
اگر کوئی کہہ دے کہ میں نے دعائیں مانگیں مگر اللہ نے قبول نہیں کیں، تو کیا اس کے بعد اس بندہ کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں؟ میں نے ایسا سنا ہے۔
اب اس کی مراد ماضی کی دعائیں ہیں یعنی جو ماضی میں دعائیں مانگیں تھیں وہ قبول نہیں ہوں گی؟ یا مستقبل میں بھی دعائیں قبول نہیں ہوں گی؟ اس کے بارے میں راہ نمائی فرما دیں۔
واضح رہے کہ رد تو اللہ تعالیٰ کوئی بھی دعا نہیں فرماتے، البتہ ہر دعا کی قبولیت کے ظہور کے لیے مانگی ہوئی چیز ہی کا مل جانا ضروری نہیں ہے، بلکہ دعا کی قبولیت کے مختلف طریقہ ہیں۔ چناں چہ بسا اوقات تو اللہ تعالیٰ وہی چیز عطا فرما دیتے ہیں، کبھی اس دعاء کو آخرت کے لیے ذخیرہ کردیتے ہیں، اور دنیا میں وہ مراد پوری نہیں فرماتے۔ کبھی اس دعا کے بدلہ کسی آنے والی نا مناسب چیز یا مصیبت کو دور فرما دیتے ہیں، یا دنیا میں ہی اس سے بہتر کوئی چیز عطاء فرما دیتے ہیں۔ غرض جس وقت بندہ کے لیے جو چیز مناسب ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اسے وہ عطا فرما دیتے ہیں۔ اس لیے بندہ کو مایوس ہوکر اللہ تعالیٰ سے شکوہ نہیں کرنا چاہیے، بلکہ آہ وزاری اور قبولیت کے یقین کے ساتھ مستقل دعاؤں میں لگے رہنا چاہیے۔
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص کو چاہیے کہ اپنے الفاظ پر توبہ واستغفار کرے، اور یقین کے ساتھ دعا مانگنا شروع کرے۔ اللہ تعالیٰ ضرور دعا قبول فرمائیں گے۔
مرقاة المفاتيح میں ہے:
"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «إذا دعا أحدكم فلا يقل: اللهم اغفر لي إن شئت ولكن ليعزم، وليعظم الرغبة، فإن الله لا يتعاظمه شيء أعطاه».
(ولكن ليعزم) : أي: ليجزم على المسألة (وليعظم) : بالتشديد على (الرغبة) : أي: الميل فيه بالإلحاح والوسائل."
(كتاب الدعوات، الفصل الأول، ٤/ ١٥٢٤، ط: دار الفكر)
وفيه أيضا:
"وعن جابر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «ما من أحد يدعو بدعاء إلا آتاه الله ما سأل، أو كف عنه من السوء مثله، ما لم يدع بإثم أو قطيعة رحم» (رواه الترمذي).
(إلا آتاه الله ما سأل) : أي: إن جرى في الأزل تقدير إعطائه ما سأل. (أو كف عنه من السوء مثله) أي: دفع عنه من البلاء عوضا مما منع قدر مسئوله إن لم يجر التقدير."
(كتاب الدعوات، الفصل الثاني، ٤/ ١٥٢٩، ط: دار الفكر)
وفيه أيضا:
"وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ما من مسلم يدعو بدعوة ليس فيها إثم ولا قطيعة رحم إلا أعطاه الله بها إحدى ثلاث: إما أن يعجل له دعوته، وإما أن يدخرها له في الآخرة، وإما أن يصرف عنه من السوء مثلها، قالوا: إذا نكثر، قال: الله أكثر» (رواه أحمد).
(إما أن يعجل له دعوته) أي: بخصوصها، أو من جنسها في الدنيا في وقت أراده إن قدر وقوعها في الدنيا (وإما أن يدخرها) : أي: تلك المطلوبة، أو مثلها، أو أحسن منها، أو ثوابها وبدلها له: أي: للداعي في الآخرة أي: إن لم يقدر وقوعها في الدنيا (وإما أن يصرف) : أي: يدفع (عنه من السوء) : أي: البلاء النازل أو غيره في أمر دينه أو دنياه أو بدنه (مثلها) : أي: كمية وكيفية إن لم يقدر له وقوعها في الدنيا."
(كتاب الدعوات، الفصل الثالث، ٤/ ١٥٣٨-١٥٣٧، ط: دار الفكر)
فقط والله تعالى أعلم
فتویٰ نمبر : 144707102083
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن