بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مہر و میراث میں ابراء اور طیبِ نفس کا شرعی و فقہی تجزیہ


سوال

 1۔ مہر کے بارے میں:الف۔ اگر بیوی مہر بغیر لئے معاف کر دے (ابراء) تو کیا یہ جائز ہے؟

ب۔ کیا موجودہ دور میں طیب نفس کا ثبوت صرف تملیک اور حوالہ سے ہی معتبر ہے؟

ج۔کیا فتویٰ یہی ہے کہ مہر بغیر تملیک اور حوالہ کئے معاف نہیں ہو سکتا؟ کیا تملیک یا حوالہ خاص حالات و تناظر میں طیب نفس کے قائم مقام ہےیا یہ حکم صرف بطور استحسان ہے؟ اس سلسلہ میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے کہ فقہی حکم اصل میں کیا ہے۔

2۔ بہنوں کے حصے کے بارے میں: الف۔ اگر بہنیں اپنے شرعی حصے کو صرف زبان سے "معاف" کر دیں تو ان کا حق ساقط ہو جاتا ہے؟ کیا شرعاً ابراء (معافی) صرف دیون میں معتبر ہے اور اعیانِ موروثہ میں نہیں؟

ب۔ حق چھوڑنے کے شرعی طریقے کیا بہنوں کے حصے کو برادران کے حق میں چھوڑنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ یا تو صحیح شرائط کے ساتھ ہبہ کریں یا بیع/صلح کی صورت اختیار کریں؟ کیا محض طیبِ نفس کا اظہار کافی ہے یا اس کے لئے تملیک و حوالہ جیسے عملی اقدامات بھی شرعاً شرط ہیں؟

ج۔  اگر بہنیں بھائیوں کو اپنا حصہ دینا چاہیں تو اس کی صحیح، شرعی اور فقہی طور پر معتمد صورت کیا ہوگی؟

3۔ مہر کے بارے میں حکیم الامتؒ کا موقف :الف۔ مہر کے بارے میں حکیم الامتؒ کا صریح موقف کیا تھا؟ کیا ان کے نزدیک مہر کی معافی صرف اس وقت معتبر ہے جب پہلے بیوی کو حوالہ اور قبضہ کر دیا جائے، یا یہ کہ بغیر حوالہ اور قبضہ کے بھی معافی جائز ہے؟

ب۔ بندہ نے حکیم الامتؒ کی مختلف تصنیفات اور تحریرات میں بہنوں کے حصے کے متعلق ان کا صریح کلام ملاحظہ کیا ہے کہ پہلے بہنوں کو ان کا حصہ دینا لازم ہے، اس کے بعد اگر وہ خود معاف کریں تو یہ طیب نفس کا مصداق ہوگا۔ لیکن مہر کے بارے میں ایسا کوئی براہِ راست کلام مجھے نہیں ملا جس میں یہ تصریح ہو کہ مہر بھی پہلے بیوی کو حوالہ کرنا ضروری ہے، تب ہی اس کی معافی معتبر ہوگی۔

یہاں اہم نکتہ یہ ہے کہ معارف القرآن میں حکیم الامتؒ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے کہ مہر بھی پہلے بیوی کو حوالہ کرنا چاہیے، تب وہ معافی طیب نفس شمار ہوگی۔ جبکہ دوسری طرف بیان القرآن میں صاف تصریح ہے کہ مہر بغیر لئے بھی معاف کرنا جائز ہے۔ اس طرح دونوں جگہوں پر بظاہر تعارض محسوس ہوتا ہے۔ اس فرق کی ایک علمی وجہ یہ بھی ہے کہ مہر دراصل دیون میں سے ہے اور دیون میں ابراء درست ہے، جبکہ بہنوں کا حصہ اعیانِ ترکہ میں سے ہے اور اعیان میں ابراء نہیں ہوتا جیسا کہ خود حکیم الامتؒ نے خطبات میں وضاحت فرمائی۔ کیا آپ کے پاس حکیم الامتؒ کا اصل کلام یا کوئی ایسی معتبر تحریر موجود ہے جو اس باب میں ان کی صریح رائے کو واضح کرے اور جس سے بیان القرآن اور معارف القرآن کے مابین اس بظاہر تعارض کی تطبیق ممکن ہو سکے؟

بیان القرآن میں ہے:"مسئلہ: اگر مہر لے کر واپس کر دیں تو یہ ہبہ ہے اور اگر بے لئے معاف کر دیں تو یہ ابراء ہے اور دونوں جائز ہیں" ۔

جبکہ معارف القرآن میں ہے: "آیت شریفہ میں جو یہ قید لگائی طیب نفس کی کہ خوشی سے تمہاری بیویاں اگر مہر کا کچھ حصہ تم کو دیدیں یا تم سے وصول ہی نہ کریں تو تم اس کو کھا سکتے ہو اس میں ایک بہت بڑا راز ہے، بات یہ ہے کہ شریعت کا یہ اصول ہے کہ کسی کا ذرا سا مال بھی کسی دوسرے کے لئے حلال نہیں ہے جب تک کہ طیب نفس سے اجازت نہ ہو، بطور قاعدہ کلیہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا ”خبردار ظلم نہ کرو اور اچھی طرح سے سمجھ لو کہ کسی شخص کا مال (دوسرے شخص کے لئے) حلال نہیں ہے جب تک کہ اس کے نفس کی خوشی سے حاصل نہ ہو۔“ یہ ایک عظیم اصول ہے اور اس کے ماتحت بہت سے جزئیات آجاتے ہیں۔ دور حاضر میں چونکہ عورتیں یہ سمجھتی ہیں کہ مہر ملنے والا نہیں ہے، اگر سوال کروں یا معاف نہ کروں تو بد دلی یا بدمزگی پیدا ہوگی، اس لئے بادل ناخواستہ معاف کردیتی ہیں، اس معافی کا کوئی اعتبار نہیں، سیدی حضرت حکیم الامت قدس سرہ فرماتے تھے کہ صحیح معنی میں طیب نفس سے معاف کرنے کا پتہ اس صورت میں چل سکتا ہے کہ مہر کی رقم بیوی کے حوالہ کردی جائے اس کے بعد وہ اپنی خوشی سے بغیر کسی دباؤ کے دیدے، یہی طیب نفس بہنوں اور بیبیوں کی میراث میں بھی سمجھ لینا چاہئے، اکثر یہ ہوتا ہے کہ ماں یا باپ کے فوت ہوجانے پر لڑکے ہی پورے مال پر قابض ہوجاتے ہیں اور لڑکیوں کو حصہ نہیں دیتے، اگر کسی کو بہت دینداری کا خیال ہوا تو بہنوں سے معافی مانگ لیتا ہے وہ چونکہ یہ سمجھتی ہیں کہ حصہ کسی حال میں ملنے والا نہیں، اس لئے اپنی مرضی کے خلاف معاف کرنے کو کہہ دیتی ہیں، پھر باپ کی وفات پر اس کی بیوی کا حصہ بھی نہیں دیا جاتا، خصوصاً سوتیلی ماں کو تو دیتے ہی نہیں، یہ سب حقوق دبا لینا ہے، اگر کوئی طیب نفس سے معاف کر دے تو معاف ہوسکتا ہے، جس کی علامت اوپر گزر چکی۔ سیدی حضرت حکیم الامت قدس سرہ نے یہ بھی فرمایا کہ اس سلسلہ میں طیب نفس کا ذکر ہے، طیب قلب نہیں فرمایا، اس لئے کہ کسی کا مال حلال ہونے کے لئے اس کے دل کی خوشی کافی نہیں، جو لوگ رشوت یا سود دیتے ہیں بہت سے ظاہری منافع سوچ کر اور عقلی طور پر آمدنی کا حساب لگا کر خرچ کردیتے ہیں، مگر یہ خوشی معتبر نہیں، اگر نفس سے پوچھا جائے تو وہ اس خرچہ پر قطعاً راضی نہ ہوگا، اسی وجہ سے طیب نفس کو فیصل قرار دیا گیا مساجد و مدارس یا اور کسی ضرورت کے لئے اگر چندہ کیا جائے اس میں بھی دینے والے کے طیب نفس کا خیال رکھنا لازم ہے، پنچایت، چودھری، سردار، وفد کے دباؤ سے اگر کوئی شخص چندہ دے اور طیب نفس نہ ہو تو اس چندہ کو کام میں لگانا حلال نہیں، بلکہ اس کو واپس کیا جائے گا۔"

نیز ملفوظات حکیم الامتؒ میں ہے کہ: " اسی سلسلہ میں یہ بھی فرمایا کہ بہنیں عموما آج کل اپنے حصہ میراث سے دست بردار ہوکر بھائیوں کو دے دیتی ہیں ۔ میں یہ مشورہ دیا کرتا ہوں کہ پہلے بہنوں کو سال دو سال بلکہ اس زیادہ عرصہ تک اپنے حصہ کی جائیداد سے منتقع ہونے کا موقع دیا جائے اور پھر بھی باوجود اتنے لطف اٹھا لینے کے ان کی یہی رائے ہو کہ اپنے بھائیوں کو ہبہ کر دیں اس وقت ان کی رضا معتبر سمجھی جائے ۔" (ملفوظات حکیم الامتؒ ،جلد 10 ،ص 169)

نیز خطبات حکیم الامتؒ میں ہے کہ: "….،پھر تمہاری ان سب باتوں کے مان لینے کے بعد بھی یہ بات ہے کہ بہن جو بھی کہہ دیتی ہے میں نے اپنا حق معاف کر دیا اس سے تو کسی طرح بھی بھائی کے لئے بہن کا حق حلال نہیں ہو سکتا چاہے وہ خوشی ہی سے معاف کرتی ہو کیونکہ معافی کی حقیقت ابراء ہے اور ابراء دیون سے ہوتا ہے نہ کہ اعیان سے اور اگر اس کو ہبہ کہا جائے تو اول اس لفظ کے یہ معنی نہیں اور اگر ہوں بھی تو ہبہ کے لئے موہوب کا مقسوم و مفرز ہونا شرط ہے مشاع کا ہبہ درست نہیں اور عموما بہنوں کی یہ معافی تقسیم و قبضہ سے پہلے ہوتی ہے ۔ اس لئے کسی حال میں اس لفظ سے بہن کا حق ساقط نہیں ہوتا۔ اگر کسی بہن کو اپنا حق خوشی سے دینا منظور ہو تو اس کی بے خلجان صورت یہ ہے کہ معافی کا لفظ نہ کہے بلکہ بھائی سے یوں کہے کہ میں نے اپنا حصہ تمہارے ہاتھ اتنے روپیہ میں بیع کیا اور وہ کہے میں نے قبول کیا اب زمین بہن کی ملک سے نکل گئی اور بھائی کے ذمہ زر ثمن واجب ہو گیا ۔ اس زر ثمن کو یہ بہن اگر چاہے معاف کر دے۔…." (خطبات حکیم الامتؒ ،جلد 28 ،ص 70)

ملفوظات حکیم الامتؒ میں ایک دوسرے مقام پر ہے کہ: "(عرفی معافی کا اعتبار نہیں : )سراجی کے سبق میں تخارج و تصالح کے مقام پر ارشاد فرمایا کہ اہل فرائض کا چونکہ یہی وظیفہ تھا کہ تقسیم ترکے کے متعلق جو سہام و طریقہ حساب وغیرہ کا ہو وہ بیان کریں ۔ اس لئے انہوں نے تخارج اور تصالح کے متعلق جو شرائط جواز تھے ان کو ذکر نہیں کیا ہے ۔ اور صرف تخارج کا طریق ہی بتلا دیا ۔ شرائط سے تعرض اس واسطے نہیں کیا کہ اس کا حکم کتب فقہ کے باب الصلح سے متعلق ہے ۔ سو جو تصالح کا طریقہ ہندوستان میں بعض جگہ ہے کہ بہن وغیرہ جس کو حصہ شرعی ملتا ہے زبان سے معاف کر دیتی ہے ۔ سو زبان سے کہہ دینے سے شرعا معاف نہیں ہوتا ۔ کیونکہ ابراء اعیان میں نہیں ہوتا ۔ بلکہ ہبہ کی ضرورت ہے اور بلکہ وہ بدستور اپنے حق کی مالک رہتی ہے ۔ اگر کسی وقت بہن کی اولاد اپنے ماموں پر دعویٰ کرے تو وہ شرعا اپنی ماں کا حصہ لے سکتی ہے ۔ ہبہ کے شرائط اس میں موجود نہیں ۔ چنانچہ وہ ہنوز مشاع ہے اور اگر بشرائطہاہبہه بھی کر دیا جائے ۔ مگر یہ یقینی ہے کہ یہ دینا اوپر کے دل سے بوجہ رواج و خوف ملامت کے ہوتا ہے اور حدیث شریف میں ہے : الا لا یحل مال امرء الا بطیب نفسہ ۔ البتہ اگر بہنیں جائیداد اپنے پاس چندے رکھ کر اور اس کا لطف انتفاع دیکھ کر پھر کچھ مدت کے بعد اپنی خوشی سے بھائی کو دے دیں تو یہ دینا البتہ دینا ہے ۔" (ملفوظات حکیم الامتؒ ،جلد 12 ،ص 29)

جواب

1-الف،ب:واضح رہے کہ  شوہر کی جانب سے بیوی سے جبراً  یا اخلاقی دباؤ میں مہر معاف کروانے سے مہر معاف نہیں ہوگا، البتہ اگر کوئی عورت  جبر واکراہ  کے بغیر اپنی خوش دلی سے اپنا پورا  مہر یا مہر کا کچھ حصہ معاف کر دے تو وہ مہر معاف ہو جاتا ہے،مہر بیوی کا حق ہے، طلب کرنا ،مؤخر کرنا یا معاف کرنا اس کے دائرہ اختیار میں ہے، لہٰذا اگر عورت اپنی دلی خوشی اور رضامندی سے( کسی جبر و اکراہ کےبغیر) خود معاف کردے  تو   مہر معاف ہوجائے گا اورشوہر پر مہر ادا کرنا لازم نہیں ہوگا،البتہ مہر معاف کرنے کےلئے شوہر کی طرف سےبیوی پر  کسی بھی قسم کی زبردستی یا جبر و اکراہ کرنا جائز  نہیں ،بلکہ یہ سراسر ظلم ہوگا،اور موجودہ زمانے میں طیب نفس کا ثبوت بغیر اور تملیک کے معتبر نہیں،البتہ مہر چوں کہ دَین ہے، اس لیے اگر عورت واقعۃً طیبِ نفس سے بغیر قبضہ معاف کرے تو شرعاً ابراء صحیح ہے، لیکن عرفِ فاسد اور معاشرتی دباؤ کے پیشِ نظر آج کے زمانے میں طیبِ نفس کی تحقیق قبضہ کے بغیر مشکل ہے، لہٰذا عملی طورپر احتیاط سی میں ہےکہ پہلے مہر حوالہ کیا جائے، تاکہ معافی شک و شبہ سے پاک ہو۔

ج:پہلے عورت کو مہر حوالہ کیا جائے تاکہ بعد کی معافی شک سے پاک ہو۔

2-الف،ب: موجودہ دورمیں چوں کہ  معاف کرانے کا ایک رواج چل پڑا ہے،اور بہنوں کو بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مجھے میرا حصہ نہیں ملےگااور اگر میں مانگنے جاؤں گی تو مجھے یا تو طعنے ملیں گے یا رشتہ داری توڑنے کی دھمکیاں ملیں گی ،اس وجہ سےبہتر اور شبہ سے پاک صورت یہ ہے کہ بہن کو اس کا حق ادا کردیا جائے ،اس کے بعد اگر بہن اپنی خوش دلی سے اور بغیر کسی بھی دباؤ کے معاف کردے تو معاف ہوجائے گا،صرف طیب نفس کا اظہار کافی نہیں، قبضہ کر کے پھر حوالہ کرنے سے ہی ابراء ہوگا۔

ج:واضح رہے کہ میراث کا حصہ اضطراری اور جبری حصہ ہے جو بہرصورت وارث  کو ملتا ہے،  اور اگر  کسی شخص کی میراث  کو تقسیم کیے بغیر اگر کوئی وارث اپنے شرعی حصہ سے محض زبانی کلامی طور پر دستبردار  ہوجائے تو صرف معاف کرنے سے معاف نہیں ہوتا،البتہ میراث کی تقسیم کے بعد اگر کوئی وارث قبضہ کرلے اور پھر کسی کے حق  میں اپنے حصے سے دست بردار ہوناچاہے تو ہوسکتاہے، لہذا صورت مسئولہ میں اگر ایک وارث  اپنا حصہ نہیں لیتا، اور وہ لکھ کر بھی دے دے کہ وہ وراثت سے دستبردار ہے تب بھی  ان کا حصہ ساقط نہیں ہوگا، بلکہ اگر وہ اپناحصہ چھوڑنا چاہتا ہے تو پہلے اس کو اپنا حصہ وصول کرنا ہوگا یا اس کا حصہ متعین اور واضح ہوجائے پھر اگر اپنی رضامندی سے اپنا حصہ دوسرے ورثاء کو ہدیہ میں   دینا چاہے تو دے سکتا ہے،لہذاپہلے ترکہ کی تقسیم کریں، بہن کو اس کا حصہ دے دیں، پھر اگر وہ اپنی خوشی سے واپس دینا چاہے تو  بیع یا صلح کی درست صورت جس پر بہن اپنی خوش دلی سے راضی ہو تو اختیار کریں،اور اگر بہن زبانی طور پر ‘میں نے معاف کیا’ کہہ دے تو یہ شرعاً مؤثر نہیں، کیونکہ ابراء صرف دیون میں ہوتا ہے، اعیانِ موروثہ میں نہیں، اس لیے حقِ میراث کے سقوط کے لیے بیع/صلح کی مکمل شرائط پوری ہوں۔

3-الف،ب:مہر کے بارے میں حضرت حکیم الامت کا موقف واضح ہے،جو کہ سائل نے سوال میں بھی درج کیا ہے،البتہ سائل کو جو بظاہر تعارض محسوس ہورہا ہے،دراصل تو تعارض نہیں ،کیوں کہ حضرت نے بیان القرآن میں اصل فقہی اصول بیان کیا ہے،“اگر مہر لے کر واپس کر دیں تو ہبہ ہے، اور اگر بے لئے معاف کر دیں تو ابراء ہے، اور دونوں جائز ہیں۔”اور معارف القرآن  میں انہوں نے زمان و عرف کے لحاظ سے ایک عملی تنبیہ کی ہے،“آج کے زمانے میں عورتیں دباؤ میں معاف کرتی ہیں، لہٰذا طیبِ نفس کا یقینی قرینہ یہ ہے کہ پہلے حوالہ کر دیا جائے۔”لہٰذا بیان القرآن میں “حکمِ اصل” ذکر ہے،اور معارف القرآن  میں “حکمِ استحسانی و احتیاطی”  یعنی زمانے کے فساد کے پیش نظر عملی احتیاط۔

چناں چہ اس سے معلوم ہوا کہ حکیم الامتؒ کے نزدیک مہر میں ابراء بلا قبضہ فی نفسہٖ درست ہے، مگر جب عرف میں عورتوں کا طیبِ نفس مشکوک ہو گیا تو انہوں نے بطورِ استحسان و عملی تدبیر حوالہ کو طیبِ نفس کا قرینہ قرار دیا، جس سے دونوں تصریحات میں تطبیق ممکن اور واضح ہو جاتی ہے۔

،قرآن کریم میں ارشادباری تعالیٰ ہے:

{وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً} [النساء: 4]

''اوردے ڈالوعورتوں کواُن کے مہرخوشی سے ''۔(النساء:4)

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

''مطلب یہ ہے کہ جبر واکراہ اور دباؤ کے ذریعہ معافی حاصل کرنا تو کوئی چیز نہیں، اس سے کچھ معاف نہیں ہوتا، لیکن اگر وہ بالکل اپنے اختیار اور رضامندی سے کوئی حصہ مہر کا معاف کر دیں یا لینے کے بعد تمہیں واپس کر دیں تو وہ تمہارے لیے جائز ہے اور درست ہے۔"

مشكاة المصابيح ميں هے:

"و عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا لاتظلموا ألا لايحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى."

ترجمہ : اور حضرت  ابو حرہ رقاشی رضی اللہ عنہ اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" خبردار!کسی پر ظلم نہ کرنا، جان لو! کسی بھی دوسرے شخص کا مال اس کی  مرضی وخوشی کے بغیر حلال نہیں"۔

(كتاب البيوع، باب الغصب والعارية،ج:2،ص:889،ط:المكتب السلامي)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما بيان ما يسقط به ‌كل ‌المهر، فالمهر كله يسقط بأسباب أربعة۔۔۔ومنها: الإبراء عن ‌كل ‌المهر قبل الدخول وبعده إذا كان المهر دينا لأن الإبراء إسقاط، والإسقاط ممن هو من أهل الإسقاط في محل قابل للسقوط يوجب السقوط۔۔۔ومنها: هبة كل المهر قبل القبض عيناً كان أو ديناً، وبعده إذا كان عيناً."

(كتاب النكاح، فصل بيان ما يسقط به ‌كل ‌المهر، ج:2، ص: 295، ط: دار الكتب العلمية)

الدر المختار میں ہے:

"(وصح حطها) لكله أو بعضه (عنه) قبل أو لا، ويرتد بالرد، كما في البحر."

(باب المھر، مطلب في حط المهر والإبراء منه،ج: 3، ص: 113، ط: سعید)

 تکملۃ رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:

" الإرث جبري لَا يسْقط بالإسقاط".

(کتاب الدعوی، ج:7، ص:505، ط:سعید)

العقود الدریۃ میں ہے: 

"(سئل) في أحد الورثة إذا أشهد عليه قبل قسمة التركة المشتملة على أعيان معلومة أنه ترك حقه من الإرث وأسقطه وأبرأ ذمة بقية الورثة منها ويريد الآن مطالبة حقه من الإرث فهل له ذلك؟

(الجواب) : ‌الإرث ‌جبري ‌لا ‌يسقط ‌بالإسقاط وقد أفتى به العلامة الرملي كما هو محرر في فتاواه من الإقرار نقلا عن الفصولين وغيره فراجعه إن شئت."

(کتاب الدعوی، مدخل، ج:2، ص: 26، ط:دار المعرفة)

الأشباہ والنظائرلابن نجیم  میں ہے:

 "لو قال الوارث : تركت حقي لم يبطل حقه إذ الملك لا يبطل بالترك".

(ما یقبل الإسقاط من الحقوق وما لایقبله، ص:309، ط:قدیمی)

غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر میں ہے:

"[ما يقبل الإسقاط من الحقوق وما لا يقبله]

قوله: لو قال الوارث: تركت حقي إلخ. اعلم أن الإعراض عن الملك أو حق الملك ضابطه أنه إن كان ملكا لازما لم يبطل بذلك كما لو مات عن ابنين فقال أحدهما: تركت نصيبي من الميراث لم يبطل لأنه لازم لا يترك بالترك بل إن كان عينا فلا بد من التمليك وإن كان دينا فلا بد من الإبراء."

(الفن الثالث،‌‌ ما يقبل الإسقاط من الحقوق وما لا يقبله، ج:3، ص:354، ط:دار الكتب العلمية)

مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:

"(المادة 96) : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه."

(‌‌المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية،ص27،ط؛دار الجیل)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100889

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں