
میری والدہ کا انتقال ہو چکا ہے، ورثاء میں تین بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں، ترکہ میں زیورات چھوڑے ہیں، جن کی مالیت1699486 روپے ہے، مذکورہ ترکہ تمام ورثاء میں تقسیم فرما دیں، میرے نانا، نانی کا انتقال پہلے ہو چکا ہے۔
صورتِ مسئولہ میں مرحومہ کے حقوقِ متقدمہ یعنی کفن، دفن کا خرچہ ( اگر کسی نے بطورِ قرض کیا ہو تو وہ )نکالنے کے بعد،اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی قرض ہو تو وہ ادا کرنے کے بعد، اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ایک تہائی ترکہ میں اسے نافذ کرنے کے بعد ، باقی کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 10 حصوں میں تقسیم کر کے دو ،دو حصے کر کے ہر ایک بیٹے کو اور ایک ایک حصہ کر کے ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔
صورتِ تقسیم یہ ہے :
میت: 10
| بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 2 | 2 | 2 | 1 | 1 | 1 | 1 |
یعنی 1699486 روپے میں سے 339897.2 روپے ہر ایک بیٹے کو اور 169948.6 روپے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101448
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن