
سوال یہ ہے کہ میں گھٹنوں میں درد کی وجہ سے نماز کرسی پر پڑھتی ہوں، نماز میں صرف سجدہ نہیں کر سکتی، باقی نماز جیسے پڑھی جاتی ہے ویسے ہی پڑھتی ہوں، قیام بھی کھڑے ہو کر کرتی ہوں، اگر زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کی کوشش کرتی ہوں تو سجدہ کرنے کی وجہ سے گھٹنے میں درد، اور اس کے ساتھ پیچھے کمرمیں نیچے کی جانب سے درد شروع ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جب میں زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھتی ہوں تو کافی ٹائم تک درد رہتا ہے، پھر ڈاکٹر کے پاس علاج کے لیے جانا پڑتا ہے، مہربانی کر کے میرے اس مسئلے کا مجھے حل بتا دیں، میں یہ چاہتی ہوں کہ صحیح سنت کے مطابق نماز ادا کروں، ڈاکٹر نے مجھے زمین پر بیٹھنے سے منع کیا ہے، انہوں نے کمبوٹ استعمال کرنے کو کہا ہے، اور نماز کرسی پر پڑھنے کو کہا ہے۔
نماز تخفیف کے ساتھ پڑھنے کا طریقہ کار بتا دیں۔
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً سائلہ کو سجدہ کرنے میں اور زمین پر بیٹھ کرنماز پڑھنے میں شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑتاہے، تو اس صورت میں سائلہ کےلیے کرسی پربیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہوگا،اور سائلہ کی نماز اشاروں والی ہوگی ، اور اس کے لیے بیٹھنے کی کوئی خاص ہیئت متعین نہیں ہے، وہ جس طرح سہولت ہو بیٹھ کر اشارہ سے نماز پڑھ سکتی ہے۔
کرسی پربیٹھ کراشارے کےساتھ نماز پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ سائلہ معمول کے مطابق ہاتھ باندھیں، مکمل نماز بیٹھ کر بغیر قیام کے ادا کرے، اور سجدہ میں رکوع کی بنسبت ذرا زیادہ جھکیں، تشہد بھی معمول کے مطابق کریں۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(بركوع وسجود وإن قدر على بعض القيام) ولو متكئا على عصا أو حائط (قام) لزوما بقدر ما يقدر ولو قدر آية أو تكبيرة على المذهب لأن البعض معتبر بالكل (وإن تعذرا) ليس تعذرهما شرطا بل تعذر السجود كاف (لا القيام أومأ) بالهمز (قاعدا) وهو أفضل من الإيماء قائما لقربه من الأرض (ويجعل سجوده أخفض من ركوعه) لزوما (ولا يرفع إلى وجهه شيئا يسجد عليه) فإنه يكره تحريما (فإن فعل) بالبناء للمجهول ذكره العيني (وهو يخفض برأسه لسجوده أكثر من ركوعه صح).
(قوله بل تعذر السجود كاف) نقله في البحر عن البدائع وغيرها. وفي الذخيرة: رجل بحلقه خراج إن سجد سال وهو قادر على الركوع والقيام والقراءة يصلي قاعدا يومئ؛ ولو صلى قائما بركوع وقعد وأومأ بالسجود أجزأه، والأول أفضل لأن القيام والركوع لم يشرعا قربة بنفسهما، بل ليكونا وسيلتين إلى السجود. اهـ. ."
(كتاب الصلاة،باب صلاة المريض، ص:2، ص:97-98، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701101966
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن