بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

(1)اگر آج کے بعد میں نے فلاں کام کیا تو میں جب جب نکاح کروں میری بیوی کو تین طلاق (2)اگر میں نے دوبارہ یہ کام کیا تو اگر میرے وکیل نے نکاح کیا تب بھی تین طلاق، کہنے کے بعد نکاح کی کوئی صورت ہے؟


سوال

عبد الله ( فرضی نام) نے قسم کھائی کہ ”اگر آج کے بعد میں نے فلاں کام کیا تو میں جب جب نکاح کروں میری بیوی کو تین طلاق“، اور پھر وہ اسی قسم میں حانث ہو گئے۔

پھر انہوں نے قسم کھائی کہ ”اگر میں نے دوبارہ یہ کام کیا تو اگر میرے وکیل نے نکاح کیا تب بھی تین طلاق“، اس قسم میں بھی وہ حانث ہو گئے  اور یہ  معاملہ کئی بار وقوع پذیر ہوچکا  ، اب ان کے نکاح کی کیا صورت ہے ؟ 

اس کے ساتھ ساتھ نکاح فارم پر دستخط ، بعد میں نادرا اور شناختی کارڈ بنواتے وقت دستخط کرنے کی ترتیب کے حوالے سے آگاہ کیجیے گا، نیز یہ بھی بالتفصیل ذکر کر دیجیے گا کہ نکاح کے بعدکن کن امور میں خیال رکھنا ضروری ہے؟ مثلاً اس بابت ایک صاحب یہ ذکر کرتے ہوئے فرمائے گئے کہ کل کو اگر پولیس والا یا کوئی بھی شخص ہسپتال وغیرہ میں ان سے یہ کہہ دیتا ہے کہ یہ محترمہ آپ کی کیا لگتی ہیں؟ اور انہوں نے اگر کہہ دیا میری بیوی تب بھی یہ معاملہ خراب ہوجائے گا،کوئی بھی سفر مثلا حج وعمرہ میں ان کو ساتھ نہیں لے جاسکیں گے، وغیرہ وغیرہ۔

جواب

صورت مسئولہ میں عبداللہ نے نکاح کرنے کی اضافت چونکہ اپنی طرف اور اپنے وکیل کی طرف کی ہے،لہذا عبداللہ از خود نکاح کرے، یا اس کا وکیل کرائے تو ایسی صورت میں عبداللہ حانث ہوجائے گا، اور اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی، البتہ اس سے بچنے کا ایک  حیلہ فقہاء نے یہ بتلایا ہے   کہ کوئی تیسرا شخص فضولی بن کر اپنی طرف سے عبداللہ کا نکاح کرادے، اور عبداللہ اس کو زبان سے قبول کرنے کے بجائے بالفعل قبول کرلے، مثلاً اسے مہر دے دے یا اس سے صحبت کرلے تو اس سے نکاح بھی ہوجائے گا اور عبداللہ اپنی قسم میں حانث بھی نہیں ہوگا۔

نیز فضولی کے نکاح کرانے کی صورت میں منکوحہ عبداللہ کی بیوی بن جائے گی، لہذا نادرا میں نکاح فارم اور شناختی کارڈ میں اس کا اندراج بیوی ہونے کی حیثیت سے کرانا بھی شرعا درست ہوگااور کسی کو یہ بتانا بھی درست ہوگا کہ یہ میری بیوی ہے اور اس کو سفر پر لے جانے کی بھی کوئی ممانعت نہیں ہوگی۔

فتاویٰ شامی میں ہے :

"وفي الدر: لا يدخل نكاح الفضولي ما لم يقل إن دخلت امرأة في نكاحي.

(قوله لا يدخل نكاح الفضولي إلخ) في البحر عن القنية: إن تزوجت عليك امرأة فأمرها بيدك فدخلت امرأة في نكاحه بنكاح الفضولي وأجاز بالفعل ليس لها أن تطلقها، ولو قال إن دخلت امرأة في نكاحي فلها ذلك؛ وكذا في التوكيل بذلك اهـ أي لأنه بعقد الفضولي مع عدم الإجازة بالقول لم يصدق أنه تزوجها بل صدق أنها دخلت في نكاحه، ومثل دخلت قوله تحل لي لكن سيذكر في آخر كتاب الأيمان عدم الحنث مطلقا، حيث قال: كل امرأة تدخل في نكاحي أو تصير حلالا لي فكذا فأجاز نكاح فضولي بالفعل لا يحنث، ومثله إن تزوجت امرأة بنفسي أو بوكيلي أو بفضولي أو دخلت في نكاحي بوجه ما تكن زوجته طالقا لأن قوله أو بفضولي عطف على قوله بنفسي وعامله تزوجت وهو خاص بالقول، وإنما ينسد باب الفضولي لو زاد أو أجزت نكاح فضولي ولو بالفعل، ولا مخلص له إلا إذا كان المعلق طلاق المتزوجة فيرفع الأمر إلى شافعي ليفسخ اليمين المضافة اهـ

وحاصله أنه إما أن يعلق طلاق زوجته أو طلاق التي يتزوجها، ففي الثانية يرفع الأمر إلى شافعي، وعلم أن في المسألة قولين، ووجه عدم الحنث في: أو دخلت امرأة في نكاحي أن دخولها لا يكون إلا بالتزويج فكأنه قال إن تزوجتها، وبتزويج الفضولي لا يصير متزوجا، بخلاف: كل عبد دخل في ملكي فإنه يحنث بعقد الفضولي، فإن ملك اليمين لا يختص بالشراء بل له أسباب سواه، وقد ذكر المصنف القولين في فتاواه ورجح القول بعدم الحنث وسيأتي إن شاء الله تعالى تمام الكلام على ذلك في الأيمان (قوله لم يقع) لأنه تمليك منهما وهو في معنى التعليق على فعلهما فلم يوجد المعلق عليه بفعل أحدهما."

(کتاب الطلاق، باب تفویض الطلاق، ج:3، ص:330، ط:سعید)

وفیه أیضا:

"(قوله: و كذا كل امرأة) أي إذا قال: كل امرأة أتزوجها طالق، والحيلة فيه ما في البحر من أنه يزوجه فضولي ويجيز بالفعل كسوق الواجب إليها."

(کتاب الطلاق، باب التعلیق،  ج: 3، ص: 345، ط: دارالفکر) 

وفیه أیضا:

"(وفيها) كلها (تنحل) أي تبطل (اليمين) ببطلان التعليق (‌إذا ‌وجد ‌الشرط ‌مرة، ‌إلا ‌في ‌كلما ‌فإنه ‌ينحل ‌بعد ‌الثلاث) لاقتضائها عموم الأفعال."

(کتاب الطلاق، باب التعلیق،  ج: 3، ص: 352، ط: دارالفکر) 

فتاوی محمودیہ میں ہے:

”اگر میں اس سے نکاح کروں  یا میرا اس سے نکاح ہو جائے تو اس کو طلاق ِ مغلظہ  ہے“ کا حکم

سوال:مضطر اجنبی نے مسمی غزالہ غیر منکوحہ اجنبیہ کے متعلق کہا کہ  ”اگر میں اس سے نکاح کروں یا میرا اس سے نکاح ہو جائے تو اس کو طلاق ِ مغلظہ ہے“،مضطر کو یاد نہیں کہ اس نے ان دونوں جملوں میں سے کون سا جملہ کہا ہے ،دریافت طلب امر یہ ہے کہ کون سے قول کو ترجیح دی جائے گی اور کوئی شکل غزالہ سے نکاح کی ہو سکتی ہے یا نہیں ؟شرط یہ ہے کہ غزالہ کی شادی کسی غیر سے نہ ہو ۔

الجوب حامداً و مصلیا ً:جب آدمی ایسی قسم کھاتا ہے تو اس کا مقصد اس عورت سے انتہائی بعد اختیار کرنا ہوتا ہے ،جس کا تقاضا یہ ہے کہ کسی طرح بھی وہ عورت اس کے نکاح میں نہ آسکے اور اس سے پوری دوری رہے ،مگر جملہ نمبر :ایک بولنے کی صورت میں نکاح کرنے کی نسبت اپنی طرف کی گئی ہو تو فقہاء نکاح فضولی کی شکل میں وقوع طلاق کا حکم نہیں دیتے جب کہ حالف نے اجازت بالفعل دی ہو ،اور یہ در حقیقت ایک مخرج اور حیلہ ہے ،لیکن جب وہ بالفعل نکاح  کی اضافت اپنی طرف نہ کرے بلکہ یہ کہہ دے کہ ”میرا اس سے نکاح ہو“ تو اس صورت میں باب الحیلہ بھی مسدود ہو جاتا ہے ۔

چوں کہ حالف کو شک و تردد ہے کہ کون سا جملہ کہا ہے ،اب اگر اس عورت سے اس کا نکاح ہو، خواہ فضولی ہی کی شکل میں ہو، اور فرض کیجئے کہ اس نے جملہ نمبردو بولا ہو تو حلال ہونے کی کوئی صورت نہیں، ہمیشہ حرام میں مبتلا رہے گا، اگر اس سے نکاح نہ ہو تو ابتلاء معصیت سے حتماً محفوظ رہے گا، اندریں حالات وہ خود ہی کوئی ایسا راستہ اختیار نہ کرے، اس کو چاہیے کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کی نقل فرمودہ حدیث"دع ما يريبك الي ما لا يريبك "الحديث کے تحت تنزہ کی راہ پر چلے ،یہ سخت نادانی ہے کہ ایجاب و قبول سے جو حلال ہو جانے والی تھی اس کو پیشگی ہی ناقدری کر کے آئندہ کے لیے اپنے اوپر حرام کر لیا جائے ۔“

(کتاب الطلاق ،باب تعلیق الطلاق ،ج:13،ص:83،ط:فاروقیہ)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144709102016

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں