
دو سال قبل میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا ، غصے کی حالت میں شوہر نے بیوی کویہ الفاظ کہے: "میں تمہیں فارغ کرتا ہوں، جاؤ۔" اس وقت بیوی نے ان الفاظ پر غور نہیں کیااور نہ ہی شوہر کی طرف سے بیوی کو گھر جانے کا کہا گیا ، دو دن بعد صلح ہو گئی اور دونوں ساتھ رہنے لگے، مگرشوہر ان الفاظ سے طلاق کی نیت کا انکار کرتا ہے اور درست الفاظ بھی یاد نہیں ۔
مذکورہ پہلے معاملے کے کچھ عرصے بعد پھر جھگڑا ہوا۔ اس دوران شوہر نے یہ الفاظ ادا کیے:"تم میری طرف سے فارغ ہو، بلا لو اپنے بھائیوں کو۔"ان الفاظ کی ادائیگی کے بعد جب بیوی نے کہا: "آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ اکیلے رہ جائیں گے!" ،تو اس پر شوہر نے مذکورہ الفاظ" ہاں، میں تمہارے بغیر خوش رہوں گا ،تم میری طرف سے فارغ ہو، بلا لو اپنے بھائیوں کو" دوبارہ دہرائے۔پھر کمرے میں آ کر کہا: "کتنی دیر میں آئے گا بھائی؟"
اس کے بعد بیوی اپنے بچے لے کر بھائی کے ساتھ گھر چلی گئی۔ بعد میں شوہر نے یہ تاویل پیش کی کہ میرا مطلب تھا" تم گھر کے کاموں سے فارغ ہو "،البتہ بیوی کا یہ کہنا ہے کہ شوہر نے یہ مذکورہ الفاظ طلاق کی نیت سے کہے تھے۔ اور وہ مجھے دھمکایا بھی کرتے تھے کے میں جو کروں گا پھر دیکھنا، یہ دھمکی آمیز جملے تقریبا تین یا چار ماہ میں لڑائی ہوتی تھی تو یہ کہتے تھے۔
اب سوال یہ ہے:
کیا طلاق واقع ہو گئی؟ اگر ہو گئی تو کون سی؟رجعی یا بائن؟
اب رجوع کی کیا صورت ہوگی؟ نیز عدت کے بارے میں بھی بتا دیں
اور دوبچے ہیں: ایک 4 سال کی بیٹی اور ایک 2 سال کا بیٹا۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور پہلے واقعہ میں جب شوہر نے اپنی بیوی کو یہ الفاظ کہے : "میں تمہیں فارغ کرتا ہوں " اس سےاگر واقعۃً طلاق کی نیت نہیں تھی، اور مذاکرۂ طلاق بھی نہیں تھا یعنی طلاق لینے دینے کی بات چیت نہیں چل رہی تھی، تو اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی اور دونوں کا نکاح برقرار رہا ۔
البتہ دوسرے واقعہ میں جب شوہر نے یہ الفاظ کہے:"تم میری طرف سے فارغ ہو، بلا لو اپنے بھائیوں کو۔"ان الفاظ کی ادائیگی کے بعد جب بیوی نے کہا: "آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ اکیلے رہ جائیں گے!" ،تو اس کے جواب میں شوہر کا یہ کہنا "ہاں، میں تمہارے بغیر خوش رہوں گا ،تم میری طرف سے فارغ ہو، بلا لو اپنے بھائیوں کو" ، یہ صورت واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ شوہر کا مقصد بیوی کو جدا کرنا ہے، اس لیے بیوی کے اس کہنے کہ" اکیلے رہ جائیں گے" کے جواب میں شوہر کا کہنا تھا کہ" ہاں میں تمہارے بغیر خوش رہوں گا"۔لہٰذا ان الفاظ سے ایک طلاق بائن واقع ہوگئی، دونوں کا نکاح ختم ہوگیا اور عورت پر عدت لازم ہے، البتہ اگر باہمی رضامندی سے دونوں دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں، تو عدت میں یا عدت کے بعد نئے مہر اور نئے ایجاب و قبول کے ساتھ تجدیدِ نکاح کرکے ساتھ رہنا جائز ہوگا اور آئندہ شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا حق باقی ہوگا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"(الفصل الخامس في الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة... ومایصلح جواباً وشتماً خلیة ،بریة، بتة،بتلة، بائن حرام ... ففی حالة الرضاء لایقع فی الفاظ كلها إلا بالنیة. والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية. وألحق أبو يوسف - رحمه الله تعالى - بخلية وبرية وبتة وبائن وحرام أربعة أخرى ذكرها السرخسي في المبسوط وقاضي خان في الجامع الصغير وآخرون وهي لا سبيل لي عليك لا ملك لي عليك خليت سبيلك فارقتك ولا رواية في خرجت من ملكي قالوا هو بمنزلة خليت سبيلك وفي الينابيع ألحق أبو يوسف - رحمه الله تعالى - بالخمسة ستة أخرى وهي الأربعة المتقدمة وزاد خالعتك والحقي بأهلك هكذا في غاية السروجي."
(كتاب الطلاق، الباب الثاني، الفصل الخامس، ج:1، ص:374، ط: دار الفكر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال)، وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب.
(قوله: وهي حالة مذاكرة الطلاق) أشار به إلى ما في النهر من أن دلالة الحال تعم دلالة المقال قال: وعلى هذا فتفسر المذاكرة بسؤال الطلاق أو تقديم الإيقاع، كما في اعتدي ثلاثاً وقال قبله المذاكرة أن تسأله هي أو أجنبي الطلاق".
(كتاب الطلاق، باب الكنايات، ج:3، ص:296،297، ط: سعيد)
المبسوط للسرخسی میں ہے:
"(قال): ولو قال: أنت مني بائن أو بتة أو خلية أو برية، فإن لم ينو الطلاق لايقع الطلاق؛ لأنه تكلم بكلام محتمل."
( باب ما تقع به الفرقة مما يشبه الطلاق، ج: 6، ص: 72، ط: دار المعرفة )
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144710101156
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن