
ہمارے علاقے میں نکاح کے موقع پر عام طور پر سویا دو سو مثقال سونا حق مہر مقرر کیا جاتا ہے،جو کہ آج کل کے حساب سے بہت زیادہ ہے،بعض دفعہ زوجین اور ان کے گھر والوں کی طرف سے باہمی رضامندی سے فی مثقال سونے کی قیمت پانچ ہزار یا دس ہزار روپے پاکستانی مقرر کی جاتی ہے جو کہ حق مہر کی مناسب مقدار بنتی ہے،تو کیا اس طرح فی مثقال سونا کی قیمت باہمی رضامندی سے پانچ ہزار یا دس ہزار مقرر کرنا درست ہے؟یا دوسری صورت یہ ہو کہ سو یا دو سو مثقال سونا کی قیمت جوکہ پانچ ہزار یا دس ہزار روپے کے حساب سے بنتی ہے اس رقم کو حق مہر مقرر کیا جائے؟
حق مہر میں اگر سو یا دو سو مثقال سونا دینا طے پایا ہوتو مذکورہ مقدار میں سونایا اس کی موجودہ قیمت بطور حق مہر ادا کی جائے گی،اور اگر سونا حق مہرمیں دیناطے پایا ہے اور اس کے ساتھ باہمی رضامندی سے فی مثقال سونے کی قیمت مارکیٹ ریٹ سے کم مقرر کی ہے تو سونا اور اس کی مقرر کردہ قیمت دونوں ادا کرنا شرعاجائز ہے،اور اگر صرف رقم کو مہر بنایا گیا ہے تو رقم ہی ادا کی جائے گی۔
باقی اگر رقم ہی ادا کرنا مطلوب ہے تو حق مہر رقم کی صورت میں ہی طے کرلی جائے،یا جتنا سونا ادا کرنے کی استطاعت ہو اتنا ہی حق مہر میں طے کیا جائے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"(ثم الأصل) في التسمية أنها إن صحت وتقررت يجب المسمى."
(كتاب النكاح، الباب السابع، الفصل الأول، ج1، ص303، ط: دارالفكر)
العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:
"(سئل) في رجل استقرض من آخر مبلغا من الدراهم وتصرف بها ثم غلا سعرها فهل عليه رد مثلها؟
(الجواب) : نعم ولا ينظر إلى غلاء الدراهم ورخصها كما صرح به في المنح في فصل القرض مستمدا من مجمع الفتاوى."
(باب القرض،ج1،ص279،دار المعرفة)
فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:
"وفي العتابية: من استقرض فغلت أو رخصت فعليه مثل ما قبض، ولا ينظر إلى الغلاء أو الرخص، كمن استقرض حنطة فارتفع سعرها و غلا أو رخص."
(كتاب البيوع، الفصل الرابع والعشرون في القروض مايجوز استقراضه، ج9، ص394، ط: مكتبة زكريا)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706102069
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن