بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 محرم 1448ھ 18 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیامعذور نمازی کو صف کےکنارے میں جگہ دی جائے گی ؟


سوال

ایک شخص مجبوری کی وجہ سے نماز کے قعدے میں نہیں بیٹھ سکتا، اسی لیے وہ کرسی یا زمین پر بیٹھ کر نماز ادا کرتا ہے، اب جو لوگ مسجد میں فرض نماز پڑھتے ہیں، وہ نماز سے قبل اس شخص کو کنارے پر کر دیتے ہیں۔

معلوم یہ کرنا ہے کہ:

1۔ کیا مذکورہ شخص جماعت کی نماز میں پہلے سے آ کر پہلی صف کے درمیان میں بیٹھ کر نماز ادا کر سکتا ہے یا نہیں؟
کیا لوگوں کو اس شخص کو صف کے کنارے پر کھڑا کرنا چاہیے یا نہیں؟

جواب

۱۔ مذکورہ معذور شخص جماعت میں پہلے آ کر پہلی صف کے درمیان (جہاں صف مکمل ہو) بیٹھ کر نماز ادا کر سکتا ہے۔ لوگوں کو اسے کنارے پر دھکیلنا یا الگ کرنا مناسب نہیں، بلکہ صف میں مل کر نماز پڑھنا بہتر اور درست ہے ۔

سنن ترمذی میں ہے:

"وقال النبي صلى الله عليه وسلم: «لو أن الناس يعلمون ما في النداء والصف الأول ثم لم يجدوا إلا أن يستهموا عليه لاستهموا عليه."

(301/1، أبواب الصلاة،باب ما جاء في فضل الصف الأول،ط:دار الغرب الاسلامي)

درر الحکام میں ہے :

"لأن الثابت بالضرورة ‌يتقدر ‌بقدرها".

(باب الاعتکاف،ج:1،ص:213،داراحیاء الکتب العربیۃ)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وإن تعذرا) ليس تعذرهما شرطا بل تعذر السجود كاف (لا القيام أومأ)بالهمز (قاعدا) وهو أفضل من الإيماء قائما لقربه من الأرض (ويجعل سجوده أخفض من ركوعه) لزوما."

(98/2، کتاب الصلوٰۃ،باب صلوۃ المریض،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101876

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں