بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تین بیٹے اور چار بیٹیوں میں تقسیم میراث


سوال

میری والدہ کا انتقال ہو چکا ہے، ورثاء میں تین بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں، ترکہ میں زیورات چھوڑے ہیں، جن کی مالیت1699486 روپے ہے، مذکورہ ترکہ تمام ورثاء میں تقسیم فرما دیں، میرے نانا، نانی کا انتقال پہلے ہو چکا ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحومہ کے حقوقِ متقدمہ یعنی کفن، دفن کا خرچہ ( اگر کسی نے بطورِ قرض کیا ہو تو وہ  )نکالنے کے بعد،اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی قرض ہو تو وہ ادا کرنے کے بعد، اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ایک تہائی ترکہ میں اسے نافذ کرنے کے بعد ، باقی کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 10   حصوں میں تقسیم کر کے دو ،دو حصے کر کے ہر ایک بیٹے کو اور ایک ایک حصہ کر کے ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔

صورتِ تقسیم یہ ہے :

میت: 10

بیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
2221111

یعنی 1699486 روپے میں سے 339897.2 روپے ہر ایک بیٹے کو اور 169948.6 روپے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101448

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں