بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

میرا گھر میرا آشیانہ اسکیم کے تحت قرضہ لینا،اور شرکت متناقصہ کا حکم


سوال

"میرا گھر میراآشیانہ"اسکیم کے تحت قرضہ لینا شرعی طور پر کیساہے؟اس اسکیم کےتحت تمام اسلامی بینک حکومتی سطح پر قرضہ فراہم کررہے ہیں،اس کی شرط یہ ہے کہ دس سال کےلیےادائیگی پرFixedچارجز8فیصد کےلگائے گئے ہیں،جبکہ دس سال سے زائد عرصے کےلیے چارجز مارکیٹ ریٹ پر لگیں گے۔

میں اس ضمن میں اس بات کو Clear کرنا چاہتاہوں کہ دس سال کےلیے لیا جانے والا قرضہ سود کی مد میں آئے گا یا Fixedچارجز کی بناء پرسودی لین دین نہیں کہلائے گا؟آخر میں یہ بات بھی وضاحت طلب ہے کہ میزان بینک کی اپنی ویپ سائٹ پر اس اسکیم کو مشارکہ کہا گیا ہےاس پر بھی اپنی رائے کا اظہار کریں۔

جواب

قرضہ لینا  اس شرط کے ساتھ کہ اس قرضہ کی واپسی مقررہ فیصد چارجز کے ساتھ ہوگی ،ایسا قرضہ سودی قرضہ ہے،اور سود کا لینا دینا ناجائز اور حرام ہے،لہذا مذکورہ اسکیم کے تحت مقررہ فیصد کی شرط کے ساتھ  قرضہ لینا سود ہے اس کا لینا  جائز نہیں ہے ،پھر چاہے وہ دس سال تک 8فیصد چارجز پر لیا جائے ،یا دس سال کے بعد مارکیٹ کی قیمت کے ریٹ کی بنیاد پر چارجز کے ساتھ لیا جائے،

ہماری معلومات کے مطابق   حکومت کی طرف سے "میرا گھر میرا آشیانہ"یا"‘‘ یا ’’وزیر اعظم ہاؤسنگ اسکیم‘‘ کے نام سے ذاتی گھر مہیا  کرنے کے لیے جو اسکیم متعارف کروائی گئی ہے، اس کے لیے مختلف بینکوں اور اداروں کی طرف سے قرض فراہم کرنے کی دو صورتیں رائج ہیں:

بعض بینک اور ادارے تو صریح سودی قرضہ فراہم کرتے ہیں، اس کا حکم تو  واضح ہے کہ ان سے سودی قرضہ لین کا لین دین کرنا ناجائز اور حرام ہے، جب کہ بعض بینک اور ادارے اس اسکیم کے ذریعے گھر خریدنے کرنے کے لیے اگرچہ سودی قرضہ کے نام سے تو قرضہ فراہم نہیں کرتے ہیں، بلکہ ذاتی گھر خریدنے کے خواہش مند افراد کے  ساتھ شرکتِ  متناقصہ (diminishing musharka) کا معاملہ کرتے ہیں ، لیکن اس معاملے میں بہت  سے شرعی اصولوں کی خلاف ورزی لازم آتی ہے، مثلاً ایک ہی معاملے میں  كئي عقود  (بیع، شرکت اور اجارہ)  کو جمع کرنا اور عملاً ایک عقد کو دوسرے عقد کے لیے شرط قرار دینا وغیرہ، یعنی کسی بھی بینک یا ادارے کے ساتھ شرکتِ متناقصہ (diminishing musharka) کا معاملہ کرنے کی صورت میں حقیقتًا یا حکمًا دو عقد بیک وقت ہوتے ہیں ،ایک عقد بیع کا ہوتا ہےجس کی بنا پر قسط وار خریدار اس مکان کے حصے خریدتا رہتا ہے اور اس کی قیمت ادا کرتا رہتا ہے۔، اور  اسی کے  ساتھ  ہی  (اجارہ) کرائے کا معاہدہ بھی ہوتا ہے، جس کی بنا پر ہر ماہ کرائے کی مد میں بینک خریدار سے کرایہ بھی وصول کرتا ہے، اور یہ دونوں عقد  حقیقتاً یا حکمًا ایک ساتھ ہی کیے جاتے ہیں، جب کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک عقد کی تکمیل سے پہلے اس عقد میں دوسرا عقد  داخل کرنے سے منع فرمایا ہے، اسی طرح ایک عقد کے لیے دوسرے عقد کو شرط قرار دینا بھی شرعًا ممنوع ہے ، اس  لیے  یہ طریقہ بھی  شرعی اصولوں پر  پورا  نہ  اترنے  کی وجہ  سے ناجائز   اور سودی قرضہ کا ایک ناجائز متبادل ہے۔

تفصیلی معلومات کے لیے  ہماری کتاب ’’مروجہ اسلامی بینکاری‘‘ کا مطالعہ مفید رہے گا۔

  خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح بینک سے سودی قرضہ لینا جائز نہیں ہے،اسی طرح کسی بھی بینک یا ادارے کے ساتھ شرکتِ متناقصہ کا معاملہ کرنا بھی جائز نہیں ہے۔

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"قال الله تعالى: {يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم} . قال أبو بكر: ‌قد ‌انتظم ‌هذا ‌العموم ‌النهي ‌عن ‌أكل مال الغير  بالباطل وأكل مال نفسه بالباطل...وأكل مال نفسه بالباطل إنفاقه في معاصي الله; وأكل مال الغير بالباطل قد قيل فيه وجهان: أحدهما: ما قال السدي وهو أن يأكل بالربا والقمار والبخس والظلم، وقال ابن عباس والحسن: أن يأكله بغير عوض...ونظير ما اقتضته الآية من النهي عن أكل مال الغير قوله تعالى: {ولا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل وتدلوا بها إلى الحكام} [البقرة: 188] ، وقول النبي صلى الله عليه وسلم: "لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيبة من نفسه". وعلى أن النهي عن أكل مال الغير معقود بصفة، وهو أن يأكله بالباطل; وقد تضمن ذلك أكل أبدال العقود الفاسدة كأثمان البياعات الفاسدة."

(‌‌باب التجارات وخيار البيع،ج:2،ص: 216،ط:دار الكتب العلمية بيروت - لبنان)

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه» ، وقال: «هم سواء»." 

(  باب الربوا، ص: 243،  ط:قدیمی)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله کل قرض جر نفعا حرام) ای اذا کان مشروطا کما علم مما نقله عن البحر."

(کتاب البیوع ، باب المرابحۃ والتولیۃ، فصل فی القرض،ج:5، ص:166، ط:سعید)

سنن ترمذی میں ہے:

عن أبي هريرة، قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة.وفي الباب عن عبد الله بن عمرو، وابن عمر، وابن مسعود.حديث أبي هريرة حديث حسن صحيح.

والعمل على هذا عند أهل العلم. وقد فسر بعض أهل العلم، قالوا: بيعتين في بيعة، أن يقول: أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة، وبنسيئة بعشرين، ولا يفارقه على أحد البيعين، فإذا فارقه على أحدهما، فلا بأس إذا كانت العقدة على واحد منهما...وهذا تفارق عن بيع بغير ثمن معلوم، ولا يدري كل واحد منهما على ما وقعت عليه صفقته."

(‌‌أبواب البيوع،باب ما جاء في النهي ‌عن ‌بيعتين ‌في ‌بيعة،ج:3،ص: 85،ط:دار الرسالة العالمية)

اعلاء السنن میں ہے:

"قال ابن المنذر: أجمعوا على أن المسلف إذا شرط على المستسلف زیادة أو هدیة  فأسلف على ذلك إن أخذ الزیادة علی ذلك ربا". 

( کتاب الحوالة، باب کل قرض جرّ منفعة، ج:14،ص:513،ط: إدارۃ القرآن)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"وإذا عقدالعقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال: إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع، وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية، وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد ... الخ"

(کتاب البیوع، باب البیوع الفاسدة، ج:۱۳، ص:۸، ط:دارالمعرفة) 

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100998

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں