
میری شادی سے پہلے رشتہ طے پاتے ہوئے، میں نے یہ بات واضح کر دی تھی کہ ہم مہر میں سونا نہیں دے سکتے، اگر سونے کا مطالبہ کیا جائے گا تو ہم رشتہ نہیں کریں گے، اس پر لڑکی والوں نے رضامندی کا اظہار کیا، اس کے دس ماہ بعد نکاح سے تقریبا 10 دن پہلے لڑکی والوں نے دوبارہ کہا کہ حق مہر میں دو تولہ سونا لکھنا ہے، ہم نے ان سے کہا ہم یہ ادا نہیں کر سکتے، تو انہوں نے کہا صرف لکھ لو نکاح فارم میں، اگر اللہ پاک نے وسعت دی تو بنا لینا اگر نہیں بناسکے تو کوئی مسئلہ نہیں، اس شرط پر نکاح ہوا، کچھ عرصہ گزرا تو میری بیوی ایک غیر مرد کے ساتھ پکڑی گئی، اس کو اس کے والد نے خود پکڑا، اور لڑکے کو گھر سے باہر نکالا، لیکن ہم نے اس کے ساتھ کوئی ظلم اور زیادتی نہیں کی، بلکہ صبر سے کام لیتے ہوئے ہم نے فیصلہ کرنے کی کوشش کی، اب یہ نکاح ختم ہو رہا ہے۔
1۔سوال یہ ہے جب شروع میں یہ کہہ دیا گیا تھا کہ ہم مہر میں سونا نہیں دیں گے، اس کے بعد یہ کہا کہ لکھ دو، آپ کے پاس ہوگا تو دے دینا نہیں تو نہیں دینا، تو اب نکاح فارم میں لکھنے کے بعد مجھ پر وہ دینا لازم ہے یا نہیں؟
2۔جس غیر مرد کی وجہ سے یہ شادی ختم ہو رہی ہے کیا اس شخص سے ہم مالی تاوان یا نقصان کی تلافی کر سکتے ہیں؟
3۔اور جب زنا یا ناجائز تعلق نبھاتےہوئے مرد یا عورت پکڑ ے جائیں، تو کیا ان کے خاندان والے ان کو مار پیٹ، یا قتل وغیرہ کر سکتے ہیں؟
1۔ نکاح کے موقع پر قاضی صاحب نے ایجاب و قبول کراتے ہوئے، اگر دو تولہ سونا بطور مہر ذکر کیا تھا، اور سائل نے دو تولہ سونے کے عوض مذکورہ خاتون کو اپنے نکاح میں قبول کیا تھا، تو اس صورت میں مذکورہ خاتون کا مہر دو تولہ سونا ہی شمار ہوگا، اور سائل پر دو تولہ سونا بطور مہر دینا لازم ہوگا، البتہ اگر بیوی خود اپنے مہر کے بدلے کوئی اور چیز یا نقدی لینے پر راضی ہو جائے، تو بیوی کی منشا کے مطابق سائل سونے کے بجائے وہ چیز یا نقدی دے سکتا ہے، البتہ مسئولہ صورت میں نکاح بیوی کی غلطی کی بنا پر چونکہ ختم کیا جا رہا ہے، تو سائل اگر چاہے (اور ابھی تک طلاق نہیں دی ہو) تو بیوی کو اس کے مہر کے عوض طلاق دے دے۔
2۔مذکورہ صورت میں جس غیر مرد کے ساتھ بیوی پائی گئی، وہ اپنی اس حرکت پر گناہ گار تو ہوگا،البتہ اس پر کوئی مالی تاوان لازم کرنا شرعاً جائز نہیں ہوگا، پس سائل کےلیے اس سے کسی قسم کا تاوان لینا جائز نہیں ہوگا۔
3۔ اگر کسی مرد یا عورت کا زنا شرعی گواہی یا اقرار سے ثابت ہو جائے، تو مرتکب افراد پر حدِ شرعی جاری کرنا حاکم وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے، نجی طور پر کوئی شخص یا قوم یا خاندان والے ان پر حدِ زنا جاری کرنے کے شرعا مجازنہیں ہوتے، نیز ایسے افراد کو نجی طور پر قتل کرنے کی بھی شرعا کسی کو اجازت نہیں ہوتی، البتہ مسلمان زجراً و توبیخاً ایسے بدکردارمرد وعورت سے تعلقات، سلام کلام،میل جول وغیرہ ترک کرسکتے ہیں اور جب تک وہ توبہ تائب نہ ہوجائیں، اس وقت تک اس سے ترکِ تعلقات قائم رہنے کی بھی اجازت ہے ۔
فتاوی شامی میں ہے:
''المسألة على وجهين: الأول تواضعا في السر على مهر ثم تعاقدا في العلانية بأكثر والجنس واحد، فإن اتفقا على المواضعة فالمهر مهر السر وإلا فالمسمى في العقد ما لم يبرهن الزوج على أن الزيادة سمعة، وإن اختلف الجنس فإن لم يتفقا على المواضعة فالمهر هو المسمى في العقد.....والحاصل في الوجه الأول أن العقد إنما جرى في العلانية فقط."
(كتاب النكاح، باب المھر، مطلب في مهر السر ومهر العلانية، ج: 3، ص: 161، ط: سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
"و في شرح الآثار : التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ .والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال."
(كتاب الحدود، باب التعزير، ج: 4، ص: 61، ط: سعید)
بدائع الصنائع میں ہے :
"ألا ترى أن الإمام يملك أمورا لا تملكها الرعية وهي إقامة الحدود."
(كتاب الصلاة، فصل الكلام في الاستخلاف في الصلاة، ج: 2، ص: 89، ط: دار الكتب العلمية وغيرها)
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"(الحد)وركنه : إقامة الإمام أو نائبه في الإقامة."
(كتاب الحدود، الباب الثاني في الزنا، ج: 2، ص: 143، ط: دار الفكر بيروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705101063
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن