بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

میں نے فیصلہ کر لیا ہے؛ سے طلاق کا حکم


سوال

میری بیوی کا مزاج کچھ تیز ہے، تو میری بہن اس کی شکایت کر رہی تھی۔ میں نے اسے کہا کہ میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔ میری نیت یہ تھی کہ میں بعد میں طلاق دے دوں گا۔ بعد میں معاملات ٹھیک ہو گئے اور میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ اور میں قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ میری نیت یہی تھی کہ بعد میں دوں گا۔جیسے کوئی کہے کہ میں نے فیصلہ کر لیا ہے، لیکن نیت یہی ہو کہ یہ کام بعد میں کروں گا اب سب کچھ ٹھیک ہے، معاملات صحیح ہیں۔ مجھے شک پڑ گیا ہے کہ کہیں ان الفاظ سے طلاق تو نہیں ہو جاتی!

جواب

 صورت مسؤلہ میں  آپ کے الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔ طلاق تب ہوتی ہے جب صریح الفاظ بولے جائیں یا کنایہ الفاظ کے ساتھ اسی وقت طلاق کی نیت ہو۔صورت مسئولہ میں  آپ نے کہا: ”میں نے فیصلہ کر لیا ہے“ — یہ نہ صریح طلاق ہے اور نہ  کنائی الفاظ اس لیے نکاح برقرار ہے۔

اللباب في شرح الكتاب میں ہے:

" والكنايات ثلاثة أقسام: قسم منها يصلح جوابا ولا يصلح رداً ولا شتما، وهي ثلاثة ألفاظ: أمرك بيدك، اختاري، اعتدي، ومرادفها، وقسم يصلح جوابًا وشتمًا ولايصلح رداً، وهي خمسة ألفاظ: خلية، برية، بتة، بائن، حرام، ومرادفها، وقسم يصلح جوابًا ورداً ولايصلح سباً وشتما؛ وهي خمسة أيضا: اخرجي، اذهبي، اغربي، قومي، تقنعي، ومرادفها، ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق بشيء منها إلا بالنية، والقول قوله في عدم النية، وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع بكل لفظ لا يصلح للرد وهو القسم الأول والثاني، وفي حالة الغضب لا يقع بكل لفظ يصلح للسب والرد وهو القسم الثاني والثالث، ويقع بكل لفظ لا يصلح لهما بل للجواب فقط وهو القسم الأول. كما في الإيضاح."

(3 / 44، کتاب الطلاق، ط؛ المکتبۃ العلمیہ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711100477

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں