بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

میراث:ایک بیوہ، ایک بیٹی اور ایک بھائی کے درمیان ترکہ کی تقسیم، بھتیجے محروم


سوال

ہمارے والدین کا بہت پہلے انتقال ہو چکا ہے، ہم پانچ بھائی تھے جن میں سے صرف ایک بھائی زندہ ہے، یعنی میں، باقی چار کا انتقال ہو گیا ہے، ابھی فروری 2025 میں سب سے آخر میں مجھ سے بڑے بھائی کا انتقال ہوا ہے، اس کے ورثا میں ایک بیٹی، ایک بیوہ، میں ایک بھائی اور تین مرحوم بھائیوں کی اولاد ہے، اب اس کی وراثت میں کس کس کو کتنا کتنا حصہ ملے گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  آپ کے مرحوم بھائی کے ترکہ کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے ترکہ  میں سے حقوقِ  متقدمہ  یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو، تو  اسے ادا کرنے کے بعد، اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو  تو اسے  باقی مال کے ایک تہائی حصے میں سے نافذ کرنے کے بعد، باقی کل متروکہ  جائیداد منقولہ و غیر منقولہ 8 حصوں میں تقسیم کرکےاس میں سے ایک (1) حصہ مرحوم کی بیوہ کو، چار (4) حصے مرحوم کی اکلوتی بیٹی کو اور تین (3) حصے مرحوم کے زندہ بھائی (یعنی آپ) کو ملیں گے۔ مرحوم کے بھتیجوں کو مرحوم کے ترکے میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا۔

صورتِ تقسیم یہ ہے: 

میت : 8

بیوہبیٹیبھائی
143

فیصد کے اعتبار سے 12.5 فیصد مرحوم کی بیوہ کو، 50 فیصد مرحوم کی اکلوتی بیٹی کو اور 37.5 فیصد مرحوم کے زندہ بھائی (یعنی آپ) کو ملیں گے۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"وأما الاثنان من السبب فالزوج والزوجة ... وللزوجة الربع عند عدمهما والثمن مع أحدهما، والزوجات والواحدة يشتركن في الربع والثمن وعليه الإجماع، كذا في الاختيار شرح المختار." 

(كتاب الفرائض،الباب الثاني في ذوي الفروض،ج:6/ 450، ط: رشيدية)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"وأما النساء فالأولى البنت ولها النصف إذا انفردت وللبنتين فصاعدا الثلثان، كذا في الاختيار شرح المختار وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين، كذا في التبيين."

(كتاب الفرائض،الباب الثاني في ذوي الفروض،ج: 6/ 448، ط: رشيدية)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"وهم كل من ليس له سهم مقدر ويأخذ ما بقي من سهام ذوي الفروض وإذا انفرد أخذ جميع المال، كذا في الاختيار شرح المختار.فالعصبة نوعان: نسبية وسببية، فالنسبية ثلاثة أنواع: عصبة بنفسه وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى وهم أربعة أصناف: جزء الميت وأصله وجزء أبيه وجزء جده، كذا في التبيين فأقرب العصبات الابن ثم ابن الابن وإن سفل  وإن سفل ثم الأب ثم الجد أب الأب وإن علا، ثم الأخ لأب وأم، ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ لأب وأم."

(كتاب الفرائض،الباب الثالث في العصبات،ج: 6/ 451، ط: رشيدية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100321

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں