
ایک شخص کی زمین پر کسان بطور مزدور کام کرتا ہے،بیج پانی وغیرہ سب مالک کا ہے، اب فصل تیار ہونے کے بعد کسان مالک کی اجازت کے بغیر اس کو آگے بیچ سکتا ہے جبکہ معاہدے میں ایسی کوئی چیز شامل نہیں کی جاتی؟
مذکورہ کسان جب زمین کے مالک کا تنخواہ دار ملاز م ہے، تو اس کا حق اجرت میں ہے ،کھیتی میں نہیں ہے ،مالک کی اجازت کے بغیر اس کا کھیتی کسی کو فروخت کرنا شرعا جائز نہیں ہے۔
مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:
"(المادة 96) : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه."
(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية،ص27،ط؛دار الجیل)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100132
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن