بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

میڈیکل ٹیسٹ میں فیصد بڑھانے کے لئے پیسوں پر نمبرات خریدنے کا حکم


سوال

سوال یہ ہے کہ ایک طالب علم  کو اسکول کے امتحانات میں بھرپور محنت اور کوشش  کے باوجود امتحان کے نتائج میں کم نمبرات کے ساتھ کامیابی حاصل ہوتی ہے ،جس کی بنیادی وجہ یہ ہے ،کہ بعض طلبہ باقاعدہ نمبرات خریدتے ہیں ،اور ان کو ان کی اہلیت سے زائد نمبرات پیسوں سے ملتے ہیں  ،اور کچھ طلبہ محنت کے باوجود وہ نمبرات حاصل نہیں کرپاتے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں ،وجہ وہی ہے جو اوپر ذکر کی گئی  ۔

دوسری بات یہ ہے کہ یہی طلبہ آگے جاکر میڈیکل ٹیسٹ میں حصہ لیتے ہیں ،اس ٹیسٹ میں سابقہ کلاسوں یعنی میٹرک اور ایف اے سی کے نمبرات جمع ہوتے ہیں اور ان کلاسوں کے نمبرات کی وجہ سے ان کے ٹیسٹ کے فیصدوں میں اضافہ ہوتا ہے ،جس کے سابقہ کلاسوں میں جتنے نمبرات ہوتے ہیں  اس کے اسی نمبروں کے بقدر موجودہ میڈیکل ٹیسٹ میں  فیصد بڑھ جاتے ہیں ۔

اس سے اگلے مرحلے میں یعنی کالج میں سیٹ صرف ان طلبہ کو ملتی ہے  جن  کے فیصد ٹیسٹ میں زیادہ ہوں  ،تو بعض طلبہ نے نمبرات خرید کر فیصد بڑھائے ہوتے ہیں ، جس کے نتیجے میں وہ طلبہ جو اپنی محنت پر کامیابی کے منتظر رہتے ہیں اپنا حق حاصل نہیں کرپاتے ۔

لہذا مذکورہ صورت حال  میں اگر کوئی طالب علم محض اپنے حق کے حصول کے لئے نمبرات خریدے ، تاکہ اس کو آگے جانے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو ،تو ایسا کرنا شرعا جائز ہے یا ناجائز ؟شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔

جواب

تعلیم ہر قوم کی ترقی، کامیابی اور روشن مستقبل کی بنیاد ہوتی ہے، یہی وہ دولت ہے جو انسان کو شعور، اخلاق اور زندگی میں آگے بڑھنے کا راستہ دکھاتی ہے،اور انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر ایک مہذب راستے پر گامزن کرتا ہے ، تعلیم یافتہ قومیں ہی دنیا میں عزت اور ترقی حاصل کرتی ہیں، کیونکہ تعلیم انسان کے کردار اور سوچ کو بہتر بناتی ہے، مگر افسوس کہ آج کل امتحانات میں نقل کا رجحان بڑی  تیزی سے بڑھتا جارہا ہے، جس کی وجہ سے محنت اور قابلیت کی قدر کم ہوتی جارہی ہے، نقل نہ صرف طلبہ کی صلاحیتوں کو تباہ کرتی ہے بلکہ قوم کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال دیتی ہے، آپ تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں کہ جو قومیں علم کی اقدار سے متعارف تھیں  ،وہ کہاں سے کہاں تک پہنچ گئیں ،خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کو دیکھا جائےکہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پہلے عرب میں کس طرح کی جاہلیت تھی ،کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا ،لیکن وہی قوم جب معلم کائنات سے تعلیم حاصل کرتی ہے ،تو پوری دنیا میں ان جیسی مہذب قوم کہیں اور نہیں ملتی ،تو یہ سب کچھ تعلیم کی بدولت ممکن ہوا ،کہ جو قوم جاہلیت میں سب سے آگے تھی،آج وہی قوم سب سے زیادہ شریف اور مہذب بن چکی۔

لہذا امتحانات میں پیسوں کے ذریعے نمبرات خریدنا یا فیصد بڑھانا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، کیونکہ یہ رشوت، خیانت، دھوکہ دہی اور دوسروں کے حقوق تلف کرنے کے مترادف ہے،  شریعتِ مطہرہ میں رشوت لینا اور دینا دونوں سخت گناہ قرار دیے گئے ہیں، اور احادیثِ مبارکہ میں رشوت لینے والے اور  دینے والے  پر  سخت وعید یں آئی ہیں ۔

 صورتِ مسئولہ میں  موجودہ نظام تعلیم میں بہت سی کمزوریاں پائی جاتی ہیں ،اور دیگر شعبوں کی طرح اس حساس شعبہ میں رشوت ستاتی کا مرض لاحق ہونا یقینا ًافسوسناک بات ہے ،تاہم اس کا حل یہ نہیں کہ رشوت ستاتی کے مرض کا علاج  بھی رشوت دہی سے کیا جائے ،بلکہ سب کو اس کے ازالہ کی فکر کرنا چاہیے ۔

بہرحال سائل کا  موجودہ صورتحال کو بنیاد بناکر پیسوں کے ذریعے ٹیسٹ یا امتحان میں نمبرات خریدنا جائز نہیں،کیونکہ یہ رشوت اور خیانت کے زمرے میں آتا ہے ،کسی اور کا ناجائز کام میں مبتلا ہونا آپ کے لئے دلیل جواز نہیں بنتا،کیونکہ ہر کسی کو قیامت کے دن اپنے اعمال کا جوابدہ ہونا ہے ،مزید یہ کہ اس قسم کے اعمال کی وجہ سے معاشرے میں بدعنوانی، ناانصافی اور نااہل افراد کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں اہل اور محنتی طلبہ کے حقوق متاثر ہوتے ہیں، اور معاشرے میں تعلیم کی اہمیت کم ہوتی ہے ، اس لیے ایسے تمام ذرائع سے بچنا ضروری ہے جو خیانت اور فساد کا سبب بنیں۔البتہ اگر کسی کو اس کا ثابت شدہ حق بغیر  رشوت کے نہ ملتا ہو ،تو اس صورت میں دینے والا گناہ گار نہیں ہوگا ،بلکہ لینے والا گناہ گار ہوگا،اور مذکورہ صورت میں کیونکہ سائل کا حق ثابت شدہ  ہے ہی نہیں ،جس کی وجہ سے اس کے لئے رشوت دینا ناجائز اور حرام ہے ۔

لہذا سائل کو چاہیے کہ اس قسم کے کاموں سے اپنے آپ کو بچائے اور خوب محنت کرے،اور اپنی محنت کے ذریعے ہی اس مقام کو حاصل کرے ۔

قرآن کریم میں باری تعالی کا ارشاد ہے :

﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ ﴾ [البقرة: 188] 

﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴾ [الأنفال: 27]

سنن ابی داود میں ہے :

"عن عبد الله بن عمرو قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي".

 (كتاب القضاء ،باب في كراھية الرشوة ،ج:3، ص:  326،  ط: المطبعة الانصارية )

صحيح البخاری میں ہے:

"عن ابن عمر رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:«إن الغادر يرفع له لواء يوم القيامة، يقال: هذه غدرة فلان بن فلان»".

(‌‌كتاب الأدب، باب ما يدعى الناس بآبائهم، ج:8، ص:  41،  ط:  السلطانية)

فتاوی شامی میں ہے :

"(قوله: أخذ القضاء برشوة) بتثليث الراء قاموس وفي المصباح الرشوة بالكسر ما يعطيه الشخص الحاكم وغيره ليحكم له أو يحمله على ما يريد، جمعها رشا مثل سدرة وسدر، والضم لغة وجمعها رشا بالضم اهـ وفيه البرطيل بكسر الباء الرشوة وفتح الباء عامي.

وفي الفتح: ثم الرشوة أربعة أقسام: منها ما هو حرام على الآخذ والمعطي وهو الرشوة على تقليد القضاء والإمارة.

الثاني: ارتشاء القاضي ليحكم وهو كذلك ولو القضاء بحق؛ لأنه واجب عليه.

الثالث: أخذ المال ليسوي أمره عند السلطان دفعا للضرر أو جلبا للنفع وهو حرام على الآخذ فقط.

الرابع: ما يدفع لدفع الخوف من المدفوع إليه على نفسه أو ماله حلال للدافع حرام على الآخذ؛ لأن دفع الضرر عن المسلم واجب ولا يجوز أخذ المال ليفعل الواجب، اهـ ما في الفتح ملخصا".

(كتاب القضاء ،مطلب في الكلام علي الرشوة والھدية ، ج:5، ص:  362، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101363

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں