بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 صفر 1448ھ 22 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

مزدوری کی رقم بھول جانے کی صورت میں بیس سال بعد ورثاء کو ادائیگی کا طریقہ


سوال

​آج سے 20 سال پہلے میں نے ایک کارپینٹر سے کام کروایا تھا، لیکن اب یہ یاد نہیں کہ آیا میں نے اس کو کام کے پیسے دیے تھے یا نہیں، اور غالب گمان یہ ہے کہ میں نے نہیں دیے تھے۔ اور اب میں وہ رقم ادا کرنا چاہتا ہوں، لیکن مجھے وہ رقم یاد نہیں ہے کہ وہ کتنی تھی؟

​اور دوسری بات یہ ہے کہ وہ شخص بھی انتقال کر چکا ہے اور اس کی اہلیہ کا بھی انتقال ہو چکا ہے، البتہ اس کی اولاد موجود ہے۔

​(1)اب سوال یہ ہے کہ مجھے کس حساب سے وہ رقم ادا کرنی چاہیے؟

آج کے دور کے مطابق جو رقم بنتی ہے وہ دینا لازم ہے، یا اس وقت کے اعتبار سے جو قیمت بنتی تھی وہ دینا لازم ہوگا؟

اور جو چیز بنائی تھی  وہ چیز بھی اب نہیں رہی۔

​(2)اور  وہ رقم اب اس شخص کے کسی ایک وارث کو دینا ہوگا یا ہر ایک وارث کو اس سے اس کے حصہ کے مطابق دینا ہوگا؟ اور پھر اس کو وکیل بنایا جائے کہ وہ تمام ورثاء میں اس رقم کو تقسیم کر دے۔

جواب

صورت مسئولہ میں جب سائل کا غالب گمان یہی ہے کہ اس نے مزدوری ادا نہیں کی تھی، تو سائل کے ذمے اس کی ادائیگی لازم ہے۔ رقم یاد نہ ہونے کی صورت میں سائل خوب غور و فکر کرے اور جس رقم پر دل مطمئن ہو جائے کہ اس سے ذمہ فارغ ہو جائے گا، اتنی رقم ادا کر دے۔ یہ ادائیگی اسی وقت یعنی بیس سال قبل کی طے شدہ مزدوری کے حساب سے ہوگی، آج کے دور کی اجرت کے اعتبار سے نہیں۔ چونکہ کارپینٹر اور اس کی اہلیہ کا انتقال ہو چکا ہے، اس لیے یہ رقم ان کے ترکہ میں شمار ہوگی اور ان کے تمام زندہ ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کرنا لازم ہوگا۔ سائل کے لیے کسی ایک وارث کو ساری رقم دے دینا کافی نہیں ہوگا،  البتہ اگر سائل کسی ایک وارث کو اپنا وکیل بنا کر پوری رقم اس کے حوالے کر دے تاکہ وہ باقی ورثاء میں تقسیم کر دے تو ایسا کرنا جائز ہے۔

 الاشباہ و النظائر میں ہے:

"الأول لو كان عليه دين وشك في قدره ينبغي لزوم إخراج القدر المتيقن۔"

(قاعدة من شك هل فعل شيئا أم لا؟ فالأصل أنه لم يفعل، ص:50، ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"ويجوز التوكيل بالبياعات والأشربة والإجارات والنكاح والطلاق والعتاق والخلع والصلح والإعارة والاستعارة والهبة والصدقة والإيداع وقبض الحقوق والخصومات وتقاضي الديون والرهن والارتهان كذا في الذخيرة."

(کتاب الوكالة،الباب الأول في معنى الوكالة وركنها وشرطها وألفاظها وحكمها وصفتها، ج:3، ص:564، ط:دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144712101486

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں