بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

Medical Assistance in Dying (MAID) کا حکم / مریض کا اپنے آپ کو مارنے کی درخواست کرنا کیسا ہے؟


سوال

میرا سوالMedical Assistance in Dying(MAID) کے متعلق ہے۔

MAIDمیںڈاکٹر یا نَرس کسی شدید بیمار مریض کو، اس کی درخواست پر، ایسی دوا فراہم کرتے یا دیتے ہیں جس سے مریض کی زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ اس کا مقصد ایسے مریضوں کو تکلیف سے نجات دینا بتایا جاتا ہےجو لا علاج بیماری میں مبتلا ہوں، یا شدید جسمانی یا ذہنی تکلیف برداشت کر رہے ہوں، اور اپنی مرضی سے یہ مریض زندگی ختم کرنے کی درخواست کریں۔

اب میرا سوال یہ ہے کہ کیاMAIDکا استعمال کرنا جائز ہے؟ کیاMAID کو اختیار کرنے کی شریعت میں کوئی گنجائش ہے؟ جزاکم اللہ خیراً۔

جواب

واضح رہے کہ کسی مریض کا داکٹر یا نَرس سے یہ درخواست کرنا کہ وہ اُسے ایسی دوا دے دے جس سے اس کی زندگی ختم ہو جائے، یہ قتل نفس ہے اور قتل نفس کے متعلق سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ لہٰذا، مریض کے لیے ایسی درخواست کرنا، اور ڈاکٹر اور نَرس کا مریض کی درخواست کو قبول کرنا اور اس کی تعاون کرنا بالکل ناجائز اور حرام ہے۔ اس کی کبھی گنجائش نہیں۔ چنانچہ حدیث شریف میں آتا ہے:

"1364 -...عن الحسن: حدثنا جندب رضي الله عنه في هذا المسجد، فما نسينا، وما نخاف أن يكذب جندب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: كان برجل جراح قتل نفسه، فقال الله: بدرني عبدي بنفسه، حرمت عليه الجنة."

(صحيح البخاري، كتاب الجنائز، 83 - باب ما جاء في قاتل النفس، حدیث: 1364، ج: 1، ص: 732، ط:مكتبة البُشرى في أربعة مجلدات)

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:ایک شخص کو زخم لگا تھا، اس نے (تکلیف سے تنگ آ کر) خودکشی کر لی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے اپنی جان کے معاملے میں مجھ پر سبقت لے لی، لہٰذا میں نے اس پر جنت حرام کر دی۔

اسی طرح حدیث شریف میں آتا ہے:

"5778 -... عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من تردى من جبل فقتل نفسه فهو في نار جهنم يتردى فيه خالدا مخلدا فيها أبدا، ومن تحسى سما فقتل نفسه فسمه في يده يتحساه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا، ومن قتل ‌نفسه ‌بحديدة فحديدته في يده يجأ بها في بطنه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا."

(صحيح البخاري، كتاب الطب، 56 - باب شرب السم والدواء به وبما يخاف منه، حدیث: 1364، ج: 4، ص: 2599-2600، ط: مكتبة البُشرى في أربعة مجلدات)

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص پہاڑ سے گر کر خودکشی کرے گا، وہ جہنم کی آگ میں ہوگا، اسی طرح گرتا رہے گا، اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ اور جو شخص زہر پی کر خودکشی کرے گا، اس کا زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا، وہ اسے جہنم کی آگ میں پیتا رہے گا، اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ اور جو شخص لوہے کے ہتھیار سے خودکشی کرے گا، تو وہ لوہا اس کے ہاتھ میں ہوگا، وہ اس سے اپنا پیٹ چھیدتا رہے گا، جہنم کی آگ میں، اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔

قرآن کریم میں ہے:

(وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِناً مُتَعَمِّداً فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِداً فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَاباً عَظِيماً (93))(سورة النساء 4: 93)

ترجمہ: اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کر ڈالے تو اس کی سزا جہنم ہے کہ ہمیشہ ہمیشہ کو اس میں رہنا اور اس پر اللہ تعالیٰ غضب ناک ہوں گے اور اس کو اپنی رحمت سے دور کر دیں گے اور اس کے لیے بڑی سزا کا سامان کریں گے۔ (از بیان القرآن)

صحيح البخاريمیں ہے:

"1363 -...عن ثابت بن الضحاك رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من حلف بملة غير الإسلام كاذبا متعمدا، فهو كما قال، ومن قتل ‌نفسه ‌بحديدة عذب به في نار جهنم."

(كتاب الجنائز، 83 - باب ما جاء في قاتل النفس، حدیث: 1363، ج: 1، ص: 732، ط:مكتبة البُشرى في أربعة مجلدات)

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص جان بوجھ کر جھوٹ بولتے ہوئے اسلام کے علاوہ کسی اور دین کی قسم کھائے، وہ ویسا ہی ہوگا جیسا اس نے کہا، اور جو شخص لوہے کے ہتھیار سے خودکشی کرے گا، اسے جہنم کی آگ میں اسی کے ذریعے عذاب دیا جائے گا۔

عمدة القاري شرح صحيح البخاري میں ہے:

"باب في بيان شرب السم إلى آخره، وأبهم الحكم اكتفاء بما يفهم من حديث الباب، وهو عدم جوازه لأنه ‌يفضي ‌إلى ‌قتل ‌نفسه"

(76 – كتاب الطب، 56 – باب شرب السم والدواء به وبما يخاف منه ،ج: 21، ص: 431، ط: دار الكتب العلمية)

فتح الباری شرح صحیح البخاری میں ہے:

"قوله: (باب ما جاء في قاتل النفس) قال ابن رشيد: مقصود الترجمة حكم قاتل النفس. والمذكور في الباب حكم قاتل نفسه، فهو أخص من الترجمة، ولكنه أراد أن يلحق بقاتل نفسه قاتل غيره من باب الأولى؛ لأنه إذا كان قاتل نفسه الذي لم يتعد ظلم نفسه ثبت فيه ‌الوعيد ‌الشديد، ‌فأولى من ظلم غيره بإفاتة نفسه."

(23 – كتاب الجنائز، باب 83 – ما جاء في قاتل النفس، ج: 3، ص: 288، ط: دار السلام، الریاض)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144707101209

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں