
ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا: "نکاح کرو، چاہے لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ دو۔" (صحیح البخاری، کتاب النکاح، حدیث نمبر 5090؛ صحیح مسلم، کتاب النکاح، حدیث نمبر 1400) یہ حدیث واضح طور پر بتاتی ہے کہ نکاح کو آسان اور سادہ رکھنا سنتِ نبوی ﷺ ہے، چاہے مہر کے طور پر کچھ بھی معمولی چیز ہی کیوں نہ دی جائے۔
لیکن آج کل بعض علماء اور مفتیان کرام فرماتے ہیں کہ کم از کم مہر دس درہم ہونا ضروری ہے۔
آج کی چاندی کی قیمت کے مطابق دس درہم تقریباً 40000سے 45000 روپےکے برابر ہے۔ اگر آنے والے ایک یا دو سال میں چاندی کی قیمت اسی طرح بڑھے تو یہ رقم لاکھوں روپے تک پہنچ جائے گی، اور اس طرح نکاح کرنا عام لوگوں کے لیے بہت مشکل ہو جائے گا۔
لہٰذا میری یہ استدعا ہے کہ براہ کرم واضح فرمائیں کہ:
1. کیا شرعاً ضروری ہے کہ مہر کم از کم دس درہم کے برابر ہو، اور اس سے کم مہر جائز نہیں؟
2. کیا نبی ﷺ کی سنت کے مطابق نکاح میں آسان اور سادہ مہر دینا بھی جائز ہے، جیسا کہ حدیث میں فرمایا گیا ہے، چاہے وہ لوہے کی انگوٹھی یا کوئی معمولی چیز ہی ہو؟
کم سے کم دس درہم یا اس کی موجودہ قیمت سے مہر مقرر کرناشرعاضروری ہے،اس سے کم مہر مقرر کرناجائزنہیں ،حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا مگر دس درہم کی مقدار پر، اور مہر دس درہم سے کم نہیں ہوتا۔
مذکورہ روایت اور اس کے علاوہ روایات جن میں دس درہم سے کم مہر کا ذکر ملتاہے-مہرمعجل پر محمول ہیں،یعنی مہرکاکچھ حصہ معجل دیدیاجائے،باقی حصہ بعد میں اداکردیاجائے۔
سنن الدارقطني میں ہے:
"3452 - نا عمر بن الحسن بن علي، نا جعفر بن محمد بن مروان، نا أبي، نا عاصم بن عمر، ثنا إسماعيل بن اليسع، عن جويبر، عن الضحاك، عن النزال بن سبرة، عن علي، قال: لا تقطع اليد إلا في عشرة دراهم، ولا يكون المهر أقل من عشرة دراهم."
ترجمہ:حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا مگر دس درہم کی مقدار پر، اور مہر دس درہم سے کم نہیں ہوتا۔
(کتاب الحدود والدیات وغیرہ، ج:4، ص:274، ط:مؤسسة الرسالة)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(أقله عشرة دراهم) لحديث البيهقي وغيره "لا مهر أقل من عشرة دراهم" ورواية الأقل تحمل على المعجل.(قوله لحديث البيهقي وغيره) رواه البيهقي بسند ضعيف رواه ابن أبي حاتم وقال الحافظ ابن حجر: إنه بهذا الإسناد حسن كما في فتح القدير في باب الكفاءة (قوله ورواية الأقل إلخ) أي ما يدل بحسب الظاهر من الأحاديث المروية على مجاز التقدير بأقل على عشرة وكلها مضعفة إلا حديث "التمس ولو خاتما من حديد" يجب حملها على أنه المعجل، وذلك لأن العادة عندهم تعجيل بعض المهر قبل الدخول حتى ذهب بعض العلماء إلى أنه لا يدخل بها حتى يقدم شيئا لها تمسكا "بمنعه صلى الله عليه وسلم عليا أن يدخل بفاطمة رضي الله عنها حتى يعطيها شيئا فقال يا رسول الله ليس لي شيء فقال أعطها درعك فأعطاها درعه" رواه أبو داود والنسائي، ومعلوم أن الصداق كان أربعمائة درهم وهي فضة، لكن المختار الجواز قبله لما روت "عائشة - رضي الله تعالى عنها - قالت أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أدخل امرأة على زوجها قبل أن يعطيها شيئا" رواه أبو داود فيحمل المنع المذكور على الندب؛ أي ندب تقديم شيء إدخالا للمسرة عليها تألفا لقلبها وإذا كان ذلك معهودا وجب حمل ما خالف ما رويناه عليه جمعا بين الأحاديث.
وهذا وإن قيل إنه خلاف الظاهر في حديث "التمس ولو خاتما من حديد" لكن يجب المصير إليه لأنه قال فيه بعده زوجتكها بما معك من القرآن، فإن حمل على تعليمه إياها ما معه أو نفي المهر بالكلية عارض كتاب الله تعالى وهو قوله تعالى - {أن تبتغوا بأموالكم} [النساء: 24]- فقيد الإحلال بالابتغاء بالمال، فوجب كون الخبر غير مخالف له وإلا لم يقبل لأنه خبر واحد، وهو لا ينسخ القطعي في الدلالة وتمام ذلك مبسوط في الفتح."
(کتاب النکاح، باب المهر، ج:3، ص: 101، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708100915
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن