
میرا اپنی بیوی سے جھگڑا ہوا ۔ میں انے اپنی بیوی کو اس کے والدین کے گھر چھوڑ نے گیا۔ وہاں پر دوبارہ تکرار ہوا تو میں نے اپنی ساس سے بولا کہ "اس (بیوی کی طرف اشارہ ) سے بولو کہ اپنی منحوس شکل مجھ سے دور کرے، میں اسے طلاق دے دوں گا"۔ اس کے بعد ساس نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہا کہ ایسا نہیں بولو۔میں نے دوبارہ کہا کہ "اسے بولو میری نظروں سے دور ہوجائے ورنہ خدا کی قسم میں اس کو طلاق دے دوں گا"۔ اس کے علاوہ میں نے کوئی طلاق کے الفاظ استعمال نہیں کیے۔ اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ الفاظ سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
مذکورہ دونوں جملوں "اس (بیوی کی طرف اشارہ ) سے بولو کہ اپنی منحوس شکل مجھ سے دور کرے، میں اسے طلاق دے دوں گا" اور "اسے بولو میری نظروں سے دور ہوجائے ورنہ خدا کی قسم میں اس کو طلاق دے دوں گا" سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے کیونکہ یہ دونوں جملے مستقبل میں طلاق دینے کی دھمکی کے الفاظ ہیں۔سائل اور اس کی بیوی کے درمیان رشتہ بدستور قائم ہیں ، دونوں میاں بیوی ہیں۔
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ:
"صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام."
(کتاب الطلاق ج نمبر ۱ ص نمبر ۳۸، دار المعرفۃ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712101126
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن