بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

میڈیکل بلر اور میڈیکل کوڈر کی تنخواہ کا حکم


سوال

1-میڈیکل بلر کی تنخواہ جائز ہے یا نہیں؟ جس کی تفصیل یہ ہے کہ پاکستان میں اور انٹرنیشنل لیول پر، خاص طور پر امریکہ میں، چوں کہ علاج بہت مہنگا ہے اور اسی مہنگائی کی وجہ سے لوگ ہیلتھ انشورنس کے ذریعے علاج کرواتے ہیں، جیسا کہ یو اے ای اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بھی ہیلتھ انشورنس لازم ہوتی ہے، تو اسی پس منظر میں میڈیکل بلنگ کا ایک کورس کروایا جاتا ہے، جس کے بعد جب کسی کو جاب ملتی ہے تو اس کا کام ہوتا ہے کہ ہیلتھ انشورنس سے علاج کی رقوم کلیم کروائے کہ واقعی علاج ہوا ہے؛ اب اگر میں میڈیکل بلنگ کا کام کرتا ہوں، پاکستان میں بھی اور امریکہ میں بھی، اور آن لائن کام کے بدلے فی گھنٹہ معاوضہ لیتا ہوں، جہاں ایک مریض ڈاکٹر کے پاس آتا ہے، ڈاکٹر اسے دیکھتا ہے، بیماری کی تشخیص کرتا ہے، کچھ ٹیسٹ لکھ کر دیتا ہے اور دوائیں تجویز کرتا ہے، اور مریض ڈاکٹر کو ایک روپیہ بھی نہیں دیتا کیوں کہ اس نے پہلے سے ہی ہیلتھ انشورنس کروا رکھی ہوتی ہے تو اس صورت میں ڈاکٹر مجھے، یعنی میڈیکل بلنگ کرنے والے کو ہائر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ مریض کا ریکارڈ ہے، یہ علاج پر خرچ آیا ہے، مجھے مریض کی انشورنس کمپنی سے کلیم دلوا دو؛ میں وہ تمام ریکارڈ انشورنس کمپنی کے سامنے رکھتا ہوں اور انہیں یہ یقین دلاتا ہوں کہ واقعی علاج ہوا ہے، ٹیسٹ کیے گئے ہیں اور یہ خرچہ آیا ہے، جس کے بعد انشورنس کمپنی کلیم کر دیتی ہے اور پیسے ڈاکٹر کو دے دیتی ہے، اور پھر ڈاکٹر مجھے میرے کام کی فیس یا فی گھنٹہ تنخواہ ادا کرتا ہے، اور میں یوں ڈاکٹر اور انشورنس کمپنی کے درمیان تھرڈ پارٹی کا کردار ادا کرتا ہوں، تو کیا میری یہ تنخواہ شرعاً جائز ہے؟ جب کہ میرا کام صرف کلیم کروانا تھا اور میں نے اس پر سروس فیس لی؟ اور مزید یہ کہ میڈیکل بلر کو صرف ڈاکٹر ہی نہیں بلکہ بعض اوقات ہسپتال بھی ہائر کرتے ہیں تاکہ جو بھی مریض ہمارے ہسپتال آئے گا، اس کا انشورنس سے کلیم کروایا جا سکے، اور بعض صورتوں میں انشورنس کمپنیاں خود بھی میڈیکل بلر کو ہائر کرتی ہیں، تو ان تینوں نوعیت کی نوکریوں (ڈاکٹر کے لیے، ہسپتال کے لیے، اور انشورنس کمپنی کے لیے) کی شرعی حیثیت واضح فرمائیں کہ آیا تین صورتوں میں یہ تنخواہ جائز ہے یا نہیں؟

2-میڈیکل کوڈر کی تنخواہ جائز ہے یا نہیں؟جس کی تفصیل یہ ہے کہ جب ایک مریض ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے، ڈاکٹر بیماری کی تشخیص کرتا ہے، ٹیسٹ لکھتا ہے اور یہ تمام تفصیلات ایک پرچی پر درج کرتا ہے، جو سب سے پہلے میڈیکل کوڈر کے پاس جاتی ہیں، کیونکہ ڈاکٹر کی لکھی ہوئی تحریر، ٹیسٹ اور تشخیص میڈیکل بلر کو براہِ راست سمجھ نہیں آتیں، تو کیا ایسی صورت میں جب میرا کام صرف میڈیکل کوڈنگ کا ہو، یعنی ڈاکٹر کی پرچی کو مخصوص کوڈز میں تبدیل کرنا ہو، اور پھر یہی پرچی میڈیکل بلر کے پاس جاتی ہو، تو اس کوڈنگ کے کام کی تنخواہ شرعاً جائز ہو گی، خاص طور پر اس وقت جب مجھے یہ کام کسی ڈاکٹر، کسی ہسپتال یا کسی انشورنس کمپنی نے دیا ہو؟

جواب

1-2صورتِ مسئولہ میں میڈکل بلر چوں کہ مریض اور انشورنس کمپنی کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرتا ہے،  یعنی  ڈاکٹر  کی تجاویز (دوا اور ٹیسٹ وغیرہ) انشورنس کمپنی کی طرف منتقل کرتا ہے  اور  انشورنس کمپنی سے رقم وصول کر کے ڈاکٹر یا ہسپتال کو پہنچاتا ہے،تو گویا میڈیکل بلر کا کام انشورنس کے نظام میں سہولت کاری کا ہے۔

اسی طرح میڈیکل کوڈر کا کام ( یعنی ڈاکٹر کی پرچی کو مخصوص کوڈز میں تبدیل کرنا ) بھی انشورنس کی سہولت کاری ہی کی ایک شکل ہے، کیوں کہ میڈیکل کوڈر، میڈیکل بلر کے لیے مخصوص کوڈز تیار کرتا ہے، اور پھر میڈیکل بلر مریض اور انشورنس کمپنی کے درمیان ثالث بن کر انشورنس کے عمل کو ممکن بناتا ہے۔ یوں یہ دونوں (میڈیکل بلر اور میڈیکل کوڈر) انشورنس کے حرام معاملے میں سہولت کار بن جاتے ہیں۔

لہذا میڈیکل بلنگ اور میڈیکل کوڈنگ  کام کرنے والا بھی انشورنس کے حرام معاملے  کا سہولت کار  اور معاون بن جائے گا  اور تنخواہ اس حرام میں معاونت کا عوض ہوگی ، جو کہ سائل کے لیے حلال نہیں ہوگی،سائل کو چاہیے کہ کوئی اور حلال ذریعہ آمدنی تلاش کرے۔

جواہر الفقہ میں ہے :

”کسی معصیت کی اعانت جو از روئے قرآن حرام ہے، وہ ہے جس میں معصیت  کا قصد و نیت حقیقتاً یا حکماً  شامل ہو۔ حقیقتاً یہ کہ دل ہی میں یہ ہو کہ اس کے ذریعہ عمل معصیت کیا جائے، یا یہ کہ صلب عقد میں احد المتعاقدین کی طرف سے اس معصیت کی تصریح آجائے اورحکماً یہ ہے کہ وہ چیز بجز معصیت کے کسی دوسرے کام میں آتی ہی نہ ہو، جیسے آلات معازف طبلہ سارنگی اور مختلف قسم کے آلات موسیقی، ان چیزوں کا بنانا اور بیچنا اگرچہ بقصد معصیت نہ ہو مگر حکماً وہ بھی قصد معصیت میں داخل ہیں“۔

(ناجائز کاموں میں تعاون: ج:2، ص:459، ط:مکتبہ دارالعلوم کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101098

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں