بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الاول 1444ھ 28 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

ایک بھائی اور 4 بہنوں میں وراثت کی تقسیم


سوال

ایک شخص فوت ہوا، اس کے ورثاء میں 4 بہنیں اور ایک بھائی ہیں، ان میں ترکہ کیسے تقسیم کیا  جائے گا؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مرحوم  کی میراث  کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے حقوقِ  متقدمہ یعنی تجہیز  و  تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد ، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو اسے ادا کرنے کے بعد ،اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ میں سے نافذ کرنے کے بعد، باقی کل ترکہ  کو6 حصوں میں تقسیم کرکے 2 حصے بھائی کو اور ایک  ایک حصہ بہن کو ملے گا۔

یعنی فیصد کے اعتبار سے 33.33% بھائی کو اور 16.66% ہر بہن کو ملے گا۔ فقط واللہ اعلم

نوٹ : یہ تقسیم اس صورت میں ہے جب مذکورہ شخص کے انتقال کے وقت اس کے والدین، اس کی بیوہ یا بچوں میں سے کوئی نہ ہو۔


فتوی نمبر : 144206200780

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں