بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سسر کا مہر میں مکان بغیر قبضہ کے دینے سے ملکیت کا حکم


سوال

سسر نے اپنی تمام بہوؤں کو حق مہر میں زیور  اور  رقم کے ساتھ گھر میں سے حصے دیے تھے، کسی کو کم اور کسی زیادہ، اور بیٹی کو کچھ نہیں دیا، اب وہ گھر بک گئے ہیں، بیعانہ لے لیا گیا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ مکان بہوؤں کے حوالے نہیں کیا گیا تھااور نہ ہی قبضہ و تصرف دیا گیا تھا۔ اب یہ گھر کس طرح تقسیم ہوگا؟ وراثت میں جائے گا یا تمام بہوؤں کو حق مہر میں دیا جائے گا؟ جس جس بہو کو جتنا دیا گیا ہے، منسلکہ نکاح نامہ میں موجود ہے۔

وضاحت: شادی کے بعد تمام بہوئیں اسی گھر میں آئی تھیں، اسی میں ان کو کمرہ بطور رہائش دیا گیا تھالیکن کوئی متعین کمرہ بطور مہر کے نہیں دیا گیا تھا بلکہ نکاح نامہ کی تحریر کے مطابق مہر میں مکان کسی کو ایک چوتھائی ، کسی کو نصف مکان ، اس طرح نکاح نامہ میں مذکور ہے

جواب

واضح رہے کہ نکاح کے وقت جو مہر متعین کیا جاتا ہے، وہ ادا کرنا اصلا تو شوہر کے ذمہ لازم ہوتا ہے، لیکن اگر شوہر کی طرف سے اس کے والدادا کردیں تو اس سے بھی مہر ادا ہوجاتا ہے تاہم اس کے لیے بہو کا قبضہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔

صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کا اپنی بہوؤں کو متعین شدہ مہر میں سے زیوراور رقم دینے اور اس پر بہوؤں کے قبضہ کرنے سے مہر کی اتنی مقدار تو ادا ہوجائے گی، لیکن مہر میں چوں کہ نکاح نامہ میں مکان کے مقرر کردہ حصے نہیں دیے گئے تھےاور شادی کے موقع پر جو کمرے دیے گئے تھے وہ عام عرف کے مطابق بطور رہائش دیے گئے تھے، بطور مہر نہیں دیے گئے تھے،لہذا متعین مکان کے حصے، اگر سسر نے اپنے انتقال  تک بہوؤں کے قبضہ میں، قبضہ کی تمام شرائط پوری کرتے ہوئے تمام تر نہیں دیے تھے تو مہر میں مکان کے حصے کے بقدر مہر ادا نہیں ہوگا، اور مذکورہ مکان مرحوم سسر کے ترکہ میں شامل ہو کر تمام ورثاء میں میراث کے شرعی اصول کے مطابق تقسیم ہوگا، نیز مہر میں چوں کہ مکان کا حصہ متعین کیا گیا تھا، لہذا اب مکان فروخت ہونے کے بعد  اس کی ادائیگی مرحوم کے ان بیٹوں کے ذمہ لازم ہوگی، بایں طور کہ ہر ایک کے ذمہ لازم ہے کہ اپنی اپنی  بیوی کے مہر میں مکان کے متعینہ حصے کی مالیت کے عوض رقم ادا کرے۔

رد المحتار میں ہے :

"[فرع] في الفيض: ولو أعطى ضيعة بمهر امرأة ابنه ولم تقبضها حتى مات الأب فباعتها المرأة لم يصح إلا إذا ضمن الأب المهر ثم أعطى الضيعة به فحينئذ لا حاجة إلى القبض."

(کتاب النکاح، مطلب في ضمان الولي المھر، ج: 3، ص: 143، ط: سعید)

و فیہ ایضا:

"‌لأن ‌المهر مال يلزمه ذمة الزوج ولا يلزم الأب بالعقد، إذ لو لزمه لما أفاد الضمان شيئا بحر."

(کتاب النکاح، مطلب في ضمان الولي المھر، ج: 3، ص: 141، ط: سعید)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144705100098

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں