
میل ورم ایک ایسا کیڑا ہے، جسے مہنگی مچھلیوں اور مہنگے پرندوں کی خوراک کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، چونکہ اس میں تقریباً 80 فیصد پروٹین موجود ہوتا ہے، اس لیے لوگ اسے جانوروں کی فیڈ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
اس کے استعمال کی چند صورتیں ہیں:
1- زندہ کیڑوں کو براہِ راست مچھلیوں اور پرندوں کی خوراک بنا دیا جائے۔
چونکہ پاکستان میں عام طور پر لوگ مہنگے پرندے اور مچھلیاں نہیں رکھتے، اس لیے پاکستان میں اس کی فروخت نہ ہونے کے برابر ہے، لہٰذا لوگ اسے بیرونِ ملک ایکسپورٹ کرتے ہیں۔
چونکہ زندہ حالت میں اسے باہر بھیجنا ممکن نہیں، اس لیے اسے تین طریقوں سے تیار کر کے پیکٹ بنا کر باہر بھیجا جاتا ہے:
1- زندہ کیڑوں کو مٹی میں مکئی کی طرح بھون کر پیکٹ بنا کر بھیجنا۔
2- کیڑوں کو مائیکروویو اوون میں تقریباً 30 سیکنڈ کے لیے رکھا جاتا ہے، جس سے وہ مر جاتے ہیں، پھر ان کے پیکٹ بنا کر بھیجے جاتے ہیں۔
3- کیڑوں کو فریزر میں ایک گھنٹے کے لیے رکھا جاتا ہے، جس سے وہ مر جاتے ہیں، پھر ان کے پیکٹ بنا کر بھیجے جاتے ہیں۔
پوچھنا یہ ہے کہ ان صورتوں میں سے کون سی صورت شرعاً جائز ہے، جس کے ذریعے ان کیڑوں کو بیرونِ ملک ایکسپورٹ کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ شرعی اعتبار سے کسی چیز کے خرید و فروخت کے جائز ہونے کے لیے لوگوں کے ہاں مال ہونا کافی نہیں، بلکہ اس کا شرعاً مالِ متقوَّم ہونا بھی ضروری ہے،، لہٰذا بلا ضرورتِ شرعیہ حشراتُ الارض (کیڑے مکوڑے) کی خرید و فروخت کی اجازت نہیں ہے، البتہ شہد کی مکھی اور ریشمی کیڑے اس سے مستثنیٰ ہیں، کہ ان دونوں کی خرید و فروخت جائز ہے۔
ان دونوں کی خرید و فرخت کی جواز کی بنیاد،فقہاء اکرام نےان کی ذات کو نہیں بنایا، بلکہ ان دونوں سے حاصل ہونےوالی منفعت کو بنایا ہے،یہی وجہ ہے کہ اکثر فقہاء کرام نے تابع بناکر اس کے خرید و فروخت کی اجازت دی ہے، براہ راست ان کے خرید و فروخت کی اجازت نہیں دی۔
مندرجہ بالا تفصیل کی روشنی میں "میل وارم" نامی کیڑے کی خرید و فروخت جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ اس کی خرید و فروخت میں اس کی ذات مقصود ہے، اس سے حاصل ہونے والی منفعت نہیں،نیزمذکورہ میل وارم نامی کیڑے کی خرید و فروخت پرندوں اور مچھلیوں کی خوراک کےلیے ہوتی ہے، براہ راست اسے کوئی انسانی نفع بھی متعلق نہیں، لہٰذاجب" میل وارم" نامی کیڑے کی خریدوفروخت شرعاً جائز نہیں،تو اس کو فروخت کرنے کے لیےمارنا بھی( کسی بھی طریقے سے)جائز نہیں ہے۔
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"وفي شرح مسلم للنووي قالوا: هذا محمول على أن شرع ذلك النبي كان فيه جواز قتل النمل والإحراق بالنار، ولذا لم يعتب عليه في أصل القتل والإحراق، بل في الزيادة على نملة واحدة، وأما في شرعنا فلا يجوز إحراق الحيوان بالنار إلا بالاقتصاص، وسواء في منع الإحراق بالنار القمل وغيره للحديث المشهور: (لا يعذب بالنار إلا الله تعالى) وأما قتل النمل فمذهبنا أنه لا يجوز، فإن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن قتل أربع من الدواب... ويمكن حمل النهي عن قتل النمل على غير المؤذي منها جمعا بين الأحاديث وقياسا على القمل، فإن أذى النمل قد يكون أشد من القمل. ألا ترى أنه لا يجوز قتل الهر ابتداء بخلاف ما إذا حصل منه الأذى، ويمكن أن يكون الإحراق منسوخا، أو محمولا على ما لا يمكن قتله إلا به ضرورة."
(كتاب الصيد والذبائح، باب ما يحل أكله وما يحرم، الفصل الأول، ج:7، ص:2672، ط:دارالفكر)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"قتل النملة تكلموا فيها والمختار أنه إذا ابتدأت بالأذى لا بأس بقتلها وإن لم تبتدئ يكره قتلها واتفقوا على أنه يكره إلقاؤها في الماء وقتل القملة يجوز بكل حال كذا في الخلاصة وإحراق القمل والعقرب بالنار مكروه وطرح القمل حيا مباح لكن يكره من طريق الأدب كذا في الظهيرية.
قتل الزنبور والحشرات هل يباح في الشرع ابتداء من غير إيذاء وهل يثاب على قتلهم؟ قال لا يثاب على ذلك وإن لم يوجد منه الإيذاء فالأولى أن لا يتعرض بقتل شيء منه كذا في جواهر الفتاوى."
(کتاب الکراہیۃ،الباب الحادی و العشرون فیما یسع من جراحات بنی آدم و الحیوانات، ج:5، ص:361، ط:دار الفکر)
فتح القدیر شرح الہدایہ میں ہے:
"ولايجوز بيع هوام الأرض كالخنافس والعقارب والفأرة والنمل والوزغ والقنافذ والضب، ولا هوام البحر كالضفدع والسرطان".
(مسائل منثورة، ج:7، ص:118، ط: دار الفكر)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"قال في الحاوي: ولا يجوز بيع الهوام كالحية والفأر والوزغة والضب والسلحفاة والقنفذ وكل ما لا ينتفع به ولا بجلده."
(کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، مطلب فی بیع دودۃ القز،ج:5، ص:68، ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101156
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن