بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ماں، دو بیٹے اور چار بیٹیوں میں تقسیمِ میراث


سوال

میرے والد صاحب انتقال کر گئے، ورثاء میں میرے والد کی والدہ ( میری دادی ) دو بیٹے، چار بیٹیاں ہیں، میراث کی تقسیم کیسے ہو گی؟ میری والدہ ( مرحوم کی بیوہ ) اور دادا ( مرحوم کے والد ) کا والد صاحب سے پہلے انتقال ہو چکا ہے،ابھی ہمارے چچا ہیں، انہوں نے والد صاحب کے جائیداد پر قبضہ کیا ہوا ہے، ان کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کا میراث میں حصہ نہیں ہوتا۔ آپ سے شرعی راہ نمائی مطلوب ہے!

جواب

        واضح رہے کہ کسی بھی شخص کے انتقال کے بعد ان کی میراث میں ان کی تمام اولاد ( بیٹی ، بیٹے ) اپنے اپنے شرعی حصے کے بقدر شریک ہوتی ہے،کسی بھی شخص کے لیے کسی  وارث کو میراث  سے محروم کرنا جائز نہیں ،میراث سے محروم کرنا ”اکل بالباطل“ کے زمرے میں آتا ہے، اور قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ  [البقرة: 188]

ترجمہ:”اور آپس میں ایک دوسرے کے مال نا حق مت کھاؤ۔“ (بیان القرآن) 

اسی طرح بہت سی آیات و احادیث میں دوسرے کا حق مارنے پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،مثلاً،حضرت سعید  بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص(کسی کی) بالشت بھر زمین  بھی  از راہِ ظلم لے گا، قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی  زمین اس کے گلے میں   طوق  کے طور پرڈالی  جائے گی۔ اسی طرح حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کی  میراث کاٹے گا، (یعنی اس کا حصہ نہیں دے گا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گا۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»".

(مشكاة المصابيح،باب الغصب والعاریة 254/1 ط: قدیمی)

"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة»، رواه ابن ماجه".

(مشكاة المصابيح،باب الوصایا، الفصل الثالث 1 / 266  ط: قدیمی)

لہذا ہر وارث کو ( چاہے وہ بیٹی ہو یا بیٹا ) اس کا شرعی حق دینا ضروری ہے، اور کسی بھی شخص کے لیے کسی وارث کی حق تلفی کرنا ناجائز و حرام ہے۔

باقی مرحوم کی میراث کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم  کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات ( اگر کسی نے بطورِ قرض کیے ہوں تو وہ ) ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم  پر کوئی قرض ہو تو بقیہ کل مال سے اسے  ادا کرنے کے بعد، اگرمرحوم  نے  کوئی جائز وصیت کی ہو تو  باقی ترکہ کے ایک تہائی میں اسے نافذ کرنے کے بعد، باقی کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ  کو 48 حصوں میں تقسیم کرکے آٹھ حصے مرحوم کی والدہ کو، دس حصے کر کے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو  اور پانچ  حصےکر کے  مرحوم کی ہر ایک  بیٹی کو ملیں گے ۔

صورتِ تقسیم یہ ہوگی:

میت : 6 / 48 

والدہبیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
15
810105555

یعنی فیصد کے حساب سے 100 روپے میں سے 16.66 روپے مرحوم کی والدہ کو، 20.83 روپے ہر ایک بیٹے کو اور 10.41 روپے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100339

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں