
کسی مرحوم کی وراثت میں ایک گھر ہے ، ایک بیوہ، دو لڑکے، اور تین لڑکیاں ہیں، پانچوں بچے شادی شدہ ہیں، پھر ان کی وراثت کس طرح تقسیم ہو گی؟کس کا کتنا حصہ بنے گا؟
صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی کفن، دفن کا خرچہ ( اگر کسی نے بطورِ قرض کیا ہو تو وہ ) نکالنے کے بعد،اگر مرحوم کے ذمے کوئی قرض ہو تو وہ ادا کرنے کے بعد، اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی ترکہ میں اسے نافذ کرنے کے بعد ، باقی کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو آٹھ حصوں میں تقسیم کر کےایک حصہ مرحوم کی بیوہ کو، دو، دو حصے کرکے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو اور ایک ایک حصہ کر کے ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
میت : 8
| بیوہ | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 1 | 2 | 2 | 1 | 1 | 1 |
یعنی فیصد کے حساب سے 12.50 روپے بیوہ کو،25 روپے کر کے الگ الگ ہر ایک بیٹے کو، اور 12.50 روپے کر کے الگ الگ ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101937
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن