بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مہر کی ادائیگی پر طلاق کی شرط لگانا اور اس سے بچاؤ کا حیلہ


سوال

ہمارے ہاں عرف و رواج یہ  ہے کہ  بیوی کا کل مہر شادی (رخصتی) سے قبل دیا جاتا ہے ،بعد میں رخصتی ہوجاتی ہے ،والد محترم نے اپنے بیٹے کی منگنی کرائی جس میں نکاح بھی ہوگیا ،اب جب رخصتی کا وقت نزدیک آیا اور والد اور چچا  نے مہر ادا کرنے کا ارادہ کیا،تو لڑکے نے غصے میں آکر یہ کہا کہ"اگر والد یا چچا یا اس گھر کے کسی فرد نے میرا مہر ادا کیا تو میری بیوی مجھ پر طلاق "،لڑکا یہ کہہ رہا ہے کہ وہ خود کمائی کر کے اپنا مہرادا کرے گا۔اب وہ اس بات پر بضد ہے ۔

اب اگر وہ خود مہرادا کرے گا تواس میں وقت لگے گا۔

سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت میں کوئی ایسا حیلہ ہوسکتا ہے جس میں مہر بھی ادا ہوجائے اور وقت بھی نہ لگے،اور طلاق بھی واقع نہ ہو؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص کا مہر اس کے گھر والوں (یعنی والد، چچا وغیرہ) میں سے کسی نے ادا کیا تو  اس نے اس بات کو طلاق کے ساتھ مشروط کر دیا ہے، اس کی بیوی پر  ایک طلاق واقع ہو جائے گی، اور چوں کہ ابھی خلوتِ صحیحہ نہیں ہوئی، اس لیے ایک ہی طلاق کی بنیاد پر بیوی بائنہ ہو جائے گی، اس کے بعد  اگر دونوں باہمی رضامندی سے ساتھ رہنا چاہیں تو اس مہر کے علاوہ نئے مہر، نئے ایجاب و قبول کے ساتھ اور  گواہوں کی موجودگی میں تجدیدِ نکاح ضروری ہو گی۔

البتہ اس کا شرعی حل یہ ہے کہ والد یا چچا یا اس گھر کے کوئی فرد  اس کی طرف سے مہر ادا نہ کریں، بلکہ مہر کی رقم کے برابر رقم  بطورِ ہدیہ (تحفہ) اپنے بیٹے کو دیں، اور ساتھ ہی اسے اس رقم کا قبضہ اور مکمل مالکانہ تصرف بھی دے دیں، تاکہ بیٹا شرعاً اس رقم کا مالک بن جائے، پھر وہ چاہے تو اس رقم سے مہر ادا کرے یا کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرے، اگر وہ انہی پیسوں سے اپنی بیوی کا مہر خود ادا کرتا ہے، تو نہ صرف مہر شرعاً ادا ہو جائے گا، بلکہ طلاق بھی واقع نہیں ہو گی؛ کیوں کہ مہر کی ادائیگی اس کی طرف سے شمار ہو گی، نہ کہ کسی اور کی طرف سے۔

تاہم، یاد رہے کہ طلاق کوئی کھیل نہیں ہے کہ ہر چھوٹی بات پر دے دی جائے۔ علامہ شامیؒ نے لکھا ہے کہ طلاق دینا  اصل میں ممنوع ہے، اور صرف شدید ضرورت کے وقت اس کا استعمال جائز ہوتا ہے ، لہٰذا طلاق جیسے نازک اور سنگین معاملے سے حتی الامکان بچنا چاہیے، کیوں کہ بعض اوقات ایک معمولی بات پوری زندگی اور خاندان کو برباد کر دیتی ہے، اور ہمیشہ کے لیے ندامت اور جدائی کا باعث بن جاتی ہے۔لہٰذا ایسے الفاظ اور شرطوں سے مکمل اجتناب کیا جائے جو طلاق جیسے نتائج تک لے جائیں۔

اللباب میں ہے:

" (وإذا أضافه) أي الطلاق (إلى) وجود (شرط وقع عقيب) وجود (الشرط) وذلك (مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق) ، وهذا بالاتفاق، لأن الملك قائم في الحال، والظاهر بقاؤه إلى وقت الشرط، ويصير عند وجود الشرط كالمتكلم بالطلاق في ذلك الوقت"

(اللباب في شرح الكتاب ،کتاب الطلاق،ج:3، ص:46 ، ط: المكتبة العلمية، بيروت، لبنان)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن ‌فرق ‌الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق."

(کتاب الطلاق، الفصل الرابع  فی   الطلاق قبل الدخول، ج:1،ص:373، ط: دارالفکر)

الکافی شرح أصول البزدوی میں ہے:

"(لأن تبدل الملك أوجب تبدلا في العين حكما) بدليل قصة بريرة رضي الله عنها ((فكار رسول الله عليه السلام دخل على بريرة، فأتت بريرة بتمر، ووضعت بين يدي رسول الله عليه السلام، والقدر كان تلغي باللحم، فقال صلى الله عليه وسلم لبريرة: ألا تجعلين لنا نصيبا من اللحم؟ فقالت: هو لحم تصدق به علي يا رسول الله! قال عليه السلام: هي لك صدقة، ولنا هدية)).

فثبت بهذا أن تبدل الملك يوجب تبدل العين حكما، وهذا لأن تبدل الملك صفة له، وتتبدل الصفة بتبدل العين شرعا، وإن كانت العين واحدة في أصلها."

(باب موجب الأمر فی معنی العموم والتکرار، ج:1، ص:438، ط:مكتبة الرشد للنشر والتوزيع)

فتاوی شامی میں ہے :

"  وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر، بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه، وهو معنى قولهم الأصل فيه الحظر والإباحة للحاجة إلى الخلاص، فإذا كان بلا سبب أصلا لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقا وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها، ولهذا قالوا: إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى، فليست الحاجة مختصة بالكبر والريبة كما قيل، بل هي أعم كما اختاره في الفتح"

(کتاب الطلاق، ج:3، ص:228، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100395

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں