
مسئلہ یہ ہے کہ میں نے تقریبا ایک سال پہلے اپنی بیوی کو جھگڑے کے دوران ایک بار کہا تھا کہ "میں نے تجھے آزاد کیا"۔ اس وقت میری بیوی ماہ واری کی حالت میں تھی۔
اور اب تقریبا سال بھر دوبار جھگڑا اتنا بڑھ گیا ہم دونوں کا 28 اور 29 کی درمیانی شب میں کہ میرے منہ سے دو بار یہ الفاظ نکلے کہ "جا میں نے تجھے چھوڑ دیا " لیکن دونوں بار میرا ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا یعنی ایسی کوئی نیت نہیں تھی ، اچانک ہی یہ الفاظ منہ سے نکل گئے تھے اور اب بھی یہ لڑکی 5 ماہ کی حاملہ ہے۔
وضاحت: "میں نے تجھے آزاد کیا" سے میرا طلاق کی نیت نہیں تھی۔ "جا میں نے تجھے چھوڑ دیا " سے بھی میری طلاق کی نیت نہیں تھی۔
"میں نے تجھے آزاد کیا "کہنے کے بعد 28،29 تاریخ تک میری بیوی کی تین مکمل ماہ واریاں گزر گئیں ہیں اور میں نے رجوع یا تجدید نکاح نہیں کیا ہے۔
واضح رہے کہ لفظِ "آزاد " صریح بائن طلاق ہے، یعنی لفظ آزاد سے دی گئی طلاق نیت کے بغیر ہی واقع ہو جاتی ہے،جس سے نکاح اسی وقت ٹوٹ جاتا ہے، پھر دوبارہ ساتھ رہنا شرعاً جائز نہیں ہوتا، دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے نئے مہر کے ساتھ تجدیدِ نکاح کرنا ضروری ہوتا ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں سائل کے ایک سال پہلے مذکورہ جملہ "میں نے تجھے آزاد کیا" کہنے سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوگئی تھی۔پھر مکمل تین ماہ واریاں گزرنے کے بعد جب سائل نے 28 اور 29 تاریخ کی شب میں یہ الفاظ کہے "جا میں نے تجھے چھوڑ دیا" تواس سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔ نیز پہلی طلاق کے بعد جو پورا سال سائل اور اس کی بیوی ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح رہے ہیں ، یہ ناجائز ہوا ہے، اس پر توبہ و استغفار کریں۔ تاہم اگر سائل اور اس کی بیوی اب ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو دوبارہ نئے مہر کے ساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرکے رہ سکتے ہیں۔ودبارہ نکاح کرنے کی صورت میں سائل کو دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"ونحو اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري أمرك بيدك سرحتك، فارقتك لا يحتمل السب والرد........ (وتقع رجعية بقوله اعتدي واستبرئي رحمك وأنت واحدة) وإن نوى أكثر، ولا عبرة بإعراب واحدة في الأصح (و) يقع (بباقيها) أي باقي ألفاظ الكنايات المذكورة."
(کتاب الطلاق باب الکنایات ج نمبر ۳ ص نمبر ۳۰۰ ایچ ایم سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
"ومن الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام فيقع بلا نية للعرف»
(قوله فيقع بلا نية للعرف) أي فيكون صريحا لا كناية، بدليل عدم اشتراط النية وإن كان الواقع في لفظ الحرام البائن لأن الصريح قد يقع به البائن كما مر، لكن في وقوع البائن به بحث سنذكره في باب الكنايات، وإنما كان ما ذكره صريحا لأنه صار فاشيا في العرف في استعماله في الطلاق لا يعرفون من صيغ الطلاق غيره ولا يحلف به إلا الرجال."
(کتاب الطلا ق باب صریح الطلاق ج نمبر ۳ ص نمبر ۲۵۲،ایچ ایم سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100542
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن