بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 صفر 1448ھ 12 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

میں ختم کرنا چاہتاہوں، میں فارغ کرنا چاہتا ہوں کے الفاظ سے طلاق کا حکم


سوال

میری اور میری بیوی کی بحث چل رہی تھی، اس دوران وہ ناراض  ہوکر اپنی ماں کے گھر چلی گئی تو میں نے یہ الفاظ کہے:”میں نہیں رکھنا چاہتا، میں ختم کرنا چاہتاہوں،میں فارغ کرنا چاہتاہوں“،۔

 اب سوال یہ ہے کہ طلاق ہوئی یا نہیں؟ کتنی ہوئیں؟واپسی کی کیا صورت ہے؟

وضاحت:مذکورہ الفاظ  میں  میری نیت اسی وقت  طلاق دینے کی تھی۔

جواب

صورت مسئولہ میں جب سائل نے اپنی بیوی کو  طلاق دینے کی نیت سے یہ الفاظ کہے  کہ ’’میں نہیں رکھنا چاہتا،میں ختم کرنا چاہتاہوں،میں فارغ کرنا چاہتاہوں‘‘، تو سائل کی بیوی پر  ایک طلاق بائن واقع ہوگئی ہے،مطلقہ بیوی پر عدت(پوری تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو ،حمل ہو تو بچہ کی پیدائش تک) لازم ہے، اس دوران سائل کے لئے رجوع کرنا جائز نہیں ہے،البتہ اگر دودنوں دوبارہ ساتھ رہنے پر راضی ہوں تو نئے سرے نکاح ( نئے مہر اور گواہوں کی موجوگی میں ایجاب وقبول کے ساتھ)کرکے ساتھ رہ سکتے ہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ويستفاد منه أنه لو قال شئت طلاقك وقع بالنية لأن المشيئة تنبئ عن الوجود لأنها من الشيء وهو الموجود بخلاف ‌أردت ‌طلاقك لأنه لا ينبئ عن الوجود، فقد فرق الفقهاء بين المشيئة والإرادة في صفات العبد وإن كانا مترادفين في صفاته تعالى كما هو اللغة فيهما، وأحببت ورضيت مثل أردت. اهـــ"

(کتاب الطلاق،باب الکنایات،3/ 335،ط:سعید)

فتاوٰی عالمگیری میں ہے:

"وفي المنتقى لو قال لامرأته قد شاء الله تعالى طلاقك أو قضى الله تعالى طلاقك أو قد شئت طلاقك لم يكن طلاقا إلا أن ينوي ولو قال هويت طلاقك أو أحببت طلاقك أو رضيت طلاقك أو ‌أردت ‌طلاقك لا تطلق وإن نوى هكذا في الخلاصة."

(کتاب الطلاق،الباب الثاني في إيقاع الطلاق،الفصل الأول في الطلاق الصريح، 1 /359، ط: دارالفکر)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وفي الفتاوى لم يبق بيني وبينك عمل ونوى يقع كذا في العتابية."

 (1 / 376، کتاب الطلاق، الفصل الخامس في الكنايات في الطلاق، ط: رشیدیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"(لا) يلحق البائن (البائن) إذا أمكن جعله إخباراً عن الأول كأنت بائن بائن، أو أبنتك بتطليقة فلا يقع؛ لأنه إخبار، فلا ضرورة في جعله إنشاء.

و في الرد : (قوله: لا يلحق البائن البائن) المراد بالبائن الذي لا يلحق هو ما كان بلفظ الكناية؛ لأنه هو الذي ليس ظاهراً في إنشاء الطلاق، كذا في الفتح."

 (3/ 308، کتاب الطلاق،باب الکنایات، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802100152

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں