
ایک شخص کی شادی کے موقع پر پانچ تولہ حقِ مہر مقرر ہوا،ایک تولہ شادی کے موقع پر ادا کیا گیا،باقی چار تولہ بعد میں ادا کرنے کا وعدہ کیا گیا،لیکن چھ ماہ بعد لڑکی اپنے میکے چلی گئی،وہاں ان کی بچی ہوئی۔ اب ساڑھے تین سال بعد لڑکا ان کو اپنے گھر لے جانا چاہتا ہے،اور لڑکی اپنے بقایا حقِ مہر کا مطالبہ کررہی ہے،شوہر صاحب استطاعت ہے،مہر ادا کرسکتا ہے۔
کیا عورت کا یہ مطالبہ درست ہے؟کیا شوہر پر ان کا بقایا مہر ادا کرنا ضروری ہے؟
صورت مسئولہ میں جب شوہر نے ایک تولہ حق مہر ادا کیا تھا اور چار تولہ بعد میں ادا کرنے کا وعدہ کیا تو اگر اس کے لئے کوئی مدت(مثلاً سال ،دو سال) مقرر ہو ،تو وقت پورا ہونے پر شوہر پر بقایا حقِ مہر(چار تولہ)ادا کرنا لازم ہے،اور اگر کوئی مدت متعین نہیں کی گئی تھی ،تو بیوی کو مہر کےمطالبہ کا حق ہے،تاہم یہ بات ملحوظِ خاطر رہے کہ حقِ مہر شوہر کے ذمے ایک واجب الادا قرض ہے، اس لیے اس کی ادائیگی میں بلاوجہ تاخیر نہیں کرنی چاہیے، بلکہ حتی المقدور جلد از جلد ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ آخرت میں جواب دہی سے محفوظ رہ سکے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولو قال نصفه معجل ونصفه مؤجل كما جرت العادة في ديارنا ولم يذكر الوقت للمؤجل اختلف المشايخ فيه قال بعضهم لا يجوز الأجل ويجب حالا وقال بعضهم يجوز ويقع ذلك على وقت وقوع الفرقة بالموت أو بالطلاق وروى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - ما يؤيد هذا القول، كذا في البدائع."
( کتاب النکاح، الباب السابع فی المہر، ج:1، 318 ، ط : دارا لفکر )
بدائع الصنائع میں ہے:
"فأما إذا كان مؤجلا بأن تزوجها على مهر آجل فإن لم يذكر الوقت لشيء من المهر أصلا بأن قال: تزوجتك على ألف مؤجلة، أو ذكر وقتا مجهولا جهالة متفاحشة بأن قال: تزوجتك على ألف إلى وقت الميسرة أو هبوب الرياح أو إلى أن تمطر السماء فكذلك؛ لأن التأجيل لم يصح لتفاحش الجهالة فلم يثبت الأجل ولو قال: نصفه معجل ونصفه مؤجل كما جرت العادة في ديارنا ولم يذكر الوقت للمؤجل اختلف المشايخ فيه قال بعضهم: لا يجوز الأجل ويجب حالا كما إذا قال: تزوجتك على ألف مؤجلة. وقال بعضهم: يجوز ويقع ذلك على وقت وقوع الفرقة بالطلاق أو الموت."
( کتاب النکاح، فصل بيان ما يجب به المهر،ج: 2،ص: 288، ط : دار الكتب العلمية )
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144711101236
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن