
میرے بھائی کا انتقال ہوا ہے، اس کے ترکہ میں تین پلاٹ ہیں، اور ورثاء میں، بیوہ، والد، دو بیٹے، دو بیٹیاں ہیں،تو یہ مذکورہ پلاٹ مرحوم کے ورثاء پر کس حساب سے تقسیم کئے جائیں گے؟
صورتِ مسئولہ میں مرحوم بھائی کے حقوقِ متقدمہ یعنی کفن، دفن کا خرچہ( اگر کسی نے بطورِ قرض کیا ہو تو وہ ) نکالنے کے بعد،اگر مرحوم کے ذمے کوئی قرض ہو تو وہ ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ایک تہائی ترکہ میں اسے نافذ کرنے کے بعد ، باقی کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 144 حصوں میں تقسیم کر کے 18 حصے مرحوم کی بیوہ کو،24 حصے والد کو، 34 حصے کرکے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو اور 17 حصے کر کے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
میت: 24 / 144
| بیوہ | والد | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی |
| 3 | 4 | 17 | |||
| 18 | 24 | 34 | 34 | 17 | 17 |
یعنی فیصد کے حساب سے 100 روپے میں سے12.50 روپے بیوہ کو، 16.66 روپے والد کو،23.61 روپے ہر ایک بیٹے کو اور 11.80 روپے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔ فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706100362
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن