
اگر کوئی آدمی طلاق صریح کے الفاط تین بار ایک جگہ کہے اور قسم کھا کر کہے کہ "یہ کام اگر میں نے کیا ہو تو میری بیوی مجھ پرتین طلاق، بعد میں انکار کرے کہ میری نیت طلاق کی نہیں تھی اور مجھے مجبور کیا گیا تھا اور بعد میں پتہ لگ جائے کہ وہ کام اس آدمی نے کیا تھا، جس پر قسم کھائی تھی، اس واقعہ کے تین گواہ موجود ہیں اور اس وقت وہ آدمی با اختیار اور ہوش و حواس میں تھا اور اس پر کوئی دباو نہیں تھا، سوائے اس کےکہ وہ سچ بول دے اور بعد میں اپنی طلاق یافتہ بیوی سے تعلقات قائم رکھے۔
واضح رہے کہ طلاق اگر ماضی کے کسی ایسےکام کے ساتھ معلق کیا جائے جو ماضی میں ہوچکا ہو تو اسی وقت طلاق واقع ہو جائے گی کیونکہ ماضی كے كسی كام پر تعلیق تنجیز کے حکم میں ہوتی ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص جس نے اپنی بیوی کی طلاق کو اس طرح معلق کیا ہےکہ" یہ کام اگرمیں نے کیا ہو تومیری بیوی مجھ پر تین طلاق"، اور جس کام پر طلاق کو معلق کیا تھا وہ کام پہلے ہی کر چکا ہو تو یہ الفاظ ادا کرتے ہی اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر اس کی بیوی ہمیشہ کے لیے اس پر حرام ہوچکی ہے ،اس کے بعد دونوں کا میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنا جائز نہیں ،بیوی عدت ( تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو ورنہ بچے کی پیدائش ) گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے ۔
چوں کہ مذکورہ الفاظ طلاق کے صریح الفاظ ہیں ، اسلیے اس سے اگرچہ طلاق کی نیت نہ ہو پھر بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے ،نیز مذکورہ جملہ کہنے کے بعد گواہوں کی موجودگی میں شوہر کا انکار بھی معتبر نہیں ۔
فتح القدیر میں ہے :
"(قوله وإن قالت: قد شئت إن كان كذا لأمر قد مضى) كشئت إن كان فلان قد جاء وقد جاء، أو لأمر كائن كشئت إن كان أبي في الدار وهو فيها طلقت لأن التعليق بأمر كائن تنجيز."
(كتاب الطلاق، باب تفويض الطلاق، فصل في المشيئة، ج:4، ص:105، مصطفي بابي الحلبي)
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"ومنها الشهادة بغير الحدود والقصاص وما يطلع عليه الرجال وشرط فيها شهادة رجلين، أو رجل وامرأتين سواء كان الحق مالا، أو غير مال كالنكاح والطلاق والعتاق والوكالة والوصاية ونحو ذلك مما ليس بمال كذا في التبيين."
(کتاب الشهادات،الباب الثانی فی بیان تحمل الشهادۃ، ج:3، ص:451، دارالفکر)
وفيها أيضا:
"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز."
(کتاب الطلاق، الباب السادس، فصل فیما تحل به المطلقة، ج:1، ص:473، ط: رشیدیة)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144704102030
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن