
حکومت نے گھر بنانے کی غرض سے قرضہ کی ایک اسکیم بعنوان " میرا گھر میرا آشیانہ " متعارف کروائی ہے، جس میں پانچ سے 35 لاکھ روپے تک کا قرضہ گورنمنٹ بیس سال کے لیے دے رہی ہے، اس اسکیم میں مثلا حکومت سے 35 لاکھ روپے لیں تو ماہانہ 30 ہزار کی رقم آئندہ بیس سال تک ادا کرنی ہوگی، جو کہ کل 70 لاکھ روپے بنتی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا یہ لینا جائز ہے یا نہیں؟
شریعت مطہرہ نے قرض کے لین دین میں قرض خواہ اور قرض دار کو قرض لی گئی رقم کی مقدار رقم واپس کرنے کا پابند کیا ہے، اور قرض کی واپسی کے وقت اضافی رقم دینے کی شرط لگانے کو سود ہونے کی وجہ سے حرام قرار دیا ہے، لہذا صورت مسئولہ میں "میرا گھر میرا آشیانہ" اسکیم کے تحت قرض وصول کرنا حرام ہوگا۔
اعلاء السنن میں ہے:
"عن علي أمير المؤمنين رضي الله عنه مرفوعا: كل قرض جر منفعة فهو ربا ... وقال الموفق: وكل قرض شرط فيه الزيادة فهو حرام بلا خلاف."
(كتاب الحوالة، باب كل قرض جر منفعة فهو ربا، ج: 14، ص: 512، ط: إدارة القرآن)
شرح سنن النسائی للإثیوبي میں ہے:
"قَالَ ابن المنذر: أجمعوا عَلَى أن المسلف إذا شرط عَلَى المستسلف زيادةً، أو هديّةً، فأسلف عَلَى ذلك، أن أخذه الزيادة عَلَى ذلك ربا. وَقَدْ رُوي عن ابن مسعود، وأُبيّ بن كعب، وابن عبّاس رضي الله عنهم "أنهم نهوا عن قرض جرّ منفعة"
(کتاب البیوع، بيع ما ليس عند البائع، ج: 35، ص: 68، ط: دار المعراج)
رد المحتار میں ہے:
"[مطلب كل قرض جر نفعا حرام]
(قوله: كل قرض جر نفعا حرام) أَي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن الْبحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإِن لم يكن النفع مشروطا في الْقرض، فعلي قول الْكرخي لا بأْس به ويأْتي تمامه."
(كتاب البيوع، باب المرابحة و التولية، فصل في القرض، ج: 5، ص: 166، ط: سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144705101760
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن