بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مہر کی کم از کم مقدار سے بھی کم مہر مقرر کرنے کی صورت میں شرعی حکم


سوال

محترم مفتی صاحب مجھ سے ایک غلطی ہوئی تھی میرے منہ سے کچھ غیر اختیاری طور پر پر کفریہ الفاظ نکلے تو ایک عالم نے بتایا کہ احتیاطاً تجدید نکاح اور تجدید ایمان کرلو اور دوسرے نے کہا اس الفاظ سے کوئی فرق نہیں پڑا، لیکن پھر بھی میں نے احتیاطاً تجدید ایمان اور تجدید نکاح کرلیا، تو تجدید نکاح میں میں نے اپنے بھائی کو بیوی کا وکیل بنایا وہ بھی اپنی بیوی کے اجازت سے اور وکیل کے علاوہ دو گواہ بنائےاور مولانا صاحب نے نکاح پڑھایا، اور ایجاب وقبول ہوا، لیکن حق مہر اس میں کم رکھا  1000 روپے مہر تھا،اب مجھے پتہ چلا کہ یہ شرعی طور پر بہت کم ہے، شریعت کے مطابق کم از کم 30 گرام 618ملی گرام چاندی مہر بنتا ہے، تو اب مجھے یہ بتائے کہ یہ نکاح درست ہوا یا نہیں؟ اگر درست ہوا ہے تو حق مہر کم ہے تواس 30 گرام 618 چاندی کی قیمت پاکستانی روپوں میں کتنی ہے؟

اور دوسری بات کہ مجھے اندازہ لگ رہا ہے کہ  کم از کم یہ چاندی کی قیمت میرے حساب سے زیادہ ہوگا کیونکہ میں ایک سیکیورٹی گارڈ ہوں ،بیوی کو یہ مہر ایک ساتھ میں نہیں دے سکتا ہوں، اس وجہ سے میں نے بیوی سے پوچھا کے آپ کو حق مہر کب دوں؟ تو بیوی نے کہا کہ جب آپ کے پاس ہوں،تب دے دینا، لہذا میں اگر یہ مہر  تین یا چار حصوں میں دے دوں تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟کیوں کہ تجدیدِ نکاح کے وقت حق مہر کے بارے میں ایسی کوئی بات نہیں ہوئی ہےکہ حق مہر جلدی دینا ہے یا بعد میں دینا ہے، اور جب تک حق مہر نہیں دوں تو کیاتب تک آپس کی رضامندی سے ازدواجی تعلقات مطلب ہمبستری کرسکتے ہیں یا نہیں؟ اس میں  کوئی گناہ تو نہیں ہوگا؟ ان سب کے بارے میں باتوں کے بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب

بصورتِ مسئولہ آپ کاتجدیدِ نکاح درست ہے اور دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں، البتہ تجدیدِ نکاح میں مہر کی کم از کم مقدار  سے بھی کم مہر مقرر گیا ہے، لہذا اب آپ پر بیوی کو بطورِ مہر  کم از کم مقدارِ مہرشرعی  2 تولہ ساڑھے سات ماشہ ( 30؍ گرام 618؍ ملی گرام) چاندی یا اِس کی قیمت دینالازمی ہے،چاندی کی قیمت میں اتار چڑھاؤ ہوتارہتاہے، چاندی کے آج کےریٹ کے حساب سے قیمت تقریباً 14500 روپے بنتے ہیں۔

نیزبیوی کی رضامندی کےساتھ مہر کی یہ رقم تین یا چار قسطوں میں بھی دے سکتے ہیں، یکمشت دینا ضروری نہیں ہے،نیز مہر کی ادائیگی سے قبل باہمی رضامندی سے ازدواجی تعلقات قائم کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"أقل المهر عشرة دراهم مضروبة أو غير مضروبة حتى يجوز وزن عشرة تبرا، وإن كانت قيمته أقل، كذا في التبيين وغير الدراهم يقوم مقامها باعتبار القيمة وقت العقد في ظاهر الرواية."

(كتاب النكاح، الباب السابع في المهر، الفصل الأول في بيان مقدار المهر وما يصلح مهرا وما لا يصلح، ج:1، ص:302، ط:دارالفكر)

فتح القدیر میں ہے:

"(قوله ولو ‌سمى ‌أقل ‌من ‌عشرة فلها العشرة عندنا. وقال زفر: لها مهر المثل) قياسا على عدم التسمية هكذا تسمية الأقل تسمية لا يصلح مهرا، وتسمية ما لا يصلح مهرا كعدمها، فتسمية الأقل كعدم التسمية، وعدم التسمية فيه مهر المثل، فتسمية الأقل فيه مهر المثل.

وقولنا استحسان، وله وجهان: أحدهما أن العشرة في كونها صداقا لا تتجزأ شرعا، وتسمية بعض ما لا يتجزأ ككله، فهو كما لو تزوج نصفها أو طلق نصف تطليقة حيث ينعقد ويقع طلقة، فكذا تسمية بعض العشرة. والثاني وهو المذكور في الكتاب حاصله أن في المهر حقين حقها وهو ما زاد على العشرة إلى مهر مثلها، وحق الشرع وهو العشرة، وللإنسان التصرف في حق نفسه بالإسقاط دون حق غيره. فإذا رضيت بما دون العشرة فقد أسقطت من الحقين فيعمل فيما لها الإسقاط منه وهو ما زاد على العشرة دون ما ليس لها وهو حق الشرع فيجب تكميل العشرة قضاء لحقه، فإيجاب الزائد بلا موجب."

(كتاب النكاح، ‌‌باب المهر، ج:3، ص:321، ط:دار الفكر)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ثم ينظر إن كان المسمى عشرة فصاعدا؛ فليس لها إلا ذلك، وإن كان دون العشرة يكمل عشرة عند أصحابنا الثلاثة."

(كتاب النكاح، الباب السابع في المهر، الفصل الأول في بيان مقدار المهر وما يصلح مهرا وما لا يصلح، ج:1، ص:303، ط:دارالفكر)

وفيه ايضاً:

"والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراءمن صاحب الحق، كذا في البدائع."

(کتاب النکاح , الفصل الثاني فیما یتأکد به المهر و المتعة جلد 1 ص: 303 , 304 ط: دارالفکر)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100336

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں