بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مزار کے متولی کا نذر کا بکرا فروخت کرنا اور خریدنا والے کا اس کی قربانی کرنا/ غیر اللہ کے لیے نذر ماننا


سوال

اگر کوئی شخص کسی زیارت/ درگاہ پر ایک زندہ بکرا نذر یا منت کے طور پر لے جائے، پھر اسے وہاں کے ذمہ دار یا متولی کے حوالے کر دے، اس کے بعد متولی اس بکرے کو فروخت کر دے، اور کوئی دوسرا شخص اسے خرید کر عید الاضحیٰ کی قربانی کے لیے رکھ لے، تو ایسی صورت میں اس بکرے کا شرعی حکم کیا ہوگا؟ کیا اس بکرے کی خرید و فروخت درست ہے؟ اور خریدار کے لیے اس جانور کی قربانی جائز اور صحیح ہوگی یا نہیں؟ نیز اگر اصل نذر یا منت غیر اللہ کے نام پر مانی گئی ہو، تو اس کا اس معاملے پر کیا اثر پڑے گا؟

جواب

نذر ایک عبادت ہے اور عبادت اللہ کے سوا کسی کے لیے جائز نہیں ہے، لہٰذا غیر اللہ کے لیے نذر یا منت ماننا بھی ناجائز اور حرام ہے اور ایسی نذر منعقد نہیں ہوتی اور اگر غیر اللہ کی نذر اس اعتقاد کے ساتھ مانی جائے کہ وہ معاملات میں تصرف کرنے کا اختیار رکھتا ہے، تو یہ اعتقاد رکھنا کفر اور شرک ہے۔

نذر صاحبِ مزار کے تقرب کے لیے مانی ہو یا مزار پر موجود فقراء کے لیے مانی ہو،یعنی نذر ناجائز ہو یا جائز  بہر صورت مزار یا درگاہ کا متولی اس بکرے کا مالک نہیں بنے گا اور نہ ہی اس کے لیے اس کو فروخت کرنا جائز  ہے، لہٰذا جس شخص کو یہ معلوم ہو کہ یہ بکرا اس کی ملکیت میں نہیں ہے، اس کے لیے اس سے وہ بکرا خریدنا بھی جائز نہیں ہے اور  اس کی قربانی کرنا بھی جائز نہیں ہے اور نہ ہی اس کی قربانی کرنے سے قربانی اس کے ذمہ سے ساقط ہوگی۔

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

"حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع، قال: حدثنا سفيان، عن مصعب بن محمد، عن رجل، من أهل المدينة قال: قال النبي عليه السلام: «‌من ‌اشترى ‌سرقة ‌وهو ‌يعلم ‌أنها ‌سرقة ‌فقد ‌شرك ‌في ‌عارها ‌وإثمها."

(كتاب البيوع والاقضية، ج:4، ص:453، ط:دار التاج) 

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

"‌واعلم ‌أن ‌النذر ‌الذي ‌يقع ‌للأموات ‌من ‌أكثر ‌العوام ‌وما ‌يؤخذ ‌من ‌الدراهم والشمع والزيت ونحوها إلى ضرائح الأولياء الكرام تقربا إليهم فهو بالإجماع باطل وحرام ما لم يقصدوا صرفها لفقراء الأنام وقد ابتلي الناس بذلك.

مطلب في النذر الذي يقع للأموات من أكثر العوام من شمع أو زيت أو نحوه (قوله تقربا إليهم) كأن يقول يا سيدي فلان إن رد غائبي أو عوفي مريضي أو قضيت حاجتي فلك من الذهب أو الفضة أو من الطعام أو الشمع أو الزيت كذا بحر (قوله باطل وحرام) لوجوه: منها أنه نذر لمخلوق والنذر للمخلوق لا يجوز لأنه عبادة والعبادة لا تكون لمخلوق. ومنها أن المنذور له ميت والميت لا يملك. ومنه أنه إن ظن أن الميت يتصرف في الأمور دون الله تعالى واعتقاده ذلك كفر."

(كتاب الصوم، ج:2، ص:439، ط:سعيد)

وفيه أيضا:

"وفي حظر الأشباه: الحرمة تتعدد.

مطلب الحرمة تتعدد (قوله الحرمة تتعدد إلخ) نقل الحموي عن سيدي عبد الوهاب الشعراني أنه قال في كتابه المنن: وما نقل عن بعض الحنيفة من أن الحرام لا يتعدى ذمتين، سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال: هو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك، أما لو رأى المكاس مثلا يأخذ من أحد شيئا من المكس ثم يعطيه آخر ثم يأخذ من ذلك الآخر آخر فهو حرام اهـ."

(كتاب البيوع، ج:5، ص:98، ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144711102368

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں