتنی تعمیرات ہوئی ہیں وہ میں (سائل) نے خود اپنے پیسوں سے کی ہیں، اور تعمیرات کرتے وقت اسے اپنی ملکیت سمجھ کر تعمیر کیا ہے۔

اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں اپنے چھوٹے بھائی کو کوئی مکان دلوا سکتا ہوں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب سائل کے والد نے مذکورہ پلاٹ سائل کو باقاعدہ ہبہ (گفٹ) کیا، اس پر سائل کو مکمل مالکانہ تصرف و اختیار بھی دے دیا، اور سائل نے اس پلاٹ پر تعمیرات کیں اور تمام اخراجات، بجلی کے بل وغیرہ بھی خود ادا کیے، تو شرعاً یہ ہبہ مکمل و نافذ شمار ہوگا، لہٰذا مذکورہ پلاٹ سائل کی ذاتی ملکیت ہے، والد کے انتقال کے بعد یہ پلاٹ والد کے ترکہ میں شامل نہیں ہوگا، اس میں کسی دوسرے وارث کا کوئی حق نہیں، سائل کو اختیار ہے کہ وہ اپنی اس ذاتی ملکیت سے جس کو جو دینا چاہے، دے سکتا ہے، یہ اس کی طرف سے ہبہ (گفٹ) ہوگا۔

البتہ شرعاً والد مرحوم کے لیے یہ درست نہیں تھا کہ وہ اپنی زندگی میں صرف ایک بیٹے کو ہبہ کر دیں اور باقی اولاد کو محروم رکھیں ۔

اب اس کی تلافی   کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ سائل اگر چاہے تو دیگر ورثاء میں سے ہر ایک کو اپنی طرف سے کچھ دے دے، تاکہ وہ راضی ہو جائیں، یہ عمل سائل کی جانب سے والد مرحوم کے ساتھ حسن سلوک اور احسان شمار ہوگا، البتہ شرعاً سائل پر لازم نہیں کہ وہ کچھ دے، اور نہ ہی دیگر ورثاء سائل کو اس پر مجبور کر سکتے ہیں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا، هكذا في المحيط. والقبض الذي يتعلق به تمام الهبة وثبوت حكمها القبض بإذن المالك."

(کتاب الهبة، الباب الثاني،  ج:4، ص:377، ط: رشيدية)

وفیہ ایضاً:

"ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية."

(کتاب الھبة، ج:4، ص:391، ط:رشیدیة)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100658

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں