بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 محرم 1448ھ 09 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

میں اسے طلاق دے دوں گا سے طلاق کا حکم


سوال

میرا اپنی بیوی سے جھگڑا ہوا ۔ میں انے اپنی بیوی کو اس کے والدین کے گھر چھوڑ نے گیا۔ وہاں پر دوبارہ تکرار ہوا تو میں نے اپنی ساس سے بولا کہ "اس (بیوی کی طرف اشارہ ) سے بولو کہ اپنی منحوس شکل مجھ سے دور کرے، میں اسے طلاق دے دوں گا"۔ اس کے بعد ساس نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہا کہ ایسا نہیں بولو۔میں نے دوبارہ کہا کہ "اسے بولو میری نظروں سے دور ہوجائے ورنہ خدا کی قسم      میں اس کو طلاق دے دوں گا"۔ اس کے علاوہ میں نے کوئی طلاق کے الفاظ استعمال نہیں کیے۔ اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ الفاظ سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟

جواب

مذکورہ دونوں جملوں "اس (بیوی کی طرف اشارہ ) سے بولو کہ اپنی منحوس شکل مجھ سے دور کرے، میں اسے طلاق دے دوں گا" اور  "اسے بولو میری نظروں سے دور ہوجائے ورنہ خدا کی قسم      میں اس کو طلاق دے دوں گا" سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے کیونکہ یہ دونوں جملے مستقبل میں طلاق دینے کی دھمکی کے الفاظ ہیں۔سائل اور اس کی بیوی کے درمیان رشتہ بدستور قائم ہیں ، دونوں میاں بیوی ہیں۔

العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ:

"صيغة ‌المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام."

(کتاب الطلاق ج نمبر ۱ ص نمبر ۳۸، دار المعرفۃ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712101126

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں