بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

میڈیکل سٹور کا زکٰوۃ ادا کرنے کا طریقہ


سوال

میڈیکل سٹور کی  زکوٰۃ کیسے ادا  کی  جائے  ؟ 

جواب

صورت مسئلہ میں  میڈیکل اسٹور پر جتنی بھی دوائیاں اور دیگر اشیاء  برائے فروخت ہوں  ان کی قیمت فروخت کے اعتبار سے مجموعی  مالیت لگائی جائے پھراس کاڈھائی فیصد زکاۃ کے طور پر ادا کیا جائے گا  ۔

ملحوظ رہے کہ ان اشیاء کی مالیت کا اندازہ  ان کی قیمت فروخت کے حساب سے لگایا جائے گا ۔

فتاوی شامی میں ہے : 

"(واللازم)مبتدأ (في مضروب كل) منهما (ومعموله ولو تبرا أو حليا مطلقا) مباح الاستعمال أو لا ولو للتجمل والنفقة؛ لأنهما خلقا أثمانا فيزكيهما كيف كانا (أو) في (عرض تجارة قيمته نصاب) الجملة صفة عرض وهو هنا ما ليس بنقد.

وأما عدم صحة النية في نحو الأرض الخراجية فلقيام المانع كما قدمنا لا لأن الأرض ليست من العرض فتنبه (من ذهب أو ورق) أي فضة مضروبة، فأفاد أن التقويم إنما يكون بالمسكوك عملا بالعرف (مقوما بأحدهما) إن استويا، فلو أحدهما أروج تعين التقويم به؛ ولو بلغ بأحدهما نصابا دون الآخر تعين ما يبلغ به، ولو بلغ بأحدهما نصابا وخمسا وبالآخر أقل قومه بالأنفع للفقير سراج (ربع عشر) خبر قوله اللازم."

( رد المحتار على الدر المختار ، كتاب الزكاة، باب زكاة المال ، ج : 2 ، ص : 297  إلى 299 ، الناشر : سعيد) 

بدائع الصنائع میں ہے :

"وأما مقدار الواجب من هذا النصاب فما هو مقدار الواجب من نصاب الذهب والفضة وهو ربع العشر ؛ لأن نصاب مال التجارة مقدر بقيمته من الذهب والفضة فكان الواجب فيه ما هو الواجب في الذهب والفضة وهو ربع العشر ، ولقول النبي : صلى الله عليه وسلم { هاتوا ربع عشور أموالكم } من غير فصل."

(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع  ، كتاب الزكاة ، فصل في نصاب الواجب من التجارة ، ج :2 ، ص : 417 ، الناشر : دار الكتب العلمية) 

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144509100747

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں