بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1447ھ 05 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مہر اور منہ دکھائی بیوی کی ملکیت ہیں


سوال

میری شادی کو ایک سال اور پانچ ماہ گزر چکے ہیں، میرے نکاح کے وقت پچاس ہزار نقد حق مہر مقرر کیا گیا تھا، پھر نکاح سے ایک روز قبل میری ساس نے میری والدہ سے فون پر کہا کہ: ”ہم حق مہر میں سونے کی کوئی چیز دیں گے، اور باقی رقم نقد ادا کر دیں گے۔“

میرے سسر کا انتقال دس سال قبل ہو چکا ہے، نکاح کے دن جب دونوں خاندان جمع تھے ، اس وقت میری ساس نے سب کے سامنے، اپنے خاندان والوں اور میرے خاندان والوں کو، ایک سونے کا بریسلیٹ دکھایا اور کہا: ”یہ حق مہر ہے، 38 ہزار روپے کا ہے، باقی کے 12 ہزار لڑکی کو دے دیں گے۔“پھر رخصتی کے دوسرے دن صبح، میری ساس نے میرے شوہر کے سامنے مجھے ایک سونے کا لاکٹ دیا اور کہا: ”یہ آپ کی منہ دکھائی ہے۔“

کچھ ماہ بعد، میری ساس نے میرے شوہر کے ذریعے مجھ سے وہ بریسلیٹ واپس لے لیا اور کہا: ”یہ تو میں نے آپ کو اپنی طرف سے دیا تھا۔“ جب میں نے کہا کہ: ”یہ تو حق مہر کا تھا!“ تو وہ لوگ مکر گئے اور کہا: ”جو لاکٹ دیا تھا، وہ حق مہر تھا، بریسلیٹ تو میں نے تحفے کے طور پر دیا تھا۔“جب میں نے یہ بات اپنے خاندان سے معلوم کی تو سب نے کہا: ”ہمیں تو نکاح کے وقت بریسلیٹ دکھایا گیا تھا کہ یہ حق مہر ہے۔“

اب سوال یہ ہے:

 کیا یہ حق مہر ادا ہو چکا ہے؟ اگر وہ بریسلیٹ تحفہ تھا، تو کیا اسے واپس لینا جائز ہے؟ اس  بات سے میرے شوہر پرکیا حکم لاگو ہوگا؟

براہِ کرم، مجھے اس صورت حال کا شرعی حل بتائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں نکاح کے وقت پچاس ہزار روپے حق مہر طے ہوا تھا، اور نکاح سے قبل اس میں سے کچھ مقدار سونے کے بریسلیٹ کی صورت میں دینے پر اتفاق ہوا تھا، چنانچہ نکاح کے موقع پر جو بریسلیٹ مہر کے طور پر سب کے سامنے پیش کیا گیا اور باقی بارہ ہزار روپے نقد مقرر ہوئے، یہ دونوں مہر میں شامل ہیں اور شرعاً سائلہ کا حق ہے، جنہیں سائلہ کی رضامندی کے بغیر واپس لینا جائز نہیں تھا۔

رخصتی کے بعد منہ دکھائی کے طور پر دیا گیا سونے کا لاکٹ تحفہ شمار ہوگا، اور یہ بھی سائلہ کی ملکیت ہے، لہٰذا اس کا واپس لینا بھی جائز نہیں۔لہذا مہر کے طور پر جو دیا گیا بریسلٹ ساس نے واپس لیا ہے اس کا واپس کرنا ساس پر لازم ہے۔

الدر مع الرد میں ہے:

"(وجاز) (التصرف في الثمن).....(قبل قبضه) سواء (تعين بالتعيين)كمكيل (أو لا) كنقود فلو باع إبلا بدراهم أو بكر بر جاز أخذ بدلهما شيئا آخر (وكذا الحكم في كل دين قبل قبضه كمهر وأجرة وضمان متلف) وبدل خلع وعتق بمال وموروث وموصى به.

والحاصل: جواز التصرف في الأثمان والديون كلها قبل قبضها عيني. (قوله: وكذا الحكم في كل دين) أي يجوز التصرف فيه قبل قبضه، لكن بشرط أن يكون تمليكا ممن عليه بعوض أو بدونه كما علمت، ولما كان الثمن أخص من الدين من وجه كما قررناه بين أن ما عداه من الدين مثله. (قوله: كمهر إلخ) وكذا القرض قال في الجوهرة وقد قال الطحاوي: إن القرض لا يجوز التصرف فيه قبل قبضه وهو ليس بصحيح اهـ."

(كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، ‌‌فصل في التصرف في المبيع والثمن قبل القبض والزيادة والحط فيهما وتأجيل الديون، مطلب في بيان الثمن والمبيع والدين، ج: 5، ص: 152/153، ط: سعيد)

فتاویٰ شامی ہے:

"قلت: ‌ومن ‌ذلك ‌ما ‌يبعثه ‌إليها ‌قبل ‌الزفاف في الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر."

(كتاب النكاح، باب المهر، مطلب فيما يرسله إلى الزوجة، ج: 3، ص: 153، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144702100991

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں