بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

میقات سے بغیر احرام کے حرم میں داخل ہونے کا حکم/احرام کی حالت میں بنیان پہننے کا حکم /میقات سے گزرنے کے بعد تلبیہ پڑھنے کا حکم


سوال

میں اور ہم چار لوگ، جن میں شوہر، بیٹا، بہو اور بیٹی شامل ہیں، ایک ہفتے کے لیے عمرہ پر گئے۔ تین دن مکہ میں عمرہ کرکے دو دن کے لیے مدینہ چلے گئے۔ وہاں سے واپسی مکہ کی تھی اور دوسرے عمرے کا ارادہ تھا۔ میرے بیٹے اور شوہر نے احرام مدینہ سے باندھ لیا تھا۔ بیٹی اور بہو کی نیت بھی عمرے کی تھی، لیکن میرے شوہر، بیٹی اور بہو نے تلبیہ احرام کے فوراً بعد نہیں پڑھا، بلکہ دیر سے پڑھا، کیونکہ ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ ہم مسجدِ عائشہ جاکر یہ سارے کام کریں گے۔ لیکن بعد میں پتہ چلا کہ یہ مسجد مکہ والوں کے لیے میقات ہے، مدینہ والوں کے لیے نہیں، اس کا دَم دینا پڑے گا۔

میرا معاملہ دوسرا تھا کہ میں بیمار ہوں۔ پہلا عمرہ وہیل چیئر پر کیا اور دوسرے عمرے کا ارادہ نہیں تھا، کیونکہ اسی دن ہم کراچی واپس آنا تھا اور میں ایسی تھکاوٹ برداشت نہیں کرسکتی تھی۔

1۔  میں عمرے کی نیت کے بغیر حدودِ حرم میں داخل ہوئی ہوں تو کیا مجھ پر دم لازم ہوگا یا نہیں؟ اگر ہے تو کتنا اور کیا دینا ہوگا؟

2۔  میرے شوہر نے احرام کی حالت میں بنیان پہنی ہوئی تھی، تو کیا اس صورت میں دم لازم ہوگا؟

3۔ میرے شوہر، میری بیٹی اور بہو نے احرام باندھنے کے بعد فوراً تلبیہ نہیں پڑھا تھا بلکہ جب مکہ کے قریب پہنچے تو اس وقت تلبیہ پڑھا، تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟

جواب

1۔واضح رہے کہ اگر کوئی عاقل بالغ مرد یا عورت جو میقات سے باہر رہنے والا ہے اور مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتا ہے، خواہ حج یا عمرہ کی نیت سے یا کسی اور غرض سے تو اس پر میقات سے احرام باندھنا لازم ہے، اور اگر بغیر احرام کے میقات سے گزر گیا تو گناہ گار ہوگا اور اس کو میقات پر دوبارہ آکر احرام باندھنا واجب ہے، اگر دوبارہ میقات پر نہیں آیا تو اس پر ایک دم لازم ہوجائے گا۔

لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ چوں کہ احرا م کے بغیر حدود حر م میں داخل ہوئی ہے تو ایسی صورت میں سائلہ پر ایک دم دینا لازم ہے اور ایک حج یا عمرہ کی قضابھی لازم ہوگی ،یعنی خواہ حج کرلےیا عمرہ کرلے۔دم سے مراد حدودِ حرم میں چھوٹا جانور (بکرا/دنبہ وغیرہ) یا بڑا جانور یا اس کا ایک حصہ ذبح کرنا مراد ہے۔

2۔سائلہ کےشوہر نے احرا م کی حالت میں جو بنیان پہنی ہوئی تھی اس کی وجہ سے دم یاصدقہ واجب ہوگا جس کی تفصیل یہ ہےکہ عمرہ کے احرام کی نیت سے تلبیہ پڑھنے کے بعد اگر ایک پورا دن یا ایک پوری رات کے بقدر   بنیان پہنے رہا (یعنی بارہ گھنٹے یا اس سے زیادہ) تو دم واجب ہوگا، لیکن اگر ایک دن یا رات کی مقدار سے کم  وقت تک بنیان پہننے کے بعد اتار دی تو دم واجب نہیں ہوگا، بلکہ صدقہ فطر کے بقدر یعنی  تقریباً دو کلو گندم یا اس کی قیمت صدقہ کرنا لازم ہوگی۔

3۔حج یا عمرے کا احرام صحیح ہونے کے لیے نیت کے ساتھ زبان سے تلبیہ یا اس کے قائم مقام ذکر کے کوئی کلمات ادا کرنا بھی شرط ہے، اگر صرف نیت کی اور زبان سے تلبیہ یا ذکر کا کوئی کلمہ ادا نہیں کیا تو احرام میں داخل نہیں ہوگا۔ البتہ اگر میقات میں داخل ہونے سے پہلے تلبیہ پڑھ لیا یا ذکر کے کلمات ادا کرلیے تو احرام میں داخل ہوجائے گا، لیکن تاخیر کی وجہ سے کراہت ہوگی۔ اس صورت میں دم لازم نہیں ہوگا۔اور اگر میقات سے تجاوز کرنے کے بعد تلبیہ یا ذکر کے کلمات ادا کیے تو میقات سے بغیر احرام گزرنے کی وجہ سے دم لازم ہوگا۔ عمرہ بہرحال درست ہوجائے گا۔

لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ کے شوہر ،بیٹی ،بہو نے احرام باندھنے کے بعد فوراًتلبیہ نہیں پڑھا تھا بلکہ جب مکہ کے قریب پہنچے تو اس وقت تلبیہ پڑھا تو ایسی صورت سائلہ کے شوہر ،اور بیٹی اور بہو پر دم دینا لازم ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"أو لبس مخيطا) لبسا معتادا، ولو اتزره أو وضعه على كتفيه لا شيء عليه (أو ستر رأسه) بمعتاد إما بحمل إجانة أو عدل فلا شيء عليه (يوما كاملا) أو ليلة كاملة، وفي الأقل صدقة (والزائد) على اليوم (كاليوم)

[تنبيه]ذكر بعض شراح المناسك: لو أحرم بنسك وهو لابس المخيط وأكمله في أقل من يوم وحل منه لم ‌‌أر فيه نصا صريحا، ومقتضى قولهم أن الارتفاق الكامل الموجب للدم لا يحصل إلا بلبس يوم كامل أن تلزمه صدقة. ويحتمل أن يقال إن التقدير باليوم باعتبار كمال الارتفاق إنما هو فيما إذا طال زمن الإحرام، أما إذا قصر كما في مسألتنا فقد حصل كمال الارتفاق فينبغي وجوب الدم، ولكن مع هذا لا بد من نقل صريح."

(کتاب الحج،باب الجنايات في الحج،ج:2،ص:547،ط:سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وحرم تأخیر الإحرام عنها) کلّها (لمن) أي لآفاقي (قصد دخول مکة) یعني الحرم (ولو لحاجة) غیر الحج، أمّا لو قصد موضعاً من الحلّ کخلیص وجدة، حلّ له مجاوزته بلا إحرام.

(قوله: أي لآفاقي) أي ومن ألحق به کالحرمي والحلي إذا خرجا إلی المیقات کما یأتي، فتقییده بالآفاقي للاحتراز عما لو بقیا في مکانهما، فلایحرم، کما یأتي".

(کتاب الحج، مطلب في المواقیت:ج:2، ص:477، ط: سعید)

البحر العمیق میں ہے :

"وإذا جازو المحرم أحد المواقیت علی الوجه الذي ذکرنا ودخل مکة بغیر إحرام فعلیه حجة أو عمرة قضاء ما علیه ودم لترك الوقت."

(الباب السادس فى المواقيت ، مجاوزة الميقات بغير احرام ، ص: 622،ط: المكتبة المكية )

بدائع الصنائع میں ہے:

"ولو جاوز الميقات يريد دخول مكة أو الحرم من غير إحرام يلزمه إما حجة وإما عمرة؛ لأن مجاوزة الميقات على قصد دخول مكة أو الحرم بدون الإحرام لما كان حراما كانت المجاوزة التزاما للإحرام دلالة، كأنه قال: لله تعالى علي إحرام، ولو قال ذلك يلزمه حجة أو عمرة، كذا إذا فعل ما يدل على الالتزام كمن شرع في صلاة التطوع ثم أفسدها يلزمه قضاء ركعتين، كما إذا قال: لله تعالى علي أن أصلي ركعتين، فإن أحرم بالحج أو بالعمرة قضاء لما عليه من ذلك لمجاوزته الميقات، ولم يرجع إلى الميقات، فعليه دم؛ لأنه جنى على الميقات لمجاوزته إياه من غير إحرام، ولم يتداركه فيلزمه الدم جبرا، فإن أقام بمكة حتى تحولت السنة ثم أحرم يريد قضاء ما وجب عليه بدخوله مكة بغير إحرام، أجزأه في ذلك ميقات أهل مكة في الحج بالحرم، وفي العمرة بالحل؛ لأنه لما أقام بمكة صار في حكم أهل مكة فيجزئه إحرامه من ميقاتهم، فإن كان حين دخل مكة عاد في تلك السنة إلى الميقات فأحرم بحجة عليه من حجة الإسلام أو حجة نذر أو عمرة نذر، سقط ما وجب عليه لدخوله مكة بغير إحرام استحسانا، والقياس أن لا يسقط إلا أن ينوي ما وجب عليه لدخول مكة، وهو قول زفر، ولا خلاف في أنه إذا تحولت السنة ثم عاد إلى الميقات ثم أحرم بحجة الإسلام، أنه لا يجزئه عما لزمه إلا بتعيين النية.

وجه القياس: أنه قد وجب عليه حجة أوعمرة بسبب المجاوزة، فلا يسقط عنه بواجب آخر كما لو نذر بحجة أنه لا تسقط عنه بحجة الإسلام.

وكذا لو فعل ذلك بعد ما تحولت السنة، وجه الاستحسان أن لزوم الحجة أو العمرة ثبت تعظيما للبقعة، والواجب عليه تعظيمها بمطلق الإحرام لا بإحرام على حدة، بدليل أنه يجوز دخولها ابتداء بإحرام حجة الإسلام، فإنه لو أحرم من الميقات ابتداء بحجة الإسلام أجزأه ذلك عن حجة الإسلام، وعن حرمة الميقات، وصار كمن دخل المسجد وأدى فرض الوقت، قام ذلك مقام تحية المسجد."

 (كتاب الحج ، فصل فى بيان مكان الإحرام،ج:2،ص:165، ط : رشیدیه)

ارشاد الساری میں ہے:

"فإذا لبس مخيطًا يومًا كاملًا أو ليلةً كاملةً فعليه دم، و في أقلّ من يوم (أي مقدار نهار و لو ينقص ساعةً) أو ليلة صدقة، (وهي نصف صاع من بر) و كذا لو لبس ساعةً (أي نجومية و هي جزء من أجزاء إثني عشر حالة اعتدال الليل و النهار) فصدقة ... الخ

(باب الجنايات، النوع الأول في حكم اللبس، ص: ٤٢٤- ٤٢٦، ط: الإمدادية )

ارشاد الساری میں ہے: 

"ان النیة والتلبیة نفس الاحرام وحقیقته، لا شرطه ،بل الاحرام شرط للنسك، والنية من فرائض الاحرام ، اذ لا ينعقد بدونها ، اجماعا وان لبي ، وكذا التلبية او ما يقوم مقامها من فرائض الاحرام عند اصحبنا ، لانهم صرحوا انه لا يدخل في الاحرام بمجرد النية ، بل لا بد من التلبية او ما يقوم مقامها، حتي لو نوي ولم يلب لا يصير محرما ، وكذا لو لبي ولم ينو ، وعن ابي يوسف انه يصير محرما بمجرد النية ، وهومذهب الشافعي ومن تبعه.

وعلي المذهب بان يكون شارعا عند وجودهما هل يصير محرما بالنية والتلبية جميعا او باحدهما بشرط وجود الآخر ؟ فالمعتمد ما ذكره حسام الدين الشهيد انه يصير شارعا بالنية ، لكن عند التلبية لا بالتلبية ، كما يصير شارعا في الصلاة بالنية لكن عند التكبير لا بالتكبير."

(باب الإحرام،ص: 125 ،ط : الإمدادية)

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

’’جو آفاقی مکہ یا حرم کا ارادہ رکھتا ہے اس کے لیے میقات سے بغیر احرام کے گزرنا جائز نہیں، خواہ اس کا حج یا  عمرہ کا ارادہ ہو، خواہ سیر، تجارت وغیرہ کا رادہ ہو، اگر گزر جائے تو اس کے ذمہ لازم ہے کہ کسی میقات پر جا کر احرام باندھے، ورنہ اس پر دم واجب ہوگا۔‘‘

(کتاب الحج، باب المواقیت، ج: 10، ص: 381، ط: ادارۃ الفاروق کراچی)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144705100337

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں